Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرارداد معاشی صورتحال اور بجٹ


۱۔جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلسِ شوریٰ نے اپنے اجلاس منعقدہ 5 تا 7 جولائی، 2019 میں پاکستانی معیشت اور بجٹ 2020-2019 کا تفصیلی جائزہ لیا  جس کے نتیجہ میں درج ذیل  حقائق سامنے آئے:-

•گذشتہ سال  2019-2018 ایک نظر میں:

2019-2018 کے اکنامک سروے کے مطابق پاکستانی معیشت کی شرح نمو 6.2 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.29 فیصد رہی۔  زرعی  سیکٹر میں 3.8 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 0.85 فیصد شرح نمو حاصل ہوئی، صنعتی سیکٹر میں 7.6 فیصد گروتھ کے ہدف کے مقابلے میں 1.4 فیصد گروتھ حاصل ہوا اور سروسز سیکٹر میں 6.5 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں  4.7 فیصد گروتھ حاصل ہو سکا۔  سال 2019-2018 کے پہلے 9 ماہ میں 3583.7 بلین روپے ریونیو اکٹھا ہوا  جو (GDP کا 9.3 فیصد ہے) جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں جی ڈی پی کا ÷ 1 کم ہے۔ ٹیکس ریونیو میں صرف 1.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نان ٹیکس ریونیو میں 16.7 فیصد کمی ہوئی۔ دوسری طرف   اخراجات میں  پہلے 9 ماہ یعنی جولائی ، 2018 سے مارچ، 2019 تک 8.7 فیصد اضافہ ہوا۔  ترقیاتی اخراجات  گذشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد کم رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

•              2020-2019 کے بجٹ کے اعلان کے موقع پر اہم معاشی اعدادو شمار ایک نظر میں:

•              مجموعی قرضہ 31 کھرب روپے، جس میں سے تقریباً  100  بلین ڈالر بیرونی قرضہ ہے۔ اندرونی قرض تقریباً 18 کھرب روپے اور بیرونی قرض تقریباً 13 کھرب روپے۔کْل قرض   GDP کے 86 فیصد سے زیادہ۔ ہر شہری 153،000 روپے کا مقروض۔ قانونی طور پر مجموعی قرض  GDP  کے 60فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔

•              کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (بین الاقوامی تجارت میں درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق)  24 بلین ڈالر جس میں گذشتہ سال کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں 4 بلین ڈالر کی کمی آئی ہے جو کہ حکومتی اندازہ کے مطابق سال کے اختتام تک 7 بلین ڈالر ہو جائے گا۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں درآمدات میں کمی(جوکہ پہلے دس ماہ میں 49 بلین ڈالر سے کم ہو کر 45 بلین ڈالر رہ گئیں) ۔ علاوہ ازیں سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں 2 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ چین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے 9.2 بلین ڈالر کی امداد سے بھی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کچھ بہتری آئی۔ اب قطر کی طرف سے بھی 3 بلین ڈالر قرض ملا ہے جس کی پہلی قسط وصول ہو چکی ہے۔ ان قرضوں سیحکومت نے 10 بلین ڈالر کے بین الاقوامی واجب الادا قرض اور سود کی ادائیگی کی ہے۔ بصورت دیگر تو ملک پی ٹی آئی کی حکومت کے 9 ماہ میں دیوالیہ ہو رہا تھا۔ لیکن بڑھتے ہوئے قرضوں کے باعث دیوالیہ ہونے کا شدید خطرہ ٹلا تو ہے لیکن ختم نہیں ہوا

•              مالیاتی خسارہ (آمدنی اور اخراجات کا فرق) 2260 بلین روپے۔ GDP کا 6 فیصد سے زیادہ۔

•              بجلی کے نظام کا  گردشی قرضہ 1200 بلین روپے  اور اس میں  38 بلین روپے ماہانہ کا اضافہ ہو رہا تھا۔

•              پبلک سیکٹر انٹرپرائزز  میں 1300 بلین روپے کا  مجموعی خسارہ۔

•              افراط زر کی شرح 6 فیصد سے زیادہ۔10 روزمرہ ضرورت کی اشیاء میں 14.8 فیصد اضافہ۔مثلاً  اگست، 2018 کے مقابلہ میں جون، 2019 میں 10 کلو آٹا کا تھیلہ 385 روپے سے 415 روپے (7.53 فیصد)، چینی فی کلو 55.59 روپے فی کلو سے  70.83 روپے (27.4 فیصد)، دال ماش 146.27 روپے فی کلو سے 171.43 روپے (17.2 فیصد) ، کھانے کا تیل (2.5 لیٹر) 479.74 روپے سے 525.99 روپے (9.64 فیصد)،  اور چائے کی پتی  (200 گرام) 203.55 روپے سے 219.51 روپے (7.66 فیصد)۔ 

•              زرِ مبادلہ کے زخائر  10 بلین ڈالر کے قریب رہ گئے جو کہ  2 ماہ سے بھی کم در آمدی بل کو پورا کر سکتے ہیں۔

•              سعودی عرب سے 3.2 بلین ڈالر کی سالانہ  پیٹرولیم مصنوعات ادھار پر لینے کی سہولت۔ اسلامی ترقیاتی بینک سے 1.1 بلین ڈالر کا فوری ادائیگی کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی سہولت۔

۳۔           2020-2019 کا بجٹ  ایک نظر میں:

•              2020-2019 کے بجٹ کا حجم 8.238 کھرب  روپے ہے جو کہ گذشتہ بجٹ (6.419 کھرب روپے)سے 28.33 فیصد زیادہ ہے۔ بجٹ خسارہ 3.151  کھرب  روپے (7.1 فیصد)  رکھا گیا ہے۔اس بجٹ خسارہ کو پورا کرنے کے لئے 339 بلین بینکوں سے قرضہ لیا جائے گا جبکہ 582.7 بلین  پبلک ڈیٹ(مختلف اقسام کے پرائز بانڈز وغیرہ)،  250.8 بلین پبلک اکاونٹ(نیشنل سیونگ سکیمز اورجی پی فنڈ وغیرہ) ، 150 بلین پرائیوٹائزشن، 1828.8 بیلن بیرون ملک سے قرض لئے جائیں گے۔

•              2020-2019 کے بجٹ میں 516 بلین روپے  کے نئے  ٹیکسز لگائے گئے ہیں، تنخواہ دار طبقے کے لئے گذشتہ سال ٹیکس نیٹ میں آنے کے لئے 12 لاکھ روپے سالانہ (1 لاکھ روپے ماہانہ)کی حد رکھی گئی تھی جس کو اس سال کم کرکے 50 ہزار روپے ماہانہ  (6 لاکھ روپے سالانہ) کر دیاگیا ہے یعنی اس آمدن سے زیادہ پر ٹیکس لگے گا۔ Immovable property  کی قیمتوں میں اضافہ ،  چینی پر سیلز ٹیکس 8 فیصد کی بجائے 17 فیصد کا اضافہ ، کارپوریٹ ٹیکس ریٹ  29 فیصد  پر فکس کر دیا گیا، خوردنی تیل پر 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ، مقامی طور پر بننے والی کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگا دی گئی، سیمنٹ اور سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی گئی۔ فنانس بل کے مطابق  فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 70 بلین کا اضافہ ، سیلز ٹیکس کی مد میں 200 بلین روپے کا اضافہ، انکم ٹیکس کی مد میں بھی 200 بلین روپے کا اضافہ اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 30 بلین روپے کا اضافہ ہو گا۔ علاوہ ازیں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں 300 بلین روپے تک کی چھوٹ (exemptions) ختم کی گئی ہیں۔ تنخواہ دار طبقے کی آمدن پر ریٹ کے اضافے کے نتیجے میں 50 بلین روپے اضافی ریونیو متوقع ہے۔ سٹیل سیکٹر کو نارمل سیلز ٹیکس میں لانے کے نتیجے میں 30-25 بلین روپے کا ریونیو حاصل ہو گا۔ سیمنٹ پر 1.5 روپے فی کلو ایکسائز ڈیوٹی کو بڑھا کر 2 روپے فی کلو کر دیا گیا۔  LNG پر 17.18 روپے فی 100 کیوبک میٹر  سے بڑھا کر10 روپے فی MMBTU  کر دیا گیا۔  export  کے 5 سیکٹرز (ٹیکسٹائل، لیدر، قالین سازی، کھیلوں کا سامان اور سرجیکل اشیاء ) پر 0 ریٹ  سیلز ٹیکس ختم کر کے 17 فیصد سیلز ٹیکس لگا دیا گیا جس کے نتیجے میں 90-80 بلین روپیہ ریونیو اکٹھا ہونے کی توقع ہے۔ علاوہ ازیں 150 بلین روپے8 پبلک سیکٹر انٹرپرائزز کو  پرائیوٹائز کر نے سے حاصل ہونگے ان میں نیشنل پاور کمپنی لمیٹڈ، 1230 میگاواٹ حویلی بہادر شاہ پلانٹ ، 1223 میگاواٹ بلوکی پاور پلانٹ،  SME بینک لمیٹڈ، سروسز انٹرنیشنل ہوٹل،  جناح کنوینشن سنٹر اسلام آباد، لاکھڑا کوئلے کی کان اور فرسٹ ومین بینک وغیرہ شامل ہیں۔

۴۔مرکزی مجلس شوریٰ ملک کی معاشی صورتحال کے تناظر میں بجٹ برائے سال 2020-2019 کا جائزہ لینے کے بعد  اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ :-

i۔            IMF کا  6 بلین ڈالر کا پیکیج لینے کے لئے اْنکی پیشگی شرائط کو قبول کیا گیا ہے اور بجٹ اْ ن شرائط کے مطابق بنایا گیا ہے جن میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی(اس وقت  ایک امریکی ڈالر 157 پاکستانی روپوں کے برابر ہے)،   ڈسکاؤنٹ ریٹ (شرح سود)  میں اسٹیٹ بینک کی طرف سے اضافہ، یوٹیلیٹی چارجز میں مسلسل اضافہ۔

ii۔IMF کا پروگرام پاکستانی معیشت کو   choke کر دے گا اور اس کی شرح نمو 2 فیصد سے 2.5 فیصد رہ جائے گی اور پاکستان کو زیر اثر رکھنے کے لئے یہ واضع گیم پلان ہے۔  IMF  کے پروگرام کے نتیجے میں صنعتی پیداوار بری طرح سے متاثر ہو گی اور مقامی پیدا کی ہوئی اشیاء کے مقابلے میں درآمدی اشیاء سستی ہونگی۔

iii۔5500 بلین روپے  FBR کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس میں 2081.9 ارب روپے براہ راست ٹیکسز کے زریعے اور 3473.1 ارب روپے بالواسطہ ٹیکس کے زریعے جمع ہو نگے۔ ایک طرف براہ راست ٹیکسز کی بجائے بالواسطہ ٹیکسز کے زریعے ریونیو اکٹھا کرنا ترقی ِ معکوس کی عکاسی کرتا ہے۔ پوری مہذب دنیا میں بالواسطہ ٹیکس کو منصفانہ نہیں سمجھا جاتا اور دوسری طرف5500 بلین روپیکے مجموعی ہدف کا حصول عملی طور پر ناممکن ہے جس سے بجٹ خسارہ میں اضافہ ہو گا ، جس کی وجہ سے اپنے ڈیفیس اخراجات اور ترقیاتی اخراجات کم کرنے پڑیں گے جو کہ حکومت کو مزید مشکل میں ڈال دے گا۔FBR جولائی، 2018 سے اپریل، 2019 تک اپنے ہدف 3.338 کھرب کے مقابلہ میں 2.993 کھرب حاصل کر سکا یعنی 345 بلین روپے کم۔ اس پس منظر میں  FBR 2020-2019 میں 5500 بلین روپے کیسے جمع کر سکے گا؟۔ اطلاعات کے مطابق  FBR نے 5.1 کھرب روپے ہدف مقرر کرنے کی سفارش کی تھی۔محاصل کی وصولی میں اضافہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے میڈیم ٹرم پالیسی فریم ورک کا مظہر ہیجو کہ غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ اس تصور کا محور حقیقی ریونیو کلیکشن اور ریونیو پوٹینشل کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے جو کہ عملی طور پر ممکن نہیں۔

iv۔         مختلف ٹیکسوں کی مختلف چھوٹوں کو یکسر ختم کرنا دانش مندانہ قدم نہیں، سال 2019-2018 میں ٹیکس چھوٹ کا مجموعی حجم 540.98 بلین روپے تھا۔

v۔           حکومت کا اکانومی کو دستاویزی بنانے کا ہدف تو حاصل نہیں ہو سکے گا لیکن عام آدمی کی زندگی مہنگائی ، افراط زر اور بے روز گاری کی وجہ سے اجیرن ہو جائے گی۔ 

vi۔         Exportکے حوالے سے پانچوں سیکٹر(ٹیکسٹائل، لیدر، قالین سازی، کھیلوں کا سامان اور سرجیکل اشیاء ) پر سے 0 ریٹ سیلز ٹیکس ہٹانے کی وجہ سے ان سیکٹرز کی بر آمدات میں کمی آئے گی اور بر آمد کنندگان کو ملنے والے سیلز ٹیکس ری فنڈز میں تاخیری حربے استعمال ہونے کی وجہ سے برآمد کنندگان کا سرمایہ بلاک ہو گا جس کے اثراتِ بد کاروبار پرپڑیں  گے۔

vii۔        تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار طبقے پر لاگو ٹیکس ریٹ کے اضافہ کے نتیجے میں یہ طبقات بری طرح متاثر ہو ں گے۔

viii۔      ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو اہے اور مہنگائی کا طوفان آ گیا ہے۔

ix۔         حکومت نے منتخب نمائندوں کی بجائے  IMF کی بھیجی ہوئی ٹیم (بالخصوص مشیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان) کے سپرد ملکی معیشت کر دی ہے اور IMF کی شرائط پر عمل کر کے کبھی بھی ملکی معیشت درست سمت پر نہیں آ سکے گی۔ IMF کی شرائط پاکستان کو آزاد اوار خود مختار پالیسی اختیار کرنے کی بجائے  مضM اپنا محتاج بنا کے  رکھے گی۔

x۔           پاکستان تحریک انصاف اور اْسکی قیادت نے جولائی ، 2018 کے الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے دوران بذریعہ اپنے منشور جو وعدے کئے تھے اُن تمام کی یکسر خلاف ورزی کی ہے۔ مثلاً عمران خان کا یہ کہنا کہ باہر سے قرض لینے کی بجائے خودکشی کو ترجیحی دیں گے ، یوٹیلیٹی بلز میں اضافہ کو حکمران کی براہ راست نا اہلی گرداننا اور عوام کو ریلیف مہیا نہ کرنے پر حکمران کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرانا وغیرہ۔ نو دس ماہ کی تحریک انصاف کی حکومت نے ان تمام دعوں کے بر عکس پالیسیاں اختیار کی ہیں۔ احتساب پر اتنا زور دینے کے باوجود اور سابقہ دونوں حکمران خاندانوں کی گرفتاریوں کے باوجود  لوٹی ہوئی دولت کی وصولی میں ناکامی قابل تفتیش امر ہے۔

۵۔           مرکزی مجلسِ شوریٰ کی رائے میں IMFکے نسخے کو اپنانے کی بجائے قرآن و سنت کے حق پر مبنی ابدی اصولوں پر عمل کر کے ہم موجودہ  معاشی بحران سے نکل کر جلد از جلد مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کا خواب حقیقت میں ڈھل سکتا ہے۔ ارتکاز ِ دولت کے خاتمہ کے لئے اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے لئے اسلام کے قانونِ وراثت پر اسکی روح کے مطابق عمل کرنا ، ہر قسم کی ہورڈنگ (Hoarding) ، سٹے بازی ، کمار بازی ، غائب سودوں پر پابندی ، مصنوعی طریقوں سے قیمتیں بڑھانے کو سختی سے روکنا، سود کا مکمل خاتمہ ، تمام حرام زرائع سے دولت کمانے پر پابندی ، حکومتی اخراجات میں   50 فیصد تک کمی ، غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی اور برآمدات میں اضافہ ، زراعت میں فی ایکڑ اوسط پیداوار میں اضافہ، زکوٰۃ اور عشر کو صحیح طریقے سے جمع کرنا، شراکت داری کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ، میڈیا پر لوگوں کو سادگی اپنانے کے لئے ذہن سازی کرنا، ملک کے اندر  vocational  اور Technical  تعلیم کو عام کرنا، عدل کے حصول کو سستا اوراُس کا فوری حصول آسان بنانا اور قانون کے سامنے ہر ایک کو برابر کی سطح پر لا کر کھڑا کرنا اور کفالتِ عاما کے ذریعے ہر شہری کو بنیادی ضروریات کو یقینی بنانا اور بلا کسی تخصیص کے احتساب کے نظام کو موثر بنانے سے ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتی ہے اور عام شہری خوشحالی کی زندگی بسر کر سکتا ہے۔ ساتواں این ایف سی ایوارڈ کئی سال پہلے اپنی معیاد پوری کر چکا ہے اس لئے فوری طور پر بدلے ہوئے حالات کے مطابق نئے این ایف سی ایوارڈ کا صوبوں کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے تاکہ مالی وسائل کی تقسیم وفاق اور صوبوں کے درمیان انصاف سے ہو سکے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ ایمنیسٹی سکیم متوقع نتائج نہیں دی سکی۔ کل ایک لاکھ دس ہزار افراد مستفید ہوئے اور 55 ارب روپیہ وصول ہوا۔ اس طرح کی سکیمیں ٹیکس چوری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور اُس کے برعکس دیانتداری سے ٹیکس ادا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔ #

 

 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس