Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

کراچی کے سنگین مسائل، کمیٹیوں کی نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے ٗحافظ نعیم الرحمن


کراچی /12ستمبر  2019ء: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی کی ابتر صورتحال میں بہتری اور مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کمیٹیوں کی نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے،معاملہ آرٹیکل 149کے نفاذ کا نہیں بلکہ وسائل، اختیارات اور فنڈز کے درست استعمال اور مسائل حل کرنے کا ہے،فروغ نسیم کی جماعت ایم کیو ایم 30سال اقتدار میں رہی انہوں نے کراچی کے لیے کیاکیا،موجودہ حالات کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے،موجودہ حالات میں آرٹیکل 149کی بات کرناموجودہ  بلدیاتی حکومت کی کرپشن اور نااہلی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے،وفاق نے اپنے منصوبے اب تک کیوں مکمل نہیں کیے گرین لائن کا منصوبہ مسلسل کیوں تاخیر کا شکار ہے؟،وفاق کو کراچی کے لیے 162ارب روپے کا بجٹ دینے کے لیے کون سے اختیارات کی ضرورت ہے۔وفاق نے کراچی کے تین اسپتال بھی تولیے تھے مگر فوراً واپس کردیے،کے الیکٹرک تووفاق کے تحت ہے،کراچی میں حالیہ بارشوں کے دوران کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت ولاپرواہی کے باعث کرنٹ لگنے سے 30ہلاکتوں پر وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے خلاف کیا ایکشن لیا،وفاق کو K4منصوبے کے لیے جو سپورٹ اور فنڈز فراہم کرنے تھے وہ کیوں نہیں کیے گئے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کراچی میں حکمران پارٹیاں سیاست چمکانے کے بجائے کوئی کام نہیں کررہی،کراچی پر سیاست کرنے کے بجائے کام کیا جائے،وفاقی حکومت کی جانب سے 12رکنی کمیٹی کا قیام محض نمائشی اقدامات اور غیر سنجیدگی کی عکاسی کے سوا کچھ نہیں۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کے بعد پیپلز پارٹی اور صوبائی حکومت پر سے ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی کیونکہ محکمہ بلدیات سندھ حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ کراچی کے عوام آج جن سنگین مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں اس کی ذمہ دارموجودہ اور سابقہ حکومتیں اور حکمران پارٹیاں ہیں۔ پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے کراچی سے ووٹ لیے ہیں، تینوں حکمران پارٹیوں اور وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے، دوسروں پر ذمہ داری عائد کرنے اور پوائنٹ اسکورنگ کرنے کے بجائے کراچی کے عوام کے دیرینہ اور سنگین مسائل حل کریں۔ ماضی میں بھی اس طرح کی کمیٹیاں بنتی رہی ہیں، نمائشی اقدامات اور زبانی جمع خرچ کا سلسلہ اب بند ہو نا چاہیئے اور کام نظر آنا چاہیئے۔ شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملنا چاہیئے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے شہری بجلی، پانی، صفائی ستھرائی، سیوریج کے ناقص انتظامات، سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹرانسپورٹ کے مؤثر نظام کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل اذیت اور کرب میں مبتلا ہیں اور شہریوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ کراچی میں کسی بھی سطح پر حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں جبکہ دوسری طرف خود حکمران پارٹیاں کراچی کے مسائل پر سیاست کر رہی ہیں اور مسائل حل کرنے کو کوئی تیار نہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ایم کیو ایم،پیپلز پارٹی کی مسلسل اتحادی رہی ہے اور اس دوران 22مرتبہ روٹھی اور منائی گئی مگر ایک بار بھی یہ رو ٹھنا کراچی کے بلدیاتی مسائل کے لیے نہیں تھا۔ فروغ نسیم پہلے اس بات کی وضاحت کریں کہ ایم کیو ایم نے کراچی کے عوام کو کیوں دھوکہ دیا جب 2013میں بلدیاتی نظام منظور ہو رہا تھا ایم کیو ایم حکومتی اتحادی تھی اور پارلیمنٹ میں بھی موجود تھی اس نظام کی مخالفت کیوں نہیں کی گئی۔#

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس