Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

کے الیکٹرک کے خلاف 302اور دہشت گردی کی دفعات کےمقدمات تحت درج کیے جائیں۔ حافظ نعیم الرحمن


کراچی /21اگست2019ء:جماعت اسلامی کی جانب سے کے الیکٹرک کی نااہلی وناقص کارکردگی، شہریوں سے لوٹ مار اور حالیہ بارشوں میں کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو ان کا حق اور انصاف فراہم کرنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کردی ہے۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اپنے وکلاء کے ہمراہ یہ پٹیشن دائر کی، اس موقع پر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے صدر و امیر جماعت اسلامی ضلع قائدین سیف الدین ایڈوکیٹ، عمر فاروق ایڈوکیٹ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے انچارج عمران شاہد ودیگر بھی موجود تھے۔بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم نے کے الیکٹرک کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کردی ہے جس میں ہم نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ سندھ حکومت اور سندھ پولیس کو ہدایت کی جائے کہ کے الیکٹرک کے خلاف ایف آئی آر دفعہ 302اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کی جائیں،اب تک جتنی بھی ایف آئی آر درج ہوئی ہیں ان میں نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جائے،عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں، کے الیکٹرک کو حکم دیا جائے کہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس 5کروڑ کی رقم بطور ہرجانہ ادا کرے،کے الیکٹرک کو ہدایت کی جائے کہ لوگوں کو کرنٹ سے بچانے کے لیے بین الاقوامی اسٹینڈرڈ کے حفاظتی اقدامات کرے، وفاقی وصوبائی حکومت کے الیکٹرک کے معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کریں اور کے الیکٹرک کے ناقص انتظامات اور کرنٹ لگنے سے اموات پر مشتمل رپورٹ ہائی کورٹ میں پیش کرے۔حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہاکہ ہم نے ہائی کورٹ میں وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے جس میں نیپرا اور سندھ حکومت کو فریق بنایا گیا ہے، کسی بھی ادارے کو پرائیوٹائز کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی منظوری شامل ہوتی ہے،ملک میں قوانین، آئین اور عدالتیں موجود ہونے کے باجود مظلوم کو انصاف نہیں ملتا،صرف ریمارکس دیے جاتے ہیں اور اس کے بعد مقدمہ چلتا رہتا ہے،جماعت اسلامی نے تین سال قبل کے الیکٹرک کے خلاف سپریم کورٹ میں کراچی کے عوام کا مقدمہ پیش کیا تھا جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہوسکا اور آج ہم نے پھر سے کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے تقریبا 40افراد کے جاں بحق ہونے کے خلاف اور ان کے ورثاء کو ان کا حق اور انصاف دلانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائرکی ہے۔انہوں نے کہاکہ کھمبوں میں کرنٹ اور بڑے  پیمانے پر اموات سے عوام الناس میں شدید دہشت پھیلی ہوئی ہے،لوگوں نے بارش میں گھر سے نکلنا چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے معمولات ِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے تھے،اس کی سب سے بڑی وجہ کے الیکٹرک کا ناقص سسٹم ہے۔نیپرا کی رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک کو 361ملین ڈالر انفرااسٹرکچر اور ٹرانسمیشن کو بہتر بنانے کے لیے خرچ کرنا تھا لیکن انہوں نے سوائے لوٹنے کے کچھ نہیں کیااور آج بھی وہ نیپرا میں کہتے ہیں کہ 21ارب روپے مزید دیے جائیں،افسوس ہے کہ نیپرا بھی کے الیکٹرک کو تحفظ فراہم کرتا نظر آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ کے الیکٹرک کی جانب سے پولیس کو کہاجاتا ہے کہ ایف آئی آر درج نہ کی جائے،سندھ پولیس کو چاہیئے کہ اس طرح کی کسی بھی موت کی صورت میں اگر ورثہ نہ بھی رجوع کریں تو از خود FIR درج کرائے۔ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی غیر فطری موت کی صورت میں جرم پتہ ہونے کی صورت میں کارروائی کرے۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں کہیں بھی لوگ اس طرح کرنٹ لگنے سے ہلاک نہیں ہوتے یہاں تک کہ پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی جہاں کراچی سے دس گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ وہاں بھی ایسے سانحات رونما نہیں ہوتے، حکومت پاکستان اور حکومت سندھ کو چاہئے کہ اپنی اپنی سطح پر کے الیکٹرک کے خلاف حفاظتی اقدامات نہ کرنے پر سخت کارروائی کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیس بک،انسٹاگرام اور نمائشی تصویر پوسٹ کرنے سے صفائی نہیں ہوتی، آج تینوں پارٹیاں ایک ساتھ مل کر شہر کی صفائی کے لیے کراچی کے عوام سے چندہ جمع کررہی ہیں جو کہ انتہائی شرمناک عمل ہے، اگر واقعی ان پارٹیوں کو کراچی کے شہریوں کا کوئی خیال ہے تو وزیر اعظم پاکستان سے 162ارب روپے میں سے 2ارب روپے لے لیں اور شہرکی صفائی کے لیے خرچ کریں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس