Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

کے الیکٹرک کو فی الفور قومی تحویل میں لے کر اس کی لوٹ مار اور بدعنوانیوں کی تفتیش کی جائے ۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی /09اگست 2019ء:جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ کے الیکٹرک کو فوری طور پر قومی تحویل میں لینے کا حکم دیا جائے، اسٹیک ہولڈرز کی کمیٹی بنائی جائے،فارنزک آڈٹ کیا جائے اور سسٹم کو چلانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انویسمنٹ کی جائے، جتنی سبسیڈی حکومت کی جانب سے کے الیکٹرک کو دی جارہی ہے اگر یہ صحیح انداز سے استعمال ہوتی تو مزید پیسوں کی ضرورت نہیں،کے الیکٹرک کے پرائیویٹائز یشن کے عمل کو عوام کے سامنے لایا جائے،کے الیکٹرک کی غفلت اورکرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو 5کروڑ روپے فی کس ادا کیے جائیں،کے الیکٹرک مالکان اور اعلی عہدیداران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے،صوبائی و شہری حکومت کو ہدایات جاری کریں کہ کراچی کو اون کریں اور کراچی کے عوام کے لیے کام کریں،عوام عدالت کے ریمارکس سے آگے فیصلوں کے منتظر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں پارکوں، ہسپتالوں،اسکولوں اور دوسرے رفاہی پلاٹوں پر سیاسی جماعتوں کے قبضوں کے حوالے سے نعمت اللہ خان کی پٹیشن کی سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کے صدر سیف الدین ایڈوکیٹ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے نگراں عمران شاہد اورکرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہاکہ آج سپریم کورٹ کے باہر کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء سپریم کورٹ سے انصاف مانگنے آئے ہیں اور سوال کررہے ہیں کہ ہمارے بچوں کا کیا قصور تھا، ہمیں کون انصاف دلائے گا؟ان مظلوموں کو اداروں کی جانب سے انصاف ملنے کے بجائے سڑکوں دھکے کھانے پڑ رہے ہیں۔تھانوں میں تنگ کیا جا رہا ہے۔المیہ یہ ہے کہ وفاقی،صوبائی اور شہری حکومت کے الیکٹرک کے خلاف صرف زبانی جمع خرچ سے کام لے رہی ہے۔گزشتہ دنوں کے الیکٹرک کے خلاف سماعت میں جسٹس گلزار کے ریمارکس کراچی کے عوام کی دلوں کی آواز تھی، اب بات صرف ریمارکس کی حد تک نہیں بلکہ 14سال سے کے الیکٹرک پرائیوٹائز ہونے کے بعد سے اب تک جتنے بھی لوگ اس میں شامل ہیں ا ن سب کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیئے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کے الیکٹرک کے مالکان کے خلاف دفعہ 302 لگنی چاہیئے اور ورثاء کو انصاف ملنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان تحریک انصاف سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ 162ارب روپے جو کراچی کے لیے مختص کیے گئے تھے وہ کہاں گئے؟،اب وہ کس لیے کراچی کے عوام سے صفائی کے نام پر فنڈ اکھٹا کررہے ہیں؟ نالوں کی صفائی کے لیے مختص کڑوڑوں روپے بلدیہ کراچی نے ہڑپ کر لیے،کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی و شہری حکومت کے مختص بجٹ کہاں خرچ کیے گئے، شہر کی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر موجود ہیں،نالوں اور سیوریج کا کوئی نظام موجود نہیں ہے،شہری وصوبائی حکومتیں صرف ایک دوسرے پر الزامات لگاتی رہی ہیں اور کراچی کے عوام کا استحصال کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ کراچی کا ماس ٹرانزٹ پروگرام کہاں ہے؟، شہر میں ٹرانسپورٹ کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے، شہر میں ہزاروں دکانیں توڑی گئیں،لاکھوں روپے کانقصان کیا گیا اور ہزاروں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا لیکن ابھی تک کسی کو بھی معاوضہ نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ ایک سال میں کے الیکٹرک نے 38کروڑ روپے وکلاء کو صرف فیس کی مد میں ادا کیے،عدالت عظمیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ کراچی کے عوام کا مقدمہ سنیں،2010میں نعمت اللہ خان نے جو پٹیشن دائر کی تھی اور اس کی آج سماعت کے موقع پر ہم چیف جسٹس سے یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور سندھ حکومت کو پابند کرائیں کہ کراچی کے مسائل حل کریں

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس