Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

مقبوضہ کشمیر میں قتل عام جاری، بارہ ہزار نوجوان غائب کردیئے گئے ، نوجوان بیٹیاں والدین اور بھائیوں کے سامنے اٹھائی جارہی ہیں ۔لیاقت بلوچ


لاہور 4 ستمبر2019 ء:نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے منصورہ میں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کی ٹیم سے خطاب اور لاہور میں کشمیری رہنماﺅں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاہے  کہ مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو کی پابندیاں ایک ماہ سے جاری ہیں ۔ پچاس لاکھ انسان مرد ، خواتین ، نوجوان اور بچے عملاً بڑی جیل میں ہیں ۔ روزی خوراک ، ادویات ، بچوں کی بھوک ، تعلیم کی بندش بڑا انسانی المیہ ہے ۔ کرفیو کی آڑ میں بارہ ہزار نوجوان اٹھالیے اور غائب کردیے گئے ہیں ۔ نوجوان بیٹیاں والدین ، بھائیوں کے سامنے آر ایس ایس کے غنڈوں اور دہشتگرد فوجی سرپرستی میں اٹھائی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ظلم اور کرفیو انسانی المیہ کو جنم دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کرفیو کا خاتمہ کرائے ، عالم اسلام کے اہم ممالک نریندر مودی کو کرفیو کے خاتمہ پر مجبور کریں ۔

لیاقت بلوچ نے کہاکہ حکومت نے آر ڈی نینس کے ذریعے 208 ارب روپے کی وہ رقم جو صنعت کاروں کے ذمے واجب الادا تھی معاف کر دی ہے ۔ جی آئی ڈی سی کے تحت گیس صارفین سے ٹیکس وصول کیا جارہا تھا ۔ صنعت کار احتجاج کرتے رہے ۔ عدالتی حکم امتنائی بھی لے آئے لیکن عوام سے پیسہ وصول کیا جاتا رہا ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ کے لیے چاہے یہ ٹیکس ختم کردیا جائے لیکن وصول شدہ رقم لازما قومی خزانہ میں لائی جائے ۔ آرڈی نینس کا اجرا کابینہ اور وزیراعظم کی ہدایت پر ہوتاہے ۔ وزیراعظم کا اپنے اقدام پر لاعلمی اور نوٹس لینا دھوکہ اور فریب ہے ۔ عوام سے وصول شدہ پیسہ مافیا پر لٹا دیا ، خان صاحب کیا یہ آپ کے باپ کا پیسہ ہے ، یہ نااہلی ، چوری سینہ زوری ہے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس