Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

آئی ایم ایف کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی غلامی اختیار کرنے میں ہی تمام مسائل کا حل مضمرہے۔محمدحسین محنتی


کراچی 24جون 2019 جماعت اسلامی سندھ کے امیروسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی بجائے اللہ اور اس کے رسول کی غلامی اختیار کرنے میں ہی تمام مسائل کا حل مضمرہے۔ ایک طرف ریاست مدینہ طرز کی حکمرانی کے دعوے تودوسری طرف سودی نظام معیشت، مہنگائی کا طوفان اور قادیانی نواز پالیسیاں کھلا تضاد ہے۔قیام پاکستان سے ابتک جو قرض لیا گیا ہے ان کا مکمل جائزہ لیا جائے، آئندہ قرض نہ لینے، سودی معیشت کے خاتمے کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاءپر ٹیکس ختم کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ ضلعی امیر حافظ طاہر مجید، صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا و دیگر ذمہ داران بھی ساتھ موجود تھے۔ اجلاس میں گذشتہ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ سمیت آئندہ کی منصوبہ بندی بھی کی گئی۔ دریں اثناءصوبائی امیر نے میڈیا سیل کے ذمہ دار حسن راشد کے والد عبدالحمید قرنی کی وفات پر ان کے گھر جاکر تعزیت، مرحوم کی مغفرت، بلند درجات کی دعا کی۔ محمد حسین محنتی نے مزید کہا کہ ہر سال ہر حکومت میںبجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے اپنے وعدوں کے بر عکس صرف 11 ماہ میں قرضے اور مہنگائی کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ حکمرانوں کی عیاشیوں و کرپشن کا خمیازہ عوام پر مختلف ٹیکس لگا کر ان کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے جو کہ ظلم و نا انصافیوںکے مارے عوام کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پہلے دن سے اصلاح معاشرہ، دیانتدار قیادت اور کرپشن فری پاکستان کےلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ 30 جون کو سہراب گوٹھ تاءمزار قائد سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں عوامی مارچ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ جماعت اسلامی کسی چور کو بچانے یا سابقہ حکمرانوں کو سہارا دینے کی بجائے مہنگائی کے خاتمے سمیت دیگر عوامی مسائل کے حل اور آئی ایم ایف کی غلامی سے نجات کےلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی کیونکہ ملک آج جن بحرانوں سے دوچار اور عوام مہنگائی کی لپیٹ میں اس کی ذمہ دار باری باری اقتدار پر قابض ہونے والی سابقہ حکمراں جماعتیں ہیں۔ صوبائی امیر نے کہا کہ جماعت اسلامی مخالفت برائے مخالفت نہیں بلکہ اچھے کاموں پر حکومت کی تحسین اور خراب کارکردگی پر اصلاح کی خاطر ان پر تنقید بھی کرتی رہے گے۔ حکومت کی نیت پر گوئی شک نہیں ہے مگر پالیسیاں اور ٹیم سابقہ حکومتوں والی ہے جس پرنظرثانی کی ضرورت ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس