Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار دادسیاسی صورت حال


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس موجودہ حکومت کی ہر لحاظ سے انتہائی مایوس کن کارکردگی اور اس کی معاشی و سیاسی ، قانونی و پارلیمانی اور داخلہ و خارجہ پالیسیوں کی یکسرو مکمل ناکامی کو ایک بدترین قومی المیہ قرا ر دیتاہے۔ پاکستان کی تاریخ میں جس تیز رفتاری سے یہ حکومت مکمل ناکام اور غیر مقبول ہوئی ہے۔ وہ بجائے خود ایک ریکارڈہے ۔حکومت اپنے اعلان کردہ سود ن پھر چھ ماہ پھر دو ماہ میں اپنے ایجنڈے کی طر ف ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکی اور ایک سال گزرنے کے بعد بھی آج زیر وپوائنٹ پر ہی ہے۔ 350ڈیمز ،پچاس لاکھ سستے گھر ، ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار ، دس ارب درخت ، شاہانہ اخراجات اور غلامانہ پروٹوکول کا خاتمہ جیسے اعلانات محض خواب و خیال بن گئے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے اعلان کے مطابق خود کشی کرنے کی بجائے آئی ایم ایف کے پاس جانے اور اس کی بدترین شرائط کو ماننے کا فیصلہ کرکے قوم کو انتہائی مایوس کیاہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط معاشی ہی نہیں سیاسی غلامی کی بدترین دستاویز ہیں۔ جسے کوئی بھی مہذب اور آزاد وخودمختار ملک کسی صورت قبول نہیںکرسکتا۔ آئی ایم ایف کی قسط ملنے سے پہلے ہی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کو 164روپے تک پہنچاکر ملکی کرنسی کی بے قدری اور بے توقیری کی انتہاکی گئی ہے۔ بجلی ، گیس کی قیمتوں میں کئی مرتبہ اور کئی کئی گنا اضافہ ،عالمی منڈی میں ریکارڈ کمی کے باوجود تیل کے ناقابل برداشت نرخ ، آٹا ، گھی ، چینی ، دودھ ، دالیں ، سبزیاں ،پھل ، کھاد ، بیج ،ادویات وغیرہ کی قیمتوں میں دنوں کے نہیں گھنٹوں کے حساب سے اضافہ نے عوام کے غم و غصہ کو کئی گنا بڑھا دیا ہے اور اب غریب عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مرحلہ تک پہنچ چکے ہیں۔

بجٹ کو پارلیمانی روایات اور قواعد و ضوابط کے مطابق منظور کرانے کی بجائے غیر پارلیمانی ہتھکنڈوں سے عوام پر مسلط کیا گیاہے۔ ناروا ٹیکسوں کی بھرمارکی وجہ سے ٹیکسٹائل سمیت متعد د صنعتی یونٹ بند ہوچکے ہیں۔ کاروباری طبقہ میں بے اعتمادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے بھی عوامی مسائل کی بجائے اپنے رہنمائوں کی رہائی کو اصل ایجنڈا قرار دے کرعوام کو سخت مایوس کیا ہے ۔ ان حالات میں جماعت اسلامی پاکستان نے طے کیاہے کہ وہ حقیقی اور سب سے مضبوط وفعال اپوزیشن کاکردار ادا کرے گی۔ ہم نے ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن کو سہار ا دینے کی بجائے غربت اور مہنگائی کے مارے عوام کو سہارا دینے کا راستہ اپنایا ہے۔

ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ ملک میں متحدہ اپوزیشن کا سرے سے کوئی وجود نہیں۔ عوام کو مہنگائی ،بے روزگار ی کے عذاب میں تنہا چھوڑنے والی اپوزیشن پارٹیوں نے ابھی تک بعض سیاست دانوں کی گرفتاری کے موضوع پر صرف ایک اے پی سی کی ہے جبکہ اس دوران جماعت اسلامی لاہور ، فیصل آباد ، کراچی میں بڑے بڑے عوامی مارچ منعقد کرچکی ہے۔ جن میں ہزاروں مرد و زن شامل ہوئے ہیں۔ اسی طرح ملتان سمیت ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں میں عوامی مظاہروں کے پروگرام بن چکے ہیں۔ جن کی تیاریاں شروع ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کی نظر میں یہ تاثر قومی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے کہ سیاسی فیصلے بھی پارلیمنٹ کی بجائے کسی دوسرے ادارے کی طرف سے کیے جارہے ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اور عوام اور کاروباری طبقہ سمیت ہر شعبۂ زندگی پر بھاری شرح سے ٹیکسوں کے نفاذ جیسے فیصلوں کے بارے میں غیر سیاسی ادارے کے سیاسی بیانات انتہائی تشویشناک ہیں۔ سینٹ آف پاکستان کی قرار داد کی تائید کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی واپسی کامطالبہ کرتی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے بھارت جیسے جارحیت پسند اور کشمیر پر غاصبانہ قابض ملک کے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن بننے کے خلاف لابی بنانے کی بجائے اسے پاکستان کی تائید فراہم کرنا ، نظریہ پاکستان ،آئین پاکستان اور متفقہ قومی کشمیر پالیسی سے مکمل انحراف اور کشمیریوں کے لہو سے غداری ہے۔ اسی طرح مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کا نعرہ لگا کر عالمی سیکولر ایجنڈے کو پروان چڑھانا قادیانی غیر مسلم اقلیت کو مسلسل سہولتیں دینا اور مظلوم فلسطینیوں کی بجائے ظالم صہیونیوں کا ساتھ دینا۔ موجودہ حکومت کے ناقابل معافی جرائم ہیں۔ ہم حکومت پر واضح کرتے ہیں کہ دینی ،ملی اور قومی معاملات کو چھیڑنے کی جسارت نہ کرے اور یاد رکھے کہ قو م میں تحریک نظام مصطفی ،تحریک ختم نبوت اور تحریک ناموس رسالت ﷺ والے جذبات اور قربانیاں دینے کاحوصلہ پہلے سے زیادہ شدت سے موجود ہے۔

اجلاس سیاست میں ناشائستگی غیر سنجیدگی ،طنزیہ جملہ بازی ، سوشل میڈیا کے ذریعے گالم گلوچ کی باہمی گولہ باری پر شدید تشویش کااظہار کرتاہے۔ پالیسیوں اور کارکردگی میں ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے منفی طرز سیاست کافروغ قومی وقار پر حملہ کے مترادف ہے۔ ہم اس طرز سیاست کی واضح مذمت کرتے ہیں۔

اجلاس واضح کرتاہے کہ حکومتی ناکامیوں کے باوجود سیاست یا جمہوریت سے مایوسی کی کوئی وجہ موجود نہیں ۔ جمہوری نظام میں ناکام حکومت کا جواب کامیاب حکومت ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان عوام کو اُمید دلاتی ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان موجودہ سیاسی خلاء میں ایک بہترین متبادل کے طور پر موجود ہے۔ جماعت اسلامی ایک مکمل جمہوری جماعت ہے۔ یہ خاندانی اور موروثی سیاست سے قوم کو نجات دلا کر ایک حقیقی قیادت فراہم کرسکتی ہے۔ جماعت اسلامی گروہ بندی سے بالا تر اور اتحاد اُمت کی داعی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی کے کسی سابق یا موجودہ ممبر (اسمبلی و سینٹ) یا کسی بھی رہنما کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ۔ جماعت اسلامی گڈگورننس اور کرپشن فری سیاست کا عملی مظاہرہ صوبہ خیبر پختونخوا ،کراچی ، دیر و دیگر مقامات پر کرچکی ہے۔اور اس کی بہترین کارکردگی کے ان علاقوں کے عوام ہی نہیں جماعت اسلامی کے مخالفین بھی معترف ہیں۔ جماعت اسلامی کے پاس ایک مکمل اور قابل عمل منشور موجود ہے۔ اسی لیے جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ عوامی احتجاجی ریلیوں اور رابطہ عوام مہم پورے جوش و جذبہ سے جاری رکھے گی ۔ اسی طرح ہم شیڈوکابینہ کی طرز پر اپنی مجالس قائمہ اور ورکنگ گروپس کی رپورٹس کے ذریعہ معاشی استحکام ، مہنگائی کے خاتمہ ،ٹیکسیشن پالیسی ، داخلہ و خارجہ پالیسیوں و دیگر موضوعات پر متبادل پالیسیوں اور لائحہ عمل کاعوام کے سامنے اظہار کرتے رہیں گے۔

جماعت اسلامی پاکستان ایک مرتبہ پھر اعلان کرتی ہے کہ کرپشن فری پاکستان کے قیام اور’’ احتساب سب کا‘‘ کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ او ر ہم پانامہ لیکس میں شامل 436کرپٹ عناصر کے بلاامتیاز ،منصفانہ اور بے لاگ احتساب او ر لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے نیب اور عدلیہ کے دروازوں پر دستک دینے کے علاوہ کرپشن کے خلاف قوانین کی اصلاح اور پارلیمنٹ کے اندر و باہر احتجاج کاراستہ اختیار کریں گے۔ ہم موجودہ حکومت کے کرپشن کے خلاف اقدامات کو یکطرفہ جانبدارانہ ،غیر منصفانہ اور ادھورا قرا ر دیتے ہیں۔ اس لیے کہ اب تک لوٹی ہوئی دولت کاایک روپیہ بھی قومی خزانے تک نہیں پہنچاجبکہ اپنی جماعت کو چھوڑ کر صرف مخالفین کے احتساب نے بھی احتسابی عمل کو مشکوک بنادیا ہے۔ یہ طرزعمل ظالموں کو مظلوم بنانے اور کرپشن کے خلاف عوامی جذبات کو سرد کرنے کے مترادف ہے۔

ہم واضح کرتے ہیںکہ کرپٹ عناصر کاتعلق ماضی کی حکومتوں سے ہو یا موجودہ حکمرانوں سے، برسراقتدار سیاست دانوں سے ہو یا حزب اختلاف میں موجود سیاست دانوں سے ،سول و ملٹری بیوروکریسی سے ہویا عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے سے ہم ان شاء اللہ سب کے بے لاگ احتساب کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔اسی طرح جماعت اسلامی انتخابی نظام کی اصلاح اور متناسب نمائندگی کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔

یہ اجلاس اعلان کرتاہے کہ عوام کو ان کے مسائل کے حل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ جماعت اسلامی مہنگائی بے روز گاری ، بدامنی ، لاقانونیت اور کرپشن کے خلاف سب سے توانا اور بلند آہنگ آواز بن کر عوام کی قیادت کرے گی۔

ہم پاکستانی عوام کو بھی متوجہ کرتے ہیں کہ ماضی میں بار ی باری برسراقتدار حکومتوں کی طرح موجود ہ حکومت بھی عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ ہمارے مسائل کا حل اسلامی نظام کے مکمل نفاذ اور دیانتدار قیادت کے برسراقتدار آنے میں مضمر ہے۔ جماعت اسلامی فرقہ پرستی سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کی خدمت کرتی رہی ہے۔ اور اب بھی اقلیتوں کے تحفظ سمیت پاکستانی قوم کے تمام مسائل کا حل اور ماہرین پر مشتمل دیانتدار ٹیم صرف جماعت اسلامی کے پاس موجود ہے اور ہم ان شاء اللہ مایوسی و نا اُمیدی کے اندھیروں میں امُید اعتماد دارالیقین کے چراغ روشن کرتے رہیں گے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس