Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حکومت بھارتی سفارتخانے کو تالہ لگائے اور اسلامی ممالک سے اپیل کرے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات ختم کرکے مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دیں ۔سینیٹرسراج الحق


لاہور9اگست  2019ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت بھارتی سفارتخانے کو تالہ لگائے اور اسلامی ممالک سے اپیل کرے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات ختم کرکے مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دیں ۔مشرف دور میں ایل او سی پر لگائی گئی باڑ کو توڑ دیا جائے ۔حکمران کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر لگاتے ہیں انہیں ایل او سی پر جاکر بھارت کو للکارنا ہوگا۔پاک فوج کی قیادت سے بھی کہتا ہوں کہ جہاد فی سبیل اللہ کے ماٹو کا تقاضا ہے کہ عملاً کشمیریوں کی مدد کی جائے۔قوم کو اپنی فوج پر مکمل بھروسہ اور اعتماد ہے لیکن ہمیں بھارتی فوج کے ناپاک قدم مظفر آباد کی طرف بڑھنے کا انتظا ر نہیں کرنا چاہئے۔ کشمیری عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ،پاکستان کے بائیس کروڑ غیور عوام اور ایٹمی قوت کا حامل پاکستان آپ کی پشت پر ہے ۔آر ایس ایس والے بدمعاش ہیں مگر ہم مجاہد ہیں اور جہاد پر یقین رکھنے والے موت سے نہیں ڈرتے ۔کشمیر چار ایٹمی ممالک کے درمیان ہے ۔کشمیر میں اگر جنگ چھڑ گئی تو نہ صرف یہ خطہ اس تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں آئے گا بلکہ پوری دنیا اس سے متاثر ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے کشمیر بچائو مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کشمیر بچائو مارچ کے شرکاء سے سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم ،نائب امیر میاں محمد اسلم ،امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ مشتاق احمدخان صوبہ شمالی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر راجہ جواد احمد ،شمس الرحمن سواتی ،سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان قیصر شریف و دیگر بھی موجود تھے ۔کشمیر بچائو مارچ میں جماعت اسلامی کے کارکنوں سمیت عوام نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیر کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہے ۔پاکستانی قیادت کو بزدلی چھوڑ کر غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔وزیر اعظم مثالیںٹیپو سلطان کی دیتے ہیں اور پوچھتے شہباز شریف سے ہیں کہ کیا کروں ؟وزیر اعظم واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو آئیں میں انہیں راستہ دکھاتا ہوں ۔وہ راستہ پوچھناچا ہیں تو سید صلاح الدین انہیں راستہ دکھانے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمران سنجیدگی سے مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کی بجائے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی آپس میں لڑتے رہے اور حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو گالیاں دیتی رہی ،حکومت اور اپوزیشن کشمیریوں کیلئے کچھ کرنے کی بجائے اپنے مفادات کیلئے لڑ رہے ہیں۔وزیروں اور مشیروں کی تقریروں میں کشمیر کا کوئی ذکر ہے نہ کشمیریوں کیلئے کوئی درد ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو اپنی لڑائیاں ایک طرف رکھ کر کشمیریوں کی مصیبت اور پریشانی کا حل ڈھونڈنے کی طرف توجہ دینا ہوگی ۔اس مسئلہ کو سبو تاژ کرنے کی ہر کوشش مودی کے حق میں جائے گی۔اگر کشمیر کی آزادی کیلئے جاری مزاحمت ختم ہوئی تو عوام یہی کہیں گے کہ مشرف سے لیکر آج تک کے حکمران اس کھیل میں برابر کے شریک ہیں۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم افغانستان میں افغانوں کی حکومت چاہتے ہیں تاکہ خطے میں امن ہو اور کشمیر کو بھی آزادی ملے ۔افغانستان میں قیام امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہے ،پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران آئی ایم ایف کے حکم پر اپنی پالیسیاں تبدیل نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ میں جلد ہی کشمیر ی قیادت کے ساتھ مشاورت سے قوم کو آئندہ کا لائحہ عمل دونگا۔  

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس