Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ملک میں اسلام کیخلاف کسی بھی قانون کو قبول نہیں کیا جائے گا۔محمد حسین محنتی


کراچی 26جون 2019 جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دوسری شادی کے لیے بیوی کی اجازت کے ساتھ مصالحتی کونسل کی اجازت لازمی قراردینے والے فیصلے پراپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ملک میں اسلام کیخلاف کسی بھی قانون کو قبول نہیں کیا جائے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں شریعت اور اسلامی نظریاتی کونسل سے تجاوز کیا گیا ہے،عدالت اور معزز ججز کو شرعی اور اسلامی قوانین میں کسی بھی ترمیم یا نئی تشریح پیش کرنے کا مجاز نہیں ہیں۔انہوں نے جاری کردہ ایک بیان میںمزید کہا کہ سول اور سیشن کورٹ سے لیکر اعلیٰ عدلیہ میں لاکھوں کیسز پڑے ہوئے اور لاکھوں افراد انصاف کیلئے دھکے کھانے پر مجبور لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی، عدالتی اور انصاف کے سست روی اور فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے لوگ قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے کئی گھراجڑاور خاندان برباد ہوجاتے ہیں لیکن جہاں پر بھی اسلامی قوانین کی بات آتی ہے یا کسی مذہبی معاملے کو عدالت میں سازش کے تحت پیش کیا جاتا ہے تب عدالتیں فوری طور پر متنازعہ فیصلے دیکر اسلام پسند عوام اور ملکی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متنازعہ فیصلے دیتے ہیں جس سے معاشرے میں بگاڑ اور انتشار پیدا ہونے کا خطرہ ہے،دوسری شادی ہو یا تیسری یا دیگر شرعی قوانین کی وضاحت درکار ہو اسلامی نظریاتی کونسل موجود ہے جس میں جیدعلماءکرام موجود ہیں اسلئے ایسے مقدمات اور مسائل کے حل کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل میں پیش کیا جانا چاہئے۔ جماعت اسلامی مملکت خداداد پاکستان میں اسلام سے متصادم کسی بھی قانون کو ہرگز قبول نہیں کرے گی اور علماءکرام کے ساتھ ملکر بھرپور جدوجہد کریں گے۔سپریم کورٹ ہو یا ہائیکورٹ یا کوئی دوسرا ادارہ ہو قرآن وسنت کیخلاف کوئی بھی قانون بنانے کا حق نہیں رکھتی ہے کیونکہ شادی بیاہ ہو یا حدود کو نافذ کرنے کا مسئلہ چودہ سو سال پہلے نبی مہربان محمد نے اس کی واضح تشریح اور عمل کرکے ہمیں زندگی کے ہر معاملے پر بہترین اسوہ حسنہ کے ذریعے لائحہ عمل پیش کیا جس پر عمل کرنا تمام مسلمانوں پر فرض ہے،اسلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر دوسری شادی کے معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل میں پیش کیا جائے، واضح رہے کہ اسلام دوسری شادی کی اجازت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے دیتا ہے کہ پہلی بیوی کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے اسکے حقوق کو پورا کیا جائے اور دونوں بیویوں کے ساتھ انصاف ہو۔
--

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس