Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ساہیوال واقعے میں ملوث افراد کی رہائی، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے


لاہور26اکتوبر2019ء:ساہیوال واقعے میں ملوث افراد کا شک کی بنیاد پر رہا کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے۔رواں برس کے آغاز میں پاکستان کے شہر ساہیوال میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں چار افراد مارے گئے تھے۔ ان میں لاہور کے رہائشی محمد خلیل، ان کی اہلیہ اور جواں سالہ بیٹی بھی شامل تھے۔ جبکہ سانحہ ساہیوال کے حوالے سے جاری کردہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق بچوں کو گاڑی سے اتار کر دوبارہ فائر کئے گئے، ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے واقعے کے بعد حالات پر اثرانداز ہونے اور شواہد کے اکٹھا کرنے پر تاخیر ی حربے استعمال کیے۔ماورائے عدالت قتل عام پراہلکاروں کو بچانے کے لئے جن اوچھے ہتھکنڈوں کو روایتی انداز میں استعمال کیا گیا ہے و ہ قابل مذمت ہیں۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے ساہیوال واقعے میں ملوث مجرموں کو شک کی بنیاد پر رہا کرنے کے فیصلے پرجے آئی یوتھ کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد،صدر جے آئی یوتھ وسطی پنجاب شاہد نوید ملک، محمد فاروق چوہان، صہیب شریف و دیگر بھی موجود تھے۔ ذکر اللہ مجاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ساہیوال میں ملوث افراد کی رہائی بہت بڑا ظلم ہے۔عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ذمہ داران کو عبرت ناک سزا دی جائے گئی۔چیف جسٹس پاکستان نوٹس لیتے ہوئے مقدمے کو دوبارہ سنیں۔اس مقدمے میں تمام ملزمان کا تعلق پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی یعنی پولیس ہی سے تھا۔پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے اسلحے اور جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول کا تجزیہ بھی کیا تھا۔ اس کی بنیاد پر انھوں نے رپورٹ دی تھی کہ ’جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول ان بندوقوں سے چلائے گئے تھے جو کم از کم دو ملزمان یعنی سی ٹی ڈی کے دو اہلکاروں کو جاری کی گئی تھیں‘۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کے مجرمان کا بری ہونا تشویش ناک امر ہے۔سر عام فائرنگ کرکے چار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور المیہ یہ ہے کہ سی ٹی ڈی کوئی اہلکار مجرم ثابت نہ ہوسکا۔شاہد نوید ملک نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ جرم جرم ہوتا ہے، ہائی پروفائل یا لو پروفائل نہیں“ تو کیا اس ضابطے کا اطلاق با اختیار اور مقتدر اداروں پر بھی ہوگا اور ان اداروں کو دیے گئے لا محدود اختیارات کے بعد کیا ان کے لیے احتساب کا کوئی  موثر نظام دستیاب ہے؟۔ہمارے ہاں اب تک اس حوالے سے کسی قسم کا کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھا یا جا سکا۔شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری  ہوتی ہے۔ صہیب شریف نے کہا کہ مجرمان کے بری ہونے کے بعد ان معصوم بچوں اور شہریوں کا لہو حکمرانوں کی گردن پر ہے۔ماڈل ٹاون واقعہ کی طرح سانحہ ساہیوال کا بھی فرسودہ نظام کی نذ ر ہوناظلم عظیم ہے۔یوں محسوس ہوتا کہ جیسے ملک میں غریب عوام کے جان و مال کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ نام نہاد تبدیلی اور جھوٹے وعدوں اور دعووں کی بجائے اس فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔حکمرانوں نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس