Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

موجودہ حالات میں مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے خلاف موثر اقدام کے لیے پاک فوج کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔لیاقت بلوچ


ملتان02ستمبر2019ء:ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل وجماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جنرل اسمبلی میں پاکستان کے سربراہ کا سال میں خطاب ایک بار ہوتا جو کافی نہیں ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ29 روز سے جاری کرفیو اور مظالم کے خلاف وزیر اعظم کو اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کے مستقل ممبران کے ہیڈ کوارٹر جا کر ہندوستان کے مظالم کو بے نقاب کرنا چاہئے تھا جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اسلامی ممالک کے کمزور موقف کے بعد تمام اسلامی ممالک میں جا کر اپنا موقف بیان کرنا چاہیے تقاریر میڈیا پر بیانات ٹوئٹس کے ذریعہ سفارتی محاذ پر کام نہیں ہوتا پاکستان نے اب تک29 دن کے کرفیو کو توڑنے کے لیے کوئی موثر سفارتی اقدام نہیں اٹھایا موجودہ حالات میں مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے خلاف موثر اقدام کے لیے پاک فوج کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بھارت کی جارحیت کے باوجود پاکستان نے ہندوستان کی فضائی حدود کی پابندی کے حوالہ سے سوچا تک نہیں ہے اور اسی طرح معاشی راہداری کے خاتمہ کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اس وقت سفارتی محاذ کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔ان خیا لات کا اظہار انہوں نے ” دارالسلام “ملتان میڈیا سنٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرامیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب راﺅ محمد ظفر، ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی صدرمیاں آصف محمود اخوانی،کنور محمد صدیق، محمد ایوب مغل، بلال انصاری، عبدالحنان حیدری،بشارت قریشی، سلیم صدیقی بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کا اسلام آباد میں ہونے والے ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے ایک دستاویز جاری کی جائے گی آئندہ ہفتے ملی یکجہتی کونسل میں شامل 25 ممبر جماعتوں کے سربراہوں ،اور آل پاڑٹیز حریت کانفرنس کے قائدین پر مشتمل قومی مشاروتی اجلاس بلایا جا رہا ہے جس میں قومی یکجہتی دستاویز پیش کی جائے گی اور یہ دستاویز ایک وفد کی صورت میں صدر پاکستان کو پیش کی جائے گی ۔ اسی طرح صوبائی تنظیمیں اپنے اپنے مقامات پر آل پارٹیز کانفرنس کر کے گورنرز کو دستاویز پیش کریں گی ۔ اسی طرح کی کانفرنس مظفر آباد میں بھی ہو گی ۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا کئے ہوئے ہے گزشتہ29 دن سے بد ترین کرفیو نافذ ہے انسانی حقوق کی ہر لحاظ سے پامالی کی جارہی ہے ۔عالمی برادری کی بے حسی تعصب اور جانبداری کی وجہ سے ان کی 1 کروڑ 60 لاکھ انسانوں پر ہونے والے مظالم کی طرف توجہ نہیں ہے ۔ اسی طرح عالم اسلامی خصوصاََ او آئی سی کے پلیٹ فارم پر بھی کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم پر مجرما نہ غفلت کا مظاہرہ کیاجا رہا ہے ۔عالم اسلام کو اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے کیونکہ مودی خود اپنی قوم کو بھی بے وقوف بنا رہا ہے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو آئین سے الگ کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے ۔ اور یہ کشمیریوں کی جائیدادوں کے حوالہ سے ہندوستان کے مالدار لوگوں کو نوازنے کی مکروہ سازش ہے ہندوستان کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر کاروائی کرے ۔ پاکستان کے آئین میں بھی مقبوضہ کشمیر کو بھی متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا ہے لیکن پاکستان بھی اس شق کو ختم نہیں کر سکتا ۔ کشمیری جس انداز سے ڈٹے ہوئے ہیں ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں ۔ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔افغانستان کے عوام نے او آئی سی اور اقوام متحدہ کی مدد حاصل کئے بغیر خود جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ۔ اسی طرح کشمیری عوام بھی اپنی منزل حاصل کر کے رہیں گے ۔ ملی یکجہتی کونسل اپنے کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ سفارتی سطح پرپاکستان کی ناکامی سب پر عیاں ہے عرب ممالک کی حمایت نہ ملنا سوالیہ نشان ہے؟ عمران خان صرف تقاریر کی حد تک محدود ہیں اور ہفتے میں 1 دن نصف گھنٹے کے لیے احتجاج ناکافی ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام لائے اور مسئلہ کشمیر پر دوٹوک قومی پالیسی ترتیب دے ملک میں اقتصادی استحکام بھی لایا جائے کیونکہ کشکول اور تیل ادھار لینے سے اقتصادی استحکام نہیں آسکتا ۔پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور ہمیں پاک فوج کی قربانیوں پر فخر ہے۔ شیخ رشید کو ترجمان بنا کر صرف یہ کہنا کہ اگر بھارت نے حملہ کیا تو منہ توڑ جواب دیں گے بھارت کو حملہ کرنے کی کیا ضروت ہے اصل میں تو بھارت نے جو اسٹرٹیجک قدم اٹھانا تھا اٹھا لیا اب جو کچھ کرنا ہے پاکستان نے کرنا ہے ان حالات میں قوم کی فوج کے ساتھ توقعات بڑھ گئی ہیں اور قوم چاہتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی مدد کی جائے اس سلسلہ میں فوج اپنی حکمت عملی خود ترتیب دے ۔ انشاءاللہ یکجہتی کشمیر کے حوالہ ہماری جد جہد جاری رہے گی ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ کراچی میں بے مثال یکجہتی مارچ پر وہاں کے عوام کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کراچی کی عوام نے جس جوش و ولولہ کے ساتھ باہر نکلے ہیںانہوں نے باقی عوام کو بھی باہر نکلنے کا راستہ دکھایا ہے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ ماہ محرم الحرام کا آغاز ہو چکا ہے ان ایام میں خانوادہ رسول ﷺ اور شہداءکربلا کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا ۔ ان حالات میں اسلام دشمن قوتیں فساد پیدا کرنے کے درپے ہیں ،موجودہ حالات میں ہندوستان سے بھی خیر کی توقع نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ڈویژنل اور ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر امن کانفرنسز منعقد کی جائیں اور امن کے قیام کے لئے ہر شخص اپنا کردار ادا کرے

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس