Jamaat-e-Islami Pakistan |

اہم خبریں

حکومت نے تعلیمی اداروں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے،محمد جاوید قصوری


:2جولائی 2020
لاہور( )امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا کہ پورے ملک میں جب کرونا کے دو کیسز سامنے آئے تو حکومت نے اچانک تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم نامہ جاری کیا،اس طرح رواں سال سکولز اپنے بچوں کے امتحانات بھی نہیں لیے سکے۔اسکولز کے بند ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں دولاکھ سات ہزار اسکولز،پندرہ لاکھ اساتذہ اور ڈھائی کروڑ بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل ایسوسی ایشن فارایجوکیشن(نافع) صوبہ پنجاب وسطی کے زیر اہتمام پرایؤیٹ سکولز کے مرکزی وصوبائی صدور کے اہم ا جلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ہدایت اللہ خان، شہباز شاہین،محمد فاروق چوہان،کاشف مرزا،طارق سرور،محمدعمران الحق ودیگر بھی موجود تھے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ کرونا وائرس سے شدید متاثر ممالک نے اپنے اپنے تعلیمی اداروں کو کھول دیا ہے،لیکن ہمارے تعلیمی ادارے ابھی تک بند ہیں۔ حکومت کے غلط فیصلے کی وجہ سے ملک میں ناقابل تلافی تعلیمی بحران پیدا ہو گا۔ نجی تعلیمی طلبہ کی فیسوں سے چلتے ہیں، اب فیسیں جمع نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے نجی تعلیمی ادارے بند ہو رہے ہیں،اساتذہ بے روز گار ہو رہے ہیں اور طلبہ کا مستقبل برباد ہو رہا ہے۔پرائیویٹ تعلیمی ادارے اپنے محدود وسائل میں معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ اِن اداروں سے فارغ التحصیل لاکھوں طلبہ و طالبات ملک کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں،لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ان اداروں کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھے،ان کو دیوار سے نہ لگائیں۔ کسی بھی وبا یا آفت کی صورت میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مسائل کو حل کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری بنتی ہے۔ فیڈرل یا صوبائی لیول پر جتنے بھی تعلیم کی پالیسی ساز کمیٹیاں ہیں،اُن میں پرائیویٹ اسکولز کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے والدین فیس دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔اس لیے اگرحکومت والدین کی طرف سے بچوں کی فیس حکومت ادا کرے۔90 فی صد نجی تعلیمی ادارے کرائے کی عمارتوں میں ہیں،فیس جمع نہ ہونے کی وجہ سے ادارے کرایہ، یوٹیلیٹی بلز دینے کی حالت میں نہیں ہیں۔ حکومت کے اعلان کردہ 12سو ارب روپے میں سے نجی تعلیمی اداروں کے کرائے، یوٹیلیٹی بلز اور اساتذہ کی تنخواہوں کے لیے بھی حصہ مقرر کیا جائے۔ نجی تعلیمی اداروں نے معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ہے،ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس لیے ملک کے بورڈز کے امتحانات میں بھی تمام پوزیشنز ہولڈرز انھی نجی تعلیمی اداروں کے ہوتے ہیں۔اس لیے معیاری تعلیم مہیا کرنے پر حکومت اِن نجی تعلیمی اداروں کے لیے خصوصی گرانٹ کا اعلان کرے۔ نجی تعلیمی اداروں نے ہمیشہ حکومتی احکامات کی عملداری کو یقینی بنایا ہے، اور جہاں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے حکومت کی جانب سے تحفظات کا سامنا ہوا تو اِن اداروں نے اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے قانونی طور پر سعی کی ہے۔ اس لیے ان داروں کے جائز حقوق ان کو دیے جائیں۔ہدایت اللہ خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تعلیمی ادارے نہ کھولے گئے تو50فیصد تعلیمی ادارے مکمل بند اور لاکھوں لو گ بے روزگار ہو جائیں گے،اس ذمہ داری کو حکومت قبول کرے۔ تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے بورڈز کے امتحانات نہیں ہوئے ہیں،لیکن حکومت نے امتحان کی مد میں ملک بھر کے طلبہ سے فیسیں وصول کر لی ہوئی ہے۔اب چونکہ امتحان نہیں ہوئے ہیں،اس لیے بورڈز فیس کی مد میں 45 لاکھ طلبہ سے وصول شدہ 25 ارب روپے واپس کریں۔دریں اثناء نیشنل ایسوسی ایشن فارایجوکیشن صوبہ پنجاب وسطی کے زیر اہتمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مرکزی و صوبائی صدور کے منصورہ میں منعقد ہ اجلاس میں منظور کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے تمام ایسوسی ایشنز کا یہ نمائندہ اجتماع حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہے کہ جب سب کچھ Sopsکے تحت کھل گیا ہے تو نجی تعلیمی ادارے اور دینی مدارس بھی Sops کے تحت کھول دیئے جائیں۔کرائے کی عمارات میں قائم تعلیمی اداروں کے کرائے معاف یا حکومت خود ادا کرے۔ان اداروں کے یوٹیلیٹی بلز اور ٹیکسز معاف کیے جائیں۔بے روزگار ہونے والے اساتذہ کرام کو تنخواہیں حکومت ادا کرے اور ان کو احساس پروگرام میں شامل کیا جائے۔پرائیویٹ سکولوں کے بجلی کے ریٹ کو کمرشل کے بجائے ڈومیسٹک کیا جائے۔بصورت دیگر تحفظ تعلیم کے لیے ملک بھر میں تحریک جاری رہے گی کیونکہ تعلیمی ادارے بند رکھنا آئین پاکستان کے آرٹیکل 18 کی خلاف ورزی ہے۔طلبہ و طالبات کی تعلیم اور اساتذہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے اس تحریک کو روکنا حکومت کے لیے بہت مشکل ہوگا۔
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس