Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

’’حکومت اور سیاسی جماعتیں ’صحت سب کے لیے‘ کو اپنا ایجنڈہ بنائیں ‘‘


اسلام آباد  20؍جون 2019ء:پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے مرکزی صدر پروفیسر محمد افضل میاں نے کہا ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں’’صحت سب کے لیے‘‘ کو اپنا ایجنڈہ بنائیں، آئین میں صحت کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دینے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ صحت کا بجٹ 600ارب تک بڑھایا جائے اور اس میں سالانہ 100ارب کا اضافہ کرنا چاہیے۔ تمباکو، مشروبات اور جنک فوڈ سے حاصل ہونے والا ٹیکس اور ریونیو صحت پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ نان کمیونی کیبل بیماریوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
اپنے بیان میں پیما صدر نے کہا کہ آئین میں صحت کو صوبائی موضوع قرار دے دیا گیا ہے لیکن مرکز کی جانب سے صوبوں کو کسی قسم کا کوئی وژن اور پالیسی نہیں دی گئی۔ اس وقت حکومت براہ راست اور بالواسطہ 460بلین روپے صحت پر خرچ کر رہی ہے جو مجموعی طور پر صحت کے شعبے میں خرچ ہونے والی رقم کا محض 25فیصد ہے۔ اس میں سے بھی 70فیصد تنخواہوں، 20فیصد ڈویلپمنٹ پروجیکٹس پر خرچ ہوتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ 10فیصد بجٹ استعمال ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ نان کمیونی کیبل ڈزیز (NCD)ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہیں لیکن حکومت کی ان پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ 210ملین کی آبادی میں سے 80ملین لوگ(38فیصد) ان امراض میں مبتلا ہیں۔ تقریباً 70فیصد اموات کی وجہ نان کمیونی کیبل ڈزیز ہیں جن میں ہائی بلڈ پریشر، کینسر، زیابیطس، سٹروک، تمباکونوشی اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ 40ملین لوگ ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہیں جن میں سے نصف تعداد اپنے مرض ہی کے بارے میں لاعلم ہے۔ NCD کے بارے میں عدم پالیسی کا شاخسانہ ہے کہ پاکستان میں روزانہ دل کے امراض سے 800افراد، کینسر سے 400افراد، سٹروک سے 400افراد، ٹراما /روڈ ایکسیڈنٹ سے 50افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ اس وقت 3لاکھ مریض گردے کے ڈائیلیسز کروا رہے ہیں اور ان کی تعداد میں سالانہ 40ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انفراسٹرکچر میں نجی اور سرکاری ہسپتالوں کو ملا کر 1593لوگوں کے لیے صرف ایک بیڈ اور 1073مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ حکومت اور تمام جماعتیں صحت کو اپنا ایجنڈہ بنائیں اور آئین میں صحت کو ہر شہری کا بنیادی حق قرار دینے کے لیے قانون سازی کریں۔ فوری طور پر نیشنل ہیلتھ سروے کروایا جانا چاہیے، حکومت کو کل اخراجات کا 50فیصد پرائمری کیئر اور بچاؤ (prevention) پر خرچ کرنا چاہیے۔ صاف پانی، ویکسی نیشن، حادثات کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے، عطائیت پر پابندی کو مؤثر کرنا چاہیے، تمباکونوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے حکومت، این جی اوز اور بالخصوص میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، خصوصی افراد پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، مہذب معاشروں میں ایسے افراد حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری سمجھے جاتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر، کینسر، زیابیطس، سٹروک اوردیگر نان کمیونی کیبل بیماریاں کے کنٹرول کے لیے مؤثر حکمت عملی بنانی چاہیے۔ بڑے شہروں میں نئے ہسپتالوں کے قیام کی بجائے تمام ڈسٹرکٹ و تحصیل ہیڈ کواٹرہسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے تمام سہولیات مہیا کی جانی چاہئیں، اس سے بڑے شہروں کے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہونے میں بھی مدد ملے گی، اور معیاری علاج بھی مہیا کیا جا سکے گا۔#
 

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس