Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے 6/اکتوبرکو لاہور میں عظیم الشان تاریخی آزادی کشمیر مارچ کا اعلان


لاہور17/ستمبر2019ء:جماعت اسلامی پنجاب( وسطی ) نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، مسلسل کرفیو اور کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے 6اکتوبرکو لاہور میں عظیم الشان تاریخی آزادی کشمیر مارچ کا اعلان کیا ہے۔ آزادی کشمیر مارچ 6اکتوبرکو ناصر باغ لاہور سے پنجاب اسمبلی تک ہوگا۔ آزادی کشمیر مارچ کی قیادت امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کریں گے۔ وہ اس موقع پر اپنے خصوصی خطاب میں کشمیر کی تحریک آزادی کے لیے جماعت اسلامی کے آئندہ لائحہ عمل کا بھی اعلان کریں گے۔ جماعت اسلامی نے حالیہ دنوں میں کراچی، پشاور،اسلام آباداور کوئٹہ میں فقید المثال آزادی کشمیر مارچ کئے ہیں۔ان شا ءاللہ 6اکتوبر کو لاہور میں ہونے والا آزادی کشمیر مارچ بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہو گا۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پنجاب وسطی کے امیر محمد جاوید قصوری نے گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں بلال قدرت بٹ، عبد الاحد چوہدری ، عبد العزیز عابد، محمد فاروق چوہان اور عمران الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ر جماعت اسلامی پنجاب وسطی کے امیر محمد جاوید قصوری نے کہا کہ امر واقعہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پریورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی اور انسانی حقوق کی عالمی کونسل میں 58ممالک کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کافی نہیں ہے۔ اگر عالمی برادری نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔ انڈیا ہتھیاروں کے زور پر اپنے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ سات دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجودہے۔ بھارت اپنی 9 لاکھ فوج کے ذریعے 80 لاکھ لوگوں کو دائمی طور پر بنیادی حقوق بالخصوص اظہاررائے اور حق خود ارادیت کی آزادی سے محروم نہیں رکھ سکتا۔انڈیا کے زیرِ قبضہ کشمیر میں بھارتی فوج نوجوانوں پر بہیمانہ تشدد کر رہی ہے جبکہ وادی میں جان بچانے والی ادویات اور کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہو چکی ہے۔ انڈیا انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کو اپنے زیرقبضہ کشمیر میں رسائی دے۔پیلٹ گنز کے استعمال سے کشمیر کے نوجوان اپنی بینائی گنوا رہے ہیں جبکہ زخمی ہونے پر وہ ہسپتال جانے سے بھی گھبراتے ہیں کہ کہیں انھیں انڈین فورسز گرفتار نہ کر لیں۔یہ قرونِ وسطیٰ کی بات نہیں ہو رہی بلکہ یہ ظلم و ستم 21 ویں صدی میں ہو رہا ہے۔یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعویدار اور سلامتی کونسل کی مستقل رکن بننے کی خواہش رکھنے والی مملکت بھارت کا اصل چہرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری بھارت پر دباؤ نہیں بڑھائے گی اس وقت تک خطے میں جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔ وادی میں زندگی مفلوج، انٹرنیٹ، موبائل لینڈ لائن سروس معطل، لوگ غذائی اجناس اور دواؤں سے محروم ہیں ۔بروقت اقدام نہ اٹھایا گیا اور بھارت کا کرفیو اسی طرح جاری رہا تو بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ حکومت پاکستان کو بیانا ت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ بھارت اگر اپنے دعوﺅں میں سچا ہے تو مقبوضہ کشمیر میں عالمی مبصرین کو جانے کی اجازت دے۔ مودی نے تاریخی غلطی کرکے بھارت کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔ ہندوستان کی عام آبادی آر ایس ایس کے غنڈوں،انڈین میڈیا کی جھوٹی سنسنی خیز رپورٹوں اور جنگی جنون سے تنگ آگئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کا حل صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کی ضمانت ہے۔ مسئلہ کشمیر محض دو طرفہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خوداریت کا حصول ہی مسئلہ کا بنیادی اور دیر پاحل ہے۔ پاکستان مقبوضہ ریاست میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے عمل کو ختم کرنے،کرفیوکو ہٹانے،حریت رہنماوں کی رہائی کو یقینی بنانے اور کشمیریوں کو حق خوداردیت دلانے کے لئے بھارت کو الٹی میٹم دے۔ انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے لوگوں کو حق خود ارادیت دے۔ ،جموں و کشمیر میں کرفیو ختم کیا جائے اور بھارت کی 9لاکھ فوج کو مقبوضہ کشمیر سے نکالا جائے۔ اقوام متحدہ اور سلامی کونسل فی الفور مسئلہ کشمیر حل کروائیں۔محض سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کا زیر بحث آنا طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں۔ حکمران محض احتجاج ، طفل تسلیاں اور اچھل کود پر ہی نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان دو ٹوک اعلان کرے کہ دفعہ370اور 35-Aکے بھارت کی طرف سے خاتمے کے بعد پاکستان کو بھی اپنی افواج مقبوضہ کشمیر میں داخل کرنے کا حق حاصل ہے۔ حکومت اخلاقی، سیاسی اور سفارتی ہی نہیں کشمیریوں کی عملی مدد کا اعلان کرے۔ حکمران انڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھانے کا الٹی میٹم دیں ، اس حوالے سے بھارت کو سخت اور دو ٹوک پیغام دیا جائے۔ بھارت کے ساتھ تجارت ، فضائی حدود کے استعمال اور بھارتی سفارت خانہ کے حوالے سے حکومت کے اقدامات ناکافی اور انتہائی غیر سنجیدگی پر مبنی ہیں۔ بھارت ظالمانہ اور سفاکانہ اقدامات بھی کررہا ہے اور دنیا بھر میں جارحانہ سفارت کاری بھی کررہا ہے، جبکہ ہمارے وزیر اعظم صاحب بار بار اپنی قوم سے خطاب اور احتجاج کروارہے ہیں۔ اس سے حکمرانوں کی غیر سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس