Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

حکومت پاکستان سفارتی،سیاسی اور اخلاقی حمایت سے آگے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی مدد کے لیے عملی اقدامات کرے۔ڈاکٹرخالدمحمود


اسلام آباد15/ ستمبر2019ء:جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی 27ستمبر کو مظفرآباد میں پوری قوم کو جمع کر کے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرے گی،حکومت پاکستان سفارتی،سیاسی اور اخلاقی حمایت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے،او آئی سی کا سربراہی اجلاس اسلام آباد میں بلا کر کشمیر کی آزادی کا روڈ میپ دیا جائے ،آزادکشمیر کے عوام 1947ء کی طرح اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بے تاب ہیں،27ستمبر کو وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سمیت پوری کشمیری قیادت کو دعوت دیں گے،سینیٹر سراج الحق خصوصی خطاب کریں گے 27 ستمبر کو جب وزیراعظم پاکستان عمران خان جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں عظیم الشان کشمیر ریلی منعقد کی جائیگی جس میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سمیت آزاد کشمیر کی تمام قیادت اور حریت کانفرنس کو بھی مدعو کیا جائیگا۔مظفر آباد کی ریلی میں مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی عملی مدد کے لیے نئے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔اتوار کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر نائب امراء نورالباری،ارشد ندیم ،راجہ جہانگیر خان،سیکرٹری جنرل راجہ فاضل تبسم،جے آئی یوتھ کے صدر نثار احمد شائق سمیت دیگر قائدین ہمراہ تھے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد محمود نے بتایا کہ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی درخواست پرجماعت اسلامی یوتھ نے 21 ستمبر کا پروگرام موخر کر دیا ہے۔وزیراعظم پاکستان عمران خان کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے نیا پروگرام دیا جائے گا۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بیس کیمپ کی حکومت کا کردار بڑھایا جائے آزاد کشمیر کی حکومت اس وقت پوری ریاست کی نمائندہ حکومت ہے۔آزاد کشمیر حکومت کو نمائندہ حکومت تسلیم کرتے ہوئے ایسے بین الاقوامی سطح پر اپنا مقدمہ لڑنے کا کردار دیا جائے۔انہوں نے حکومت پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کے تناظر میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کیے جائیں بھارت کے لیے فضائی حدود بند کی جائیں ۔کشمیریوں کی عملی حمایت کے لیے اسلامی سربراہی کانفرنس اسلام آباد میں بلوائی جائے۔کشمیریوں کی حمایت کے لیے سیاسی،سفارتی اور اخلاقی مدد سے بڑھ کر  اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی عملی مدد کے لیے آزاد کشمیر کے نوجوان بے تاب ہیں۔آزاد کشمیر کی عوام میں 1947ء والا جذبات کا سیلاب ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس چیز کا ادراک نہیں ہے اگر دنیا میں امن قائم کرنا ہے تو امن کا راستہ کشمیر اور پاکستان سے ہو کر گزرے گا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے بھائیوں کی مدد کااختیار حاصل ہے۔جماعت اسلامی یوتھ کے تحت بڑی تعداد میں نوجوان لائن آف کنٹرول کی جانب سے جانا چاہتے ہیں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے حکومت پاکستان کو ہی کوئی اقدام کرنا ہوگا۔ڈاکٹر خالد محمود نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستانکو دورہ مظفر آباد کے موقع پر اس صورتحال کا ادراک ہوا۔وزیراعظم نے 27 ستمبر تک روکنے کو کہا ہے چنانچہ وزیراعظم کے اعلان اور سراج الحق کی ہدایت پر جماعت اسلامی یوتھ نے اپنا پروگرام موخر کیا ہے 27 ستمبر کو کوئی اقدام نہ ہوا تو سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں نیا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔انہوں نے ریڈ کریسنٹ اور دوسرے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے لیے ادوایات اور خوراک پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔ریلیف کا سامان جماعت اسلامی مہیا کریگی۔جماعت اسلامی یوتھ آزاد کشمیر کے سربراہ نثار احمد شائق نے اس موقع پر کہا کہ آزاد کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں نے 21 ستمبر کو لائن آف کنٹرول  کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کیا تھا جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی ہدایت پر اس پروگرام کو فی الحال  موخر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً پچاس ہزار نوجوان تیار تھے ایک ہزار کفن پوش اور 313 مسلح نوجوان  21 ستمبر کے پروگرام کے لیے تیار تھے۔انجمن تاجران ،ٹرانسپورٹرزہمارے ساتھ تھے۔ہمارا اندازہ تھا کہ نوجوان اس قدر جذباتی ہیں کہ یہ تعداد ایک لاکھ سے بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی جماعتوں کے فیصلے کا انتظار کریںگے۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس