Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

وزیر اعظم ایک بار پھر کراچی آکر چلے گئے، کوئی واضح لائحہ عمل نہ دے سکے۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی /21اکتوبر ( )امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ایک بار پھر کراچی آکر واپس چلے گئے اور کراچی کی ڈھائی کروڑ کی آبادی کے مسائل کے حل اور مشکلات و پریشانی سے نجات کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل نہ دے سکے۔ کراچی کے عوام بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی خستہ حالی، صفائی ستھرائی سمیت بے شمار مسائل کاشکار ہیں اور شہریوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں،اس سے قبل انہوں نے کراچی کے لیے 162ارب روپے کے ایک پیکیج کا اعلان کیا مگر تاحال وہ رقم بھی کراچی کو نہیں مل سکی ہے اور نہ ہی فی الحال ملنے کے کوئی امکانات نظر آرہے ہیں۔ کیونکہ وزیر اعظم نے اپنے دورے میں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ یہ162 ارب روپے کراچی کو کس طرح ملیں گے، یہ رقم کن منصوبوں اور پروجیکٹ پر خرچ ہو گی اور کس کے ذریعے سے خرچ ہوگی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیر اعظم کا اس سے قبل دورہ کراچی کا اعلان تو ہوا مگر وہ ملتوی ہو گیا تھا اب کراچی کے عوام کو امید تھی کہ ان کے دورے کے موقع پر کراچی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی جامع منصوبہ بندی اور ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور عوام کو پہلے دوروں کی طرح اس بار بھی مایوسی ہوئی۔ وزیر اعظم صرف اپنی پارٹی لیڈروں اور اتحادیوں سے ملاقات کر کے چلے گئے۔ یہاں تک کہ سندھ حکومت کے کسی ذمہ دار تک سے کوئی ملاقات اور نہ ہی بریفنگ ہوئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کراچی کے مسائل کی سنگینی سے نا واقف ہیں یا پھر پی ٹی آئی کی کراچی قیادت نے کراچی کے مسائل پر انہیں درست طریقے سے بریف ہی نہیں کیا۔ ایم کیو ایم،پی ٹی آئی کی اتحادی ہے اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی بھی اتحادی رہی ہے۔ اس نے کراچی کے عوام کے مسائل حل کرنے کی نہ پہلے کوئی سنجیدہ کوششیں کی اور نہ اب کچھ کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم  کو ماضی کی طرح اب بھی صرف اپنی وزارتوں اور عہدوں کی فکر ہے اور وزیر اعظم سے ملاقات میں ان کی جانب سے بھی کوئی اہم بات سامنے نہیں آئی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کو ماضی کی طرح آج بھی مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے لیکن اب یہ سلسلہ بند ہو نا چاہیئے۔ کراچی کے عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت اور حکمران پارٹیوں کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیئے۔#

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس