Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

فیصلے ایوانوں میں نہیں کہیں اور ہورہے ہیں ،آئی ایم ایف جو بھی فیصلہ کرتی ہے وہ من وعن تسلیم کرلیا جاتا ہے۔امیرالعظیم


لاہور 20جولائی 2019ء:سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو اب بھی یقین نہیں کہ وہ حکومت میں ہیں ،فیصلے ایوانوں میں نہیں کہیں اور ہورہے ہیں ،آئی ایم ایف جو بھی فیصلہ کرتی ہے وہ من وعن تسلیم کرلیا جاتا ہے، حکمرانوں میں دم مارنے کی جرا ¿ ت نہیں۔ حکومت کی معاشی پالیسیاں بری طرح ناکام ہوگئی ہیں ۔ مہنگائی ،بے روز گاری اور غربت نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے ،حکومت آئے روز ضروریات زندگی کی قیمتیں بڑھا کر عوام کی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے ۔معاشی بدحالی میںدن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔حکومت نے سب سے زیادہ نوجوانوں کو مایوس کیا ہے ،ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرنے والوں نے پانچ لاکھ سے زائد لوگوں سے روز گار چھین لیا ہے اور پچاس لاکھ گھربنانے کا نعرہ لگانے والوں نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر کردیا ہے ۔حکومت کو ووٹ اور سپورٹ دینے والوں کی توقعات اور امیدوں پر پانی پھر گیا ہے ۔ملکی مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ قوم ملک میں نظام مصطفیﷺ کے نفاذ کیلئے اٹھ کھڑی ہو اور جماعت اسلامی کا ساتھ دے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جاری جماعت اسلامی لاہور کی لیڈر شپ ٹریننگ ورکشاپ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ٹریننگ ورکشاپ سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان عبد الغفار عزیز اور امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر عبد العزیز عابد و دیگر بھی موجود تھے ۔  

امیر العظیم نے کہاکہ قادیانیوں کے ساتھ حکومت کا نرم رویہ اور سرپرستی نہ صرف اسلام بلکہ آئین پاکستان سے بھی بے وفائی ہے۔ حکومتی رویہ ملک میں بے چینی کی فضا پیدا کررہا ہے۔ ملک میں آئین و دستور کی بالا دستی اور آمریت اور غیرآئینی حکومتوں کی مخالفت جماعت اسلامی کی جدوجہد کا طرہ ¿ امتیاز رہا ہے ۔ حکومت ابھی تک شش وپنج میں ہے اور اپنے اکھڑتے قدموں کو جمانے میں لگی ہوئی ہے، عام آدمی کی خوشحالی اور استحکام حکومت کا مطمع نظر نہیں ۔پاکستان کی سا لمیت اور استحکام اس کے نظریے کے ساتھ وابستہ ہے ۔ملک کے نظریاتی تشخص کی حفاظت کیلئے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔جماعت اسلامی نظریہ پاکستان پر غیر متزلزل ایمان رکھنے والوں کو اکٹھا کررہی ہے تاکہ ملک کی جغرافیائی سرحدوںکے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کو بھی محفوظ بنایا جاسکے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس