Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

    Error writing file '/tmp/MY6yRCVD' (Errcode: 28 "No space left on device")
  • No News

پنجاب میں 5اگست تک جبری لاک ڈاؤن کو ختم،مارکیٹوں کو فوری کھولا جائے اور گرفتار تاجررہا کئے جائیں ۔جاوید قصوری


لاہور31جولائی 2020ء:حکومت پنجاب کی جانب سے5اگست تک جبری لاک ڈاؤن کے ذریعے کاروبار بند کر کے معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے پنجاب میں 5اگست تک حکومتی جبری لاک ڈاؤن کو ختم کرکے مارکیٹوں کو فوری کھولا جائے اور گرفتار تاجررہا کئے جائیں۔ تاجر ملکی ترقی اور معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہیں تاجروں، صنعتکاروں اور دیگر شعبہ جات کے افراد نے ہمیشہ حکومت سے تعاون کیا ہے لیکن اب چونکہ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے تمام نظام زندگی اور کاروباروں کو متاثر کیا ہے اسلئے حکومت کاروباری افراد کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے انہیں بھرپور ریلیف دے تاکہ وہ دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوسکیں۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاویدقصوری نے حکومت پنجاب کی جانب سے جبری لاک ڈاؤن اور تاجروں پر تشد د کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ ذکرا للہ مجاہد، خالد عثمان،ظفر احمد کمال،عبد الودود علوی،محمد فاروق چوہان اور عمران الحق بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ تاجر طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس نے کبھی ٹیکسز دینے سے انکار نہیں کیا لیکن اس وقت کاروباروں کی پوزیشن ایسی نہیں کہ ٹیکس ادا کئے جاسکیں۔ فوری طور پر حفاظتی اقدامات کے ساتھ کاروبار کھولے وگرنہ تاجر دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔ حکومت عیدالضحی کے موقع پر کاروبار بند کرنے کے بجائے حفاظتی اقدامات کے ذریعے صورتحال کنٹرول کرے۔اچانک لاک ڈاؤن نے تاجروں میں شدید پریشانی پھیلا دی ہے۔عید سے قبل کاروباروں کی بندش سے تاجر برادری کو بھاری نقصان ہوگا جو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی جدوجہد کررہی ہے، تاجر برادری نے کروناکی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کی بھاری قیمت چکائی ہے، مالی نقصان کے باوجود تاجر برادری نے حکومت سے بھرپور تعاون کیا۔بقیہ صوبوں میں کاروبار کھلے ہیں تو پنجاب کے تاجروں سے امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔ کاروباری برادری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اور لوگوں کو روزگار، حکومت کو محاصل کی فراہمی کے ذریعے اہم خدمات سرانجام دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار کھلے رکھنے کی اجازت دے دے تو تاجر برادری تمام حفاظتی اقدامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے گی۔کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے دنیا کے کئی ممالک میں 35 فیصد تک کاروبارمکمل طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں جو ان ممالک کی معیشت اور مالی نظام کے لئے بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔پاکستان میں وائرس کی تباہ کاری میں کمی آئی ہے مگر عالمی اقتصادی قوت قرار دئیے جانے والے ممالک میں اسکی تباہ کاریاں جاری ہیں۔مذاکرات کرے اور عید الاضحی تک کاروبار کھولنے کی اجازت دے۔ طاقت کا استعمال حالات میں رکاوٹ کا باعث بنے گا اور اس سے پیدا ہونے والے صورتحال کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔حکومت نے پنجاب کو پولیس سٹیٹ بنا دیا ہے، حکومت کی جانب سے زبردستی کاروبار بند کرایا جارہا ہے جو معیشت کو بند کرنے کے مترادف ہے،حکومت ہوش کے ناخن لے اورفوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے۔ پنجاب کے علاوہ پورے پاکستان میں مارکیٹیں اور بازار کھلے ہیں،پنجاب کے تاجروں کا کیا قصور ہے؟، ریاست روزگار دینے کی پابند ہے چھیننے کی نہیں، حکومت کے غلط فیصلے سے تاجر عید کے کاروبار سے محروم رہ گئے ہیں،ملکی معیشت کیلئے زہر قاتل ہے۔انہوں نے کہا کہ بے روزگاری اور غربت بڑھ رہی ہے۔ اب مارکیٹیں بند ہونے سے کاروبار تباہ ہو جائے گا اور تاجر معاشی مشکلات کا شکار اور مزدور طبقہ بے روزگاری کا شکار ہو گا طاقت کا استعمال حالات بگاڑ ے گالاہور سمیت فیصل آباد، گوجرانوالہ‘سرگودھا‘ پاکپتن‘ وہاڑی‘ میانوالی‘ نارووال‘ جہلم‘ جھنگ‘ منڈی بہاؤالدین‘ ساہیوال‘ وزیر آباد اور دیگر شہروں میں تاجر سراپا احتجاج ہیں  ایسا ملک جس کی معیشت کا 70فیصد دارومدار زراعت پر ہو اور اس ملک کی کابینہ گندم اور چینی درآمد کرنے کی پالیسی بنائے،سمجھ سے بالاتر ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے ملک وقوم کو بہت مایوس کیا ہے۔ ان میں کسی قسم کا کوئی وژن نہیں۔عوام کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے حکمرنوں کے تمام دعوے محض ڈنگ ٹپاؤ کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی بدولت مسلسل لاک ڈاؤن اور مہنگائی کی شرح میں ہوشر با اضافے سے متوسط طبقہ بھی محتاجی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جبکہ غریب زندہ درگور ہوگیا ہے۔ ریلوے، پی آئی اے،سٹیل ملز سمیت تما م منافع بخش ادارے اس وقت شدید خسارے میں جاچکے ہیں۔ہر دورحکومت میں ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ حکمران اپنی کرپشن اورنااہلی چھپانے کے لیے اداروں کی نجکاری کرناچاہتے ہیں اس سے لاکھوں افراد بے روزگارہو جائیں گے۔ملک میں پہلے ہی کرونا کے باعث مسلسل لاک ڈاؤن سے دو کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ شعبہ زراعت کو فروغ دے کر پاکستان دنیا میں اپنا مقام حاصل کرسکتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس کے لیے حکمرانوں میں وژن کا فقدان ہے۔ جب تک حکمران اپنا قبلہ درست نہیں کریں گے، اس وقت تک ملک و قوم ترقی و خوشحالی کی منازل طے نہیں کرسکتے۔ ڈاؤن سائزنگ کے نام پر سرکاری ملازمین کو نکالنے کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ حکمران اگراداروں کو چلا نہیں سکتے تو انہیں برسراقتدار رہنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔ ریٹیل شاپس کو رات 10بجے تک کھلا رکھا جائے۔  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے، تھری فیز میٹر ہولڈرز کو بھی تین ماہ کے بجلی کے بل کا کریڈٹ دیا جائے۔ اسمگلنگ کی روک تھام کا بہانہ بنا کر کسٹم حکام کی استحصالی کاروائیاں بند کی جائیں۔ وفاقی و صوبائی سرکاری کمرشل بلڈنگز کے تین ماہ کے کرائے اور کمرشل پراپرٹی کا سال 20-21کا پراپرٹی ٹیکس معاف کیا جائے۔ چھوٹے تاجروں کے لئے شخصی ضمانت پر بلا سود قرضہ اسکیم کا اجراء کیا جائے۔  استعمال شدہ گاڑیوں، موبائل بزنس کو بحال کیا جائے۔ کاٹیج انڈسٹری کی پرانی تعریف بحال کی جائے۔ جنوری 2020ء میں وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق مختلف کاروباروں کی لائسنس فیس ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس