Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرار داد برائے مزدور مسائل


ملکی معیشت کی ترقی میں بنیادی کردار مزدوروں کا ہے ،ان کی محنت سے ہی صنعت کاپہیہ چلتاہے لیکن انہیں بدلے میں مناسب ماحول ملتاہے اور نہ یہ محنت کش اپنی مزدوری کا پورا صلہ پاتے ہیں ۔ مزدور، اور ان کے خاندانوں کے لیے کوئی مناسب مراعات میسر نہیں ہیں ،ان کے بچوں کے لیے ملک کے کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے میں داخلے کاکوٹہ نہیں ہے۔

ہر کارخانے اور فیکٹری میں مزدوروں کے لیے کام کرنے کامناسب ماحول نہیں ہے ، اور انہیں حادثات سے بچائو کاکوئی مناسب بندوبست نہیں ہوتا ، نجی اور سرکاری صنعتی اداروں بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ نجی صنعتی اداروں میں بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کامعاوضہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے حساب سے دیاجاتا ہے فیکٹریوں میں انسپیکشن کانظام ختم ہوچکا ہے ۔ صنعتوں اور تجارتی اداروں اور ملازمین کی رجسٹریشن نہیں کی جاتی ۔ فیکٹری ملازمین کو تقرری لیٹر اور دیگر قانونی دستاویز ،مہیا نہیں کی جاتیں جب کہ ایک سادہ کاغذ پر استعفیٰ لکھوایا جاتا ہے۔ اس طرح کارکنوں کو کنٹریکٹ ورکرز ظاہر کیاجاتا ہے۔ مستقل ملازمتوں کے بجائے ٹھیکیداری نظام رائج کردیا گیاہے۔ حکومت کے لیبر ڈیپارٹمنٹ کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔ Informal Sectorمیں پونے چھ کروڑ لیبر فورس ہے انہیں لیبر قوانین اور سوشل تحفظ کے قوانین کے دائرے میںنہیں لایاگیا۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے لیبر کو حفاظتی آلات بھی فراہم نہیں کیے جاتے ۔ جس کے باعث ہر سال 200کان کن موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ انہیں سوشل سیکورٹی بھی حاصل نہیں ہے ۔ تنخواہ بھی بہت کم ہے۔ جماعت اسلامی ان مزدوروں کو جماعت اسلامی لیبر (JIلیبر)کے نام سے منظم کرے گی اور ان کے حقوق کے حصول کے لیے ایک بڑی مہم چلائی جائے گی۔

حالیہ وفاقی بجٹ میں بھی کم آمدنی والے کارکنوں اور غیر تنخواہ دار مزدوروں کی آمدنی پر بھی ٹیکس نافذ کردیاگیاہے لیکن وزیراعظم ،وزرائے اعلیٰ ، گورنرز ،وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے لیے مراعات میں کمی نہیں ہوئی ۔ مزدور کے لیے اشیائے ضروریہ آٹا ، چینی ،دالیں تک خریدنا مشکل ہوتا جارہاہے ۔ چینی کی قیمت میں ساڑھے تین روپے فی کلو اضافہ نے کسی سرمایہ دار کو متاثر نہیں کیا بلکہ یہ فیصلہ اس کے منافع میں اضافہ کا باعث بنا ہے ، ادویات کی قیمتوں میں دو سو فی صد اضافہ ہوچکا ہے ۔ بجلی ، گیس کے بلوں کے ٹیرف نے ایک عام آدمی جو دو سو تین سو یونٹ استعمال کرتاہے ۔ اس کے لیے بجلی ، گیس کابل اداکرنا مشکل بن گیاہے۔ صورت حال یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھ جائے تو سمجھیں ہر چیز مہنگی ہوگئی ۔ حکومت کاکہیں بھی روک ٹوک اور کنٹرول نہیں ہے ، آئین میں اٹھارہویں ترمیم نے مزید انتظامی مسائل بڑھا دیئے ہیں ۔ اب مرکز اور صوبوں کے لیبر قوانین میں فرق ہے ان میں کوئی مطابقت نہیں رہی ۔ این آئی آر سی اور لیبر کورٹس میں ہزاروں مقدمات کئی سالوں سے زیر التوا ہیں جس سے انصاف کے حصول میں تاخیر ہوتی جارہی ہے۔ این آئی آر سی مالکان اور انتظامیہ کاادارہ بن گیا ہے ۔ حقیقی ٹریڈ یونین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور پاکٹ یونینزکو تحفظ دیاجاتا ہے۔ یہ ادارہ عدلیہ کے ماتحت ہونا چاہیے۔

جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس محنت کشوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کی مذمت کرتاہے اور مطالبہ کرتاہے کہ لیبر قوانین پر عمل کیاجائے ، محنت کش کی کم ازکم اجرت تیس ہزار روپے کی جائے ، پینشن میں سو فی صد اضافہ کیاجائے ، ای ۔او۔ بی آئی کے لیے اور سوشل سیکورٹی کے لیے مزدوروں کی رجسٹریشن لازمی کی جائے ۔ مزدوروں کی ملازمتوں سے برخاستگی ختم کی جائے ۔ فیکٹری انسپکشن لازمی قرار دی جائے ، این آئی آر سی کو مکمل کیاجائے۔ لیبر قوانین میں مرکز اور صوبوں میں مطابقت لائی جائے ، لیبر کورٹس میںزیر التواء مقدمات کا فیصلہ جلد کیاجائے، بجٹ میں غیرتنخواہ داراوردیہاڑی دار مزدور پر ٹیکس واپس لیاجائے اور ادویات کی قیمتوں اضافہ واپس لیاجائے۔ مزدور ،کسان غریب طبقہ کے لیے اشیاء ضروری پر خصوصی سبسڈی دی ۔ آٹا ، دال ، گھی ، چائے ، چاول وغیرہ ۔

EOBIمیں ہونے والی میگاکرپشن کاکیس سپریم کورٹ میں گزشتہ چھ سال سے زیر سماعت ہے۔ لیکن یتیموں اور بیوائوں کے اس مال کاکوئی والی وارث نہیں ہے۔ کہیں سنجیدگی اور توجہ سے پیروی نہیں کی جارہی ۔ اسی طرح ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF)سے ڈیتھ گرانٹ ، میرج گرانٹ اور مزدوروں کے بچوں کو تعلیمی وظائف کی بر وقت ادائیگی نہیں ہوتی۔ سال ہا سال تک ان فنڈز کا بے جا استعمال کیاجاتا ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس