Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

کپتان نے علی بابا کوجیل میں ڈال کرچالیس چوروں کواپنے ساتھ شامل کرلیا ، اس سے تبدیلی کیسے ممکن ہے۔امیرالعظیم


لاہور 19جون 2019 ء:سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم نے کہاہے کہ تحریک انصا ف کی حکومت جس شاخ پربیٹھی ہے اسے ہی کاٹ رہی ہے،عمران خان حکومت میں ہوتے ہوئے بھی پارلیمنٹ کے اندرکنٹینر والی سیاست کررہے ہیں کبھی حکومتی ارکان، اسمبلی کی کاروائی میں رکاو ٹ نہیں ہوتے بلکہ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ باہمی احترام سے اسمبلی کی کاروائی چلتی رہے لیکن اس کے برعکس قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی جمہوریت کےلئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں ۔ان خیالات کااظہارانھوں نے راولپنڈی میں صدرنیشنل لیبرفیڈریشن شمس الرحمن سواتی اور امیرضلع راولپنڈی راجہ محمدجواد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

امیرالعظیم نے کہاکہ کپتان نے علی بابا کوجیل میں ڈال کرچالیس چوروں کواپنے ساتھ شامل کرلیا ، اس سے تبدیلی کیسے ممکن ہے عوامی مسائل کا حل اورملک کوبحران سے نکالنے کےلئے حکومت واپوزیشن سمیت ہراس کرپٹ اوربددیانت کااحتساب ضروری ہے جس نے ملکی خزانے کولوٹ کراپنے محلات اوربنک بیلنس بنائے ،قانونی یاغیرقانونی جن ذرائع سے بھی ملکی دولت بیرون ملک منتقل کی گئی اسے واپس لاناناگزیرہے اس کی واپسی کے بغیرمعاشی بحران کا حل ممکن نہیں۔انھوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کس بات پراحتجاج کریں گی جوالزامات وہ تحریک انصاف پرلگاتی ہیں اپنے دورحکومت میں وہ سب اقدامات انھوں نے خود کئے ہیں،جبکہ تحریک انصاف توپی پی ،ن لیگ او رمشرف لیگ کا نیا ورژن ہے وہ احتساب کی بات توکرتے ہیں لیکن جن کااحتساب ہونا ہے وہ کابینہ کا حصہ بھی ہیں ۔

امیرالعظیم نے کہاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے مسودہ کوبجٹ کا نا م دیا گیا لیکن حقیقت میں وہ آئی ایم ایف کے ٹیکسوں کاانسائیکلوپیڈیا ہے ۔حکومت نے مہنگائی کا جن قابو کرنے کی بجائے ہردن نئے ٹیکس لگائے اوراب بجٹ کی صورت آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق عوام کے گلے میں ڈالا جارہاہے جوکسی طوربھی قابل قبول نہیں جماعت اسلامی نے لاہورسے عوامی احتجاج کا آغازکردیا ہربڑے شہرمیں احتجاجی مارچ ہوں گے ہم عوام کو ظالموں کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑسکتے۔امیرالعظیم نے کہاکہ پاکستان میں کبھی الیکشن شفاف نہیں ہوئے ہمیشہ پیسے والے الیکشن کوخریدلیتے ہیں ہیلی کاپٹراورموٹرسائیکل والے کا مقابلہ کیسے ممکن ہے ایک طرف امیدوارچند لاکھ خرچ کرتا ہے جبکہ دوسری جانب سرمایہ داراور جاگیرداراپنے کروڑوں اوراربوں خرچ کرکے قوانین کی دھجیاں بکھیررہاہوتا ہے اس پر الیکشن کمیشن خاموش تماشائی کاکرداراداکرتا ہے ،اگرسرمایہ لگا کرجیتنے والا عوام کی خدمت کرے پھربھی ہمیں اعتراض نہیں لیکن وہ توانویسٹ کرکے منافع کمانے کےلئے اپنی تمام ترصلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے کرپشن اورلو ٹ مارکانیابازارگرم کرتا ہے۔انھوں نے کہاکہ موجودہ طرزانتخاب میں بڑی تعداد میں ووٹ ضائع ہوتے ہیں دنیا کے بیشتر ممالک متناسب نمائندگی کی طرف جاچکے ہیں لیکن پاکستان اور ہندوستان سمیت چند ممالک اس فرسودہ طرزانتخاب کوجاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں متناسب نمائندگی کے قیام سے انتخابی عمل کی شفافیت میں اضافہ ہوگا۔

Youtube Downloader id

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس