Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

حکومت لوگوں کو بھکاری بنانے کی بجائے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور عزت کی روٹی کمانے کے مواقع فراہم کرے۔سینیٹرسراج الحق


لاہور9/اکتوبر2019ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ چین میں وزیراعظم کا 500 کرپٹ لوگوں کو پکڑنے میں بے بسی کا بیان اس بات کا اظہار ہے کہ میں بے اختیار ہوں اور میں کرپشن کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم دوسرے ملکوں میں جاکر کہتے ہیں کہ میری قوم چور، بد دیانت اور کرپٹ ہے۔ ملک کے عزت و وقار کے خلاف باتیں کر کے وزیراعظم کس کو خوش کررہے ہیں۔ کتنی کمزور سوچ ہے ایک مسلم ریاست کا حکمران جس نے اسلام کا پیغام دنیا کو دینا تھا، وہ غیر مسلموں کو اپنے لیے نمونہ قرار دے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے لیے نبی آخر الزمان حضرت محمد ؐ کی زندگی کو بہترین نمونہ قرار دیاہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پھالیہ میں شمولیتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، امیر جماعت اسلامی صوبہ شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم، چوہدری ریاض فاروق ساہی اور جے آئی یوتھ کے صدر زبیر احمد گوندل نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سینکڑوں لوگوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ قوم کارخانے چاہتی ہے اور حکومت لنگر خانے بناتی ہے تاکہ لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر لنگر کھائیں اور اس نااہل حکومت کے کارنامے بیان کریں۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کو بھکاری بنانے کی بجائے انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور عزت کی روٹی کمانے کا موقع دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت لوگوں کو این جی اوز کا محتاج نہ بنائے۔ ہم دوسروں کو کھلانا اور دنیا کی قیادت کرنا چاہتے ہیں۔ ایٹمی ملک کو روانڈا اور افریقہ کی طرح قحط زدہ نہ بنائیں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ کشمیری 66 دنوں سے تڑپ رہے اور پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قوم سمجھتی تھی کہ وزیراعظم کشمیر پر کوئی عملی قدم اٹھانے کے لیے چین سے مدد لینے گئے مگر وہاں انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ حکمرانوں کے رویے سے لگتاہے کہ انہوں نے کشمیر کا مسئلہ دوبارہ سرد خانے میں ڈال دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہر روز مدرسوں کو ٹھیک کرنے کی باتیں کر تے ہیں میں کہتاہوں کہ پہلے معیشت، صنعت اور زراعت کو ٹھیک کرلیں، عدالتوں اور ہسپتالوں کو ٹھیک کریں تاکہ عوام کی پریشانی میں کمی ہو۔

                    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک سال کے عرصہ میں سب سے زیادہ قرضے لیے ہیں۔ دنیا میں سال میں ایک مرتبہ چیزوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں جبکہ موجودہ حکومت چار چار مرتبہ قیمتیں بڑھا رہی ہے۔ 200 فیصد اضافہ کے باوجود آج پھر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیاہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں 61 فیصد غیر آباد زمینوں کو آباد کر کے قومی پیداوار کو ڈیڑھ سوگنا تک بڑھایا جاسکتاہے۔ حکومت غیر آباد زمینوں کو آباد کرنے کے لیے کسانوں میں تقسیم کرے۔ لوگوں کو نہ صرف کاشتکاری کرنے کے لیے زمین ملے گی بلکہ گھر بنانے کے لیے بھی جگہ ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکمران کہتے تھے کہ ہم لوگوں کو دیسی انڈے اور مرغی دیں گے، آج حکومت نے برائلر مرغی کی قیمت میں 35 فیصد اور انڈے کی قیمت میں 14 فیصد اضافہ کردیاہے اور اس مہنگائی نے سب سے زیادہ غریب اور سفید پوش طبقے کو متاثر کیاہے۔ لوگوں کے لیے اب سفید پوشی کا بھرم رکھنا بھی مشکل ہوگیاہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ خطے کے بھوٹان، سری لنکا اور نیپال جیسے چھوٹے ملک بھی معیشت کے میدان میں پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کا ٹکہ بھی اب ہمارے روپے کو ٹکے ٹکے کی باتیں سنا رہاہے۔انہوں نے کہاکہ ملک کی تقدیر عوام کے ہاتھ میں ہے۔ عوام اچھی قیادت کا انتخاب کریں تو اللہ تعالیٰ ملک و قوم کے تمام مسائل حل کر دے گا۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس