Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

بھارت مقبوضہ کشمیر میں قتل عام کررہاہے،حکومت پاکستان ہمہ گیر جہاد کا اعلان کرے : مجلس شوری ٰجماعت اسلامی جموں کشمیر کی قرارداد


اسلام آباد3/ ستمبر2019ء: جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورت حال کے حوالے سے قرار پاس کی گئی جس میں لکھا گیا ہے کہ یہ اجلاس مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے لیے کئے گے نریندرمودی حکومت کے حالیہ اقدامات کو ریاست کے آبادی کے تناسب کو بدل کر ریاست کے مسلم تشخص کے خاتمے کی سازش ،اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا ہے اجلاس کی رائے میں مودی حکومت کا یہ قدم نہ صرف کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔اجلاس واضح کرتا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں پہلے سے موجود 9لاکھ ملٹری اور پیرا ملٹری فورسز میں مزید ڈیڑھ لاکھ فوج اور نیم فوجی وردیوں میں ملوث آر ایس ایس کے غنڈے اور دہشت گردوں کا اضافہ،کرفیوکا مسلسل اطلاق ،ٹیلی فون،انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی رابطوں،اخبارات ،صحافیوں کی کوریج پر پابندی ،ریلیف اور انسانی حقوق کی ایجنسیوں کے مقبوضہ علاقے میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے ایک عظیم انسانی المیہ جنم لے رہا ہے جو اقوام عالم اور عالمی اداروں کے فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اجلاس اس امر پر تشویش کااظہار کرتا ہے کہ تحریک آزادی کے قائدین اور 12000عام کشمیریوں کو گرفتاریا نظر بنداور 4000کے قریب گرفتار شدگان کو ہندوستان کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔  فسطائی نازی مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ایک ہولناک قتل عام کی تیاریوں میں مصروف ہے اور اس نے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر حملے کے مذموم عزائم کے تحت سیز فائر لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے تعلیمی اداروں کو بند کر کے فوجی بیرکوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے نوجوانوں کو گھروں سے نکال کر گرفتار اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے پرامن مظاہرین کو پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا جارہا ہے خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے۔اجلاس مودی حکومت کے ان اقدامات کو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے متنبہ کرتا ہے کہ اگر یہ اقدامات نہ روکے گئے اور اس حوالے سے عالمی امن کے ذمہ دار بین الاقوامی اداروں اور ممالک نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام سیز فائر لائن کو روند کر اپنے بھائیوں کی مدد کے لے مجبور ہوں گے۔اجلاس اقوا م متحدہ، یورپی یونین، اسلامی کانفرنس اور عالمی برادری کے دیگر اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی سنگین صورت حال کا فوری نوٹس لے اور ہٹلر ثانی مودی کے فسطائی اقدامات کا تدارک کرے ،اجلاس 50 سال بعد مسئلہ جموں وکشمیر پر سیکورٹی کونسل کے بند کمرہ اجلاس کے انعقاد اور اس میں مودی حکومت کے اقدامات کو اقوا م متحدہ کی قراردادوں کے برعکس اور کشمیر کے موجودہ سٹیٹس کو ان قراردادوں کے مغائر تبدیل کرنے کے عمل کی تائید نہ کرنے کے حوالے سے پر یس ریلیز کو سراہتا ہے لیکن اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے اقوا متحدہ اور سیکورٹی کونسل کی سطح پر زیادہ موثر اقدامات اور مسئلے کو چیپٹر 7کے تحت زیر بحث لانے کا مطالبہ کرتا ہے ،اجلاس مقبوضہ کشمیر کے محصور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلاتا ہے کہ آزاد جموں وکشمیر و گلگت بلتستان اور پاکستان کے عوام اور مہاجرین مقیم پاکستان ،انصاف پسند عالمی برادری ،پوری امت مسلمہ ان کے شانہ بشانہ ہیں۔اجلاس عالمی برادری کو متنبہ کرتا ہے کہ مودی حکومت کا استعماری،استبدادی اور فسطائی چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے اور آر ایس ایس کا نازی ایجنڈا نہ صرف مقبوضہ جموں وکشمیر بلکہ پورے ہندوستان میںبے نقاب ہوچکا ہے اور مودی حکومت نے اپنے یکطرفہ غیر قانونی اور ڈھٹائی پر مبنی اقدامات سے خطے کو ایٹمی جنگ کے دھانے پر پہنچا دیا ہے اور اگر عالمی برادری نے اس کا سنجیدہ اور فوری نوٹس نہ لیا تو دو ایٹمی طاقتوں کی جنگ ناگزیر ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اس علاقے بلکہ پوری دنیا دنیا کا امن خطرے میں پڑسکتا ہے۔اجلاس اس امر کو واضح کرنا چاہتا ہے کہ ہندوستان کے جبری تسلط کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اقوا م متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق اور حق پر مبنی ہے کشمیریوں کی برحق جدوجہد کو بندوق اور اسلحے کے زور پر دبانے کی کوشش اور انہیں دیوار سے لگادینے کا عمل انہیں دوبارہ عسکریت کی طرف لائے گا اور وہ بندوق اٹھانے پر مجبور ہوں گے جس کا حق انہیں اقوام متحدہ کا چارٹر اور عالمی قوانین بھی دیتے ہیں اور آزاد خطے کے عوام بھی سیز فائر لائن توڑ کر ان کی مدد کے لیے ان کے ساتھ جہاد میں شامل ہونے پر مجبور ہوں گے چونکہ وہ ریاست جموں وکشمیر کے شہری ہیں۔اجلاس حکومت پاکستان پر واضح کرتا ہے کہ ہندوستان کے یکطرفہ اقدام کے بعد دوطرفہ شملہ معاہدہ اپنی موت آپ مرچکا ہے اس لئے اس معاہدہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا جائے ،سیز فائرلائن پر لگی باڑ کو نیست ونابود کیا جائے آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر کی حکومت کو 1947ء کی طرح پوری ریاست کی نمائندہ حکومت کا درجہ دے کر بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا کیس پیش کرنے اور مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے والی ہندوستانی حکومت کے خلاف جہاد اور مزاحمت کا حق دیا جائے،آزادکشمیر کی ریگولر فورسز کو بحال کیا جائے ۔اجلاس حکومت پاکستان پرواضح کرتا ہے کہ دفعہ 370اور 35Aکے خاتمے کے بعد نازی مودی حکومت نے آئین طور پر ہندوستان کی سرحدوں کو Redefineکیا ہے اور وہ اپنی سرحدیں متنازعہ سیز فائر لائن پر لے آیا ہے جس کے بعد اس کے ساتھ کسی قسم کی سفارتی تعلقات کا کوئی جواز نہیں لہٰذا انہیں  مکمل طور پر ختم کیا جائے اور پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال اور افغان ٹرانزت ٹریڈ پر بھی پابندی لگائی جائے۔اجلاس وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کی تقاریر اور کشمیریوں کا سفیر بننے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان، وزیر خارجہ اور اپنی دیگر ٹیم کے ہمراہ دنیا کے طاقت کے مراکز اور دیگر اہم ممالک کا دورہ کریں اور دنیا کو کشمیر کے حالات کی سنگینی کے ساتھ ساتھ ہٹلر ثانی مودی کے دنیا کے امن کو غارت کرنے والے خطرناک فسطائی عزائم سے آگاہ کریں۔اجلاس وزارت خارجہ میں کشمیر سیل اور پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک کے قیام کا خیر مقدم کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ انہیں اہداف دے کر وزیر اعظم اپنی نگرانی میں ان کی فعالیت اور کارکردگی کا جائزہ لیتے رہیں گے۔اجلاس اس امر کو واضح کردینا چاہتا ہے کہ وحدت کشمیر اور حق خودارادیت پر پوری کشمیری قوم متحد و متفق ہے اور تقسیم کشمیر کے کسی بھی آپشن اور فارمولے کو مسترد کرچکی ہے اور آئندہ بھی ایسی کسی بھی کوشش کی سختی سے مزاحمت کی جائے گی۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کشمیریوں کا مسئلہ اور بنیادی حق ہے جس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور امید رکھتا ہے کہ انصاف اور جمہوریت کے علمبردار عالمی طاقتیں اور ادارے کشمیریوں سے ان کا یہ حق چھیننے کی کوشش نہیں کریں گے۔ اجلاس حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کو یقین دلاتا ہے کہ کسی بھی قسم کی ہندوستانی جارحیت کے خلاف جماعت اسلامی کے کارکنان اور آزاد جموں وکشمیر گلگت بلتستان کے عوام اور مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان ان کے شانہ بشانہ ہوں گے اور دفاع پاکستان اور دفاع کشمیر کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔اجلاس ریڈ کراس،ہلال احمر اور دیگر عالمی امدادی تنظیموں کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر کے مصیبت ذدہ عوام سے بے ااعتنائی ،لاتعلقی اور عوام تو جہی پر افسوس اور تشویش کااظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اور مصیبت کی گھڑی میں کشمیری عوام تک ریلیف پہنچانے کے حوالے سے سنجیدگی سے کردار ادا کرے اور ہندوستان حکومت کو مجبور کریں کہ وہ محصور کشمیریوں تک ریلیف پہنچانے کی اجازت دے اور اگر اجازت نہیں ملتی بھارتی حکومت کو دنیا بھر میں بے نقاب کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔اجلاس جماعت اسلامی پاکستان اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی مظولوم کشمیریو ں کی بھرپور حمایت کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہے۔اجلاس پاکستان کے دیگر سیاسی قائدین جنہوں نے مظفرآباد کا دورہ کیا ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہے۔اجلاس عالمی سطح پر خصوصاً یورپ اور امریکہ میں تحریک کشمیر برطانیہ ،تحریک کشمیر یورپ ،ACNAاور دیگر تنظیموں کی طرف سے مسئلہ جموں وکشمیر پر متحرک فعال اور بھرپور کردار ادا کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے۔یہ اجلاس بھارتی حکومت کے فسطائی ہتھکنڈوں اور پالیسی کی مذمت کرتا ہے جس کے مطابق آسام کے لاکھوں مسلمانوں کو جو عرصہ دراز سے وہاں کے شہری ہیں انہیں انڈین شہریت سے محروم کیا گیا عالمی اداروں اور اقوام عالم کو متوجہ کرتا ہے کہ و ہ بھارتی حکومت کے اصل چہرہ کو پہچانیں اور فوری اقدامات کریں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس