Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

موجودہ حکومت کی ہر لحاظ سے انتہائی مایوس کن کارکردگی اورمکمل ناکامی ایک بدترین قومی المیہ ہے۔قرارداد


لاہور 9جولائی 2019ء:جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شورٰی نے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی زیر صدارت ہونے والے اپنے حالیہ اجلاس میں ایک قرار داد منظور کی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت کی ہر لحاظ سے انتہائی مایوس کن کارکردگی اور اس کی معاشی و سیاسی ، قانونی و پارلیمانی اور داخلہ و خارجہ پالیسیوں کی یکسرو مکمل ناکامی کو ایک بدترین قومی المیہ قرا ر دیاہے۔ قرار داد میں کہاگیاہے کہ پاکستان کی تاریخ میں جس تیز رفتاری سے یہ حکومت مکمل ناکام اور غیر مقبول ہوئی ہے، وہ بجائے خود ایک ریکارڈہے ۔حکومت اپنے اعلان کردہ سود ن پھر چھ ماہ پھر دو ماہ میں اپنے ایجنڈے کی طر ف ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکی اور ایک سال گزرنے کے بعد بھی آج زیر وپوائنٹ پر ہی ہے۔ 350ڈیمز ،پچاس لاکھ سستے گھر ، ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار ، دس ارب درخت ، شاہانہ اخراجات اور غلامانہ پروٹوکول کا خاتمہ جیسے اعلانات محض خواب و خیال بن گئے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے اعلان کے مطابق خود کشی کرنے کی بجائے آئی ایم ایف کے پاس جانے اور اس کی بدترین شرائط کو ماننے کا فیصلہ کرکے قوم کو انتہائی مایوس کیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط معاشی ہی نہیں سیاسی غلامی کی بدترین دستاویز ہیں۔ جسے کوئی بھی مہذب اور آزاد وخودمختار ملک کسی صورت قبول نہیںکرسکتا۔ آئی ایم ایف کی قسط ملنے سے پہلے ہی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کو 164روپے تک پہنچاکر ملکی کرنسی کی بے قدری اور بے توقیری کی انتہاکی گئی ہے۔ بجلی ، گیس کی قیمتوں میں کئی مرتبہ اور کئی کئی گنا اضافہ ،عالمی منڈی میں ریکارڈ کمی کے باوجود تیل کے ناقابل برداشت نرخ ، آٹا ، گھی ، چینی ، دودھ ، دالیں ، سبزیاں ،پھل ، کھاد ، بیج ،ادویات وغیرہ کی قیمتوں میں دنوں کے نہیں گھنٹوں کے حساب سے اضافہ نے عوام کے غم و غصہ کو کئی گنا بڑھا دیا ہے اور اب غریب عوام تنگ آمد بجنگ آمد کے مرحلہ تک پہنچ چکے ہیں۔ بجٹ کو پارلیمانی روایات اور قواعد و ضوابط کے مطابق منظور کرانے کی بجائے غیر پارلیمانی ہتھکنڈوں سے عوام پر مسلط کیا گیاہے۔ ناروا ٹیکسوں کی بھرمارکی وجہ سے ٹیکسٹائل سمیت متعد د صنعتی یونٹ بند ہوچکے ہیں۔ کاروباری طبقہ میں بے اعتمادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے بھی عوامی مسائل کی بجائے اپنے رہنماﺅں کی رہائی کو اصل ایجنڈا قرار دے کرعوام کو سخت مایوس کیا ہے ۔ ان حالات میں جماعت اسلامی پاکستان نے طے کیاہے کہ وہ حقیقی اور سب سے مضبوط وفعال اپوزیشن کاکردار ادا کرے گی۔ ہم نے ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن کو سہار ا دینے کی بجائے غربت اور مہنگائی کے مارے عوام کو سہارا دینے کا راستہ اپنایا ہے۔ قرار داد میں کہا گیاہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی نظر میں یہ تاثر قومی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے کہ سیاسی فیصلے بھی پارلیمنٹ کی بجائے کسی دوسرے ادارے کی طرف سے کیے جارہے ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس اور عوام اور کاروباری طبقہ سمیت ہر شعبہ ¿ زندگی پر بھاری شرح سے ٹیکسوں کے نفاذ جیسے فیصلوں کے بارے میں غیر سیاسی ادارے کے سیاسی بیانات انتہائی تشویشناک ہیں۔ سینٹ آف پاکستان کی قرار داد کی تائید کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی واپسی کامطالبہ کرتی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے بھارت جیسے جارحیت پسند اور کشمیر پر غاصبانہ قابض ملک کے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن بننے کے خلاف لابی بنانے کی بجائے اسے پاکستان کی تائید فراہم کرنا ، نظریہ پاکستان ،آئین پاکستان اور متفقہ قومی کشمیر پالیسی سے مکمل انحراف اور کشمیریوں کے لہو سے غداری ہے۔ اسی طرح مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کا نعرہ لگا کر عالمی سیکولر ایجنڈے کو پروان چڑھانا قادیانی غیر مسلم اقلیت کو مسلسل سہولتیں دینا اور مظلوم فلسطینیوں کی بجائے ظالم صہیونیوں کا ساتھ دینا۔ موجودہ حکومت کے ناقابل معافی جرائم ہیں۔ ہم حکومت پر واضح کرتے ہیں کہ دینی ،ملی اور قومی معاملات کو چھیڑنے کی جسارت نہ کرے اور یاد رکھے کہ قو م میں تحریک نظام مصطفی ،تحریک ختم نبوت اور تحریک ناموس رسالت ﷺ والے جذبات اور قربانیاں دینے کاحوصلہ پہلے سے زیادہ شدت سے موجود ہے۔اجلاس سیاست میں ناشائستگی غیر سنجیدگی ،طنزیہ جملہ بازی ، سوشل میڈیا کے ذریعے گالم گلوچ کی باہمی گولہ باری پر شدید تشویش کااظہار کر تے ہوئے اس طرز سیاست کی مذمت کی گئی ہے ۔اجلاس واضح کرتاہے کہ حکومتی ناکامیوں کے باوجود سیاست یا جمہوریت سے مایوسی کی کوئی وجہ موجود نہیں ۔ جمہوری نظام میں ناکام حکومت کا جواب کامیاب حکومت ہے۔جماعت اسلامی پاکستان ایک مرتبہ پھر اعلان کرتی ہے کہ کرپشن فری پاکستان کے قیام اور” احتساب سب کا“ کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ او ر ہم پانامہ لیکس میں شامل 436کرپٹ عناصر کے بلاامتیاز ،منصفانہ اور بے لاگ احتساب او ر لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے نیب اور عدلیہ کے دروازوں پر دستک دینے کے علاوہ کرپشن کے خلاف قوانین کی اصلاح اور پارلیمنٹ کے اندر و باہر احتجاج کاراستہ اختیار کریں گے۔ ہم پاکستانی عوام کو بھی متوجہ کرتے ہیں کہ ماضی میں بار ی باری برسراقتدار حکومتوں کی طرح موجود ہ حکومت بھی عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ ہمارے مسائل کا حل اسلامی نظام کے مکمل نفاذ اور دیانتدار قیادت کے برسراقتدار آنے میں مضمر ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس