Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

جسٹس ارشد ملک کی سامنے آنے والی ویڈیو پر ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے ۔سینیٹرسراج الحق


لاہور 7جولائی 2019ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ جسٹس ارشد ملک کی سامنے آنے والی ویڈیو پر ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے ۔ آزاد عدلیہ ریاست کا ایک ستون ہے ۔ عوام غربت اورمہنگائی تو برداشت کرسکتے ہیں مگر ناانصافی اور عدلیہ کی ناکامی برداشت نہیں کرسکتے ۔ یہ ویڈیو پورے عدالتی نظا م پر سوالیہ نشان ہے ۔ حکومت ریاستی اداروں کو متنازع بنارہی ہے ۔ حکمران بغیر سوچے بولتے ہیں پھر یوٹرن لیتے ہیں اور آخرکار اداروں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں ۔ بڑے بڑے دعوﺅں اور وعدوں کے ساتھ آنے والی حکومت ایک سال میں ہی مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے اور اب عوام بھی اس حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں ۔ ایک سال میں یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ موجودہ حکومت سلیکٹڈ ہے یا الیکٹڈ۔ حقیقت یہ ہے کہ روزانہ ٹیکسوں پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔ حکومت برائے ریلیف نہیںبلکہ حکومت برائے ٹیکسز ہے۔ وزیراعظم کے امریکی دورے کی کامیابی کا انحصار ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی پر ہے اگر وہ واپسی پر قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ساتھ لے آئے تو میں ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کروں گا ۔ ٹرمپ سے ملاقات میں وزیراعظم کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کریں تاکہ کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے مرکزی شوریٰ کے تین روزہ اجلاس کے بعد منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر ، صوبائی امراءسینیٹر مشتاق احمد خان ، محمد حسین محنتی ، ڈاکٹر طارق سلیم ، جاوید قصوری اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم کو جموں و کشمیر پر معذرت خواہانہ رویہ چھوڑنا ہوگا ۔ بھارت کو سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبر کے لیے ووٹ دینا مسئلہ کشمیر اور نظریہ پاکستان سے بے وفائی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا اور ان کے راستے بند کر رہاہے ، دوسری طرف پی ٹی آئی حکومت سلامتی کونسل میں بھارت کی حمایت کر رہی ہے ۔

سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ اسمبلیوں پر سیاسی و معاشی دہشت گردوں کا قبضہ ہے ۔ پی ٹی آئی چوروں کا احتساب نہیں بلکہ شور شرابہ کر رہی ہے ۔ حکومت بیرونی بنکوں میں پڑے ہوئے 375 بلین ڈالر میں سے ایک پیسہ واپس نہیں لاسکی ۔ حکومت نے پانامہ کے 436 ملزموں کو پکڑا ہے نہ کرپشن کے 150 میگا سکینڈلز کو اب تک کھولا گیاہے ، دوسری جانب حکومت نے آئی ایم ایف کو وہ اختیارات دیے ہیں جو ایسٹ انڈیا کمپنی کو بھی حاصل نہیں تھے ۔ مہنگائی و بے روزگاری سے عوام کی چیخیں اور فریادیں بنی گالہ تک نہیں پہنچ رہیں ۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی مہنگائی ، بے روزگاری اور آئی ایم ایف کی غلامی کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلار ہی ہے ، 12 جولائی کو ملتان اور 19جولائی کو راولپنڈی میں عوامی مارچ کیے جائیں گے ۔

سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ کے چیئرمین کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اس وقت عوام کا ایشو چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی نہیں بلکہ مہنگائی ہے ۔ نیب کے چیئرمین کی تقرری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو چیئرمین نیب کی تقرری کا اختیار نہیں ہوناچاہیے بلکہ یہ اختیار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے پاس ہونا چاہیے تاکہ آزاد اور غیر جانبدار احتساب ہوسکے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس