Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرار داد برائے مسائل اُمت


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلا س قبلہ اول سے دست بردار ہونے اور سرزمین اقصیٰ پر صہیونی قبضہ تسلیم کرنے کے لئے جاری سودے  بازی کو یکسر مسترد کرتا ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ بیان کہ صدی کے سب سے بڑے سودے Deal of the cnturyکا اعلان آئندہ جون میںکیاجائے گا ،نہ صرف امت مسلمہ بلکہ دنیا کے ہر انصاف پسند انسان کے لئے انتہائی صدمہ خیز اورقطعاً ناقابل قبول ہے ۔صدیوں سے اپنی سرزمین پر بسنے والے لاکھوں فلسطینی عوام کوکوئی طاقت کبھی بھی ان کے بنیادی حقوق اور مسلم امت کے مقدس مقامات کی حفاظت سے محروم نہیں کر سکتی۔فلسطینی عوام اپنی مسلسل اور لازوال قربانیوں کے ذریعے یہی اعلان کر رہے ہیں۔ غزہ کی پٹی پر بسنے والے 9لاکھ سے زائد عوام گزشتہ 12سال سے صہیونی حصار تو برداشت کرر ہے ہیں ۔لیکن انہوں نے کسی صورت سرزمین بیت المقدس سے دست برداری قبول نہیں کی ۔مجلس شوریٰ پوری اُمت مسلمہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سرزمین اقصیٰ پر سودے بازی کے کسی بھی طرح کے منصوبے کے بارے میں بیدار و چوکنا رہے ۔یہ مجلس مسلمان حکمرانوں بالخصوص حکومت پاکستان کو خبردار کرتی ہے کہ وہ کسی بھی مفاد و اقتدار کے لالج یا درپیش دھمکیوں کا شکار ہو کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت میں خیانت کی مرتکب نہ ہو۔ایسی کوئی جسارت آخرت ہی نہیں، دنیا میں بھی بدترین خسارے کا باعث ہوگی ۔

l              یہ اجلاس شام،یمن اور لیبیا میں جاری خانہ جنگی ،مصر،اراکان برما اور بنگلہ دیش سمیت کئی اہم مسلم ممالک میں ہونے والی حقوق انسانی کی بدترین خلاف ورزیوں، ترکی ،سعودی عرب ،ایران اور تیونس کے خلاف تیار ہونے والے تباہ کن منصوبوں اور الجزائر و سوڈان میں عوامی تحریک کو اس کے اصل مقاصدکے حصول سے محروم کر دینے کے لئے کی جانی والی سازشوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔

l              شام میں گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران پانچ لاکھ 22ہزار شہری شہید ہوچکے ہیں ۔ 20لاکھ سے زائد زخمی اور سوا کروڑ سے زائد افراد مختلف ملکوں کے مہاجر کیمپوںکی خاک چھاننے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہر خوفناک کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 6برس سے 60ہزار سے زائد بے گناہ سیاسی قائدین وکارکنان کو جیلوں میں بدترین تشدد کانشانہ بنایا جارہاہے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں بے گناہ شہید ہوچکے ہیں۔ مزید 4ہزار افراد کو نام نہادعدالتوں کے ذریعے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ اندوہ ناک حقیقت یہ ہے کہ مصری عوام پر ناقابل بیان ظلم ڈھانے والے ڈکٹیٹر عالمی اور صہیونی سرپرستی کی وجہ سے گزشتہ ہفتے ایک جعلی ریفرنڈم کا ڈھونک رچا کر 2030ء تک اقتدار میں رہنے کاانتظام کرچکاہے۔

l              یمن میں باغی حوثی قبائل کی طرف سے مسلط کردہ جنگ یمن ہی کوتباہ نہیں کررہی سعودی عرب اور ایران کے علاوہ خطے کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ عالمی طاقتیں نہ صرف اسرائیل کے ساتھ مسلم دنیا کی سودے بازی کروانا چاہتی ہیں بلکہ یمن اور شام کی جنگ کادائرہ وسیع کرتے ہوئے ایران اور سعودی عرب کو آمنے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ یہ اجلاس اپنے تمام برادر مسلم ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایسی ہر عالمی سازش سے خبردار رہیں جن کا اصل مقصد بالآخر سب کی تباہی ہے ۔

l              اس حقیقت سے بھی خبردار رہناہوگاکہ پاکستان اور ایران وافغانستان کے مابین بھی تنازعات ونفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں ۔اجلاس  تینوں برادر پڑوسی ممالک سے اپیل کرتاہے کہ وہ عیار دشمن کی چالوں اور نادان دوستوں کی حماقتوں سے چوکنا رہیں اور تینوں پڑوسی ملکوں میں دہشت گردی کا جال پھیلانے کے لیے کوشاں بھارتی خفیہ اداروں کے منصوبوں سے بھی خبردار رہیں۔

l              اس وقت الجزائر اور سوڈان میں ایک بھرپور عوامی تحریک چل رہی ہے ، جن کا مقصد ملک میں حقیقی جمہوری بحال کرناہے لیکن مختلف طاقتیں اس پر امن جدوجہد کو خوں ریز لڑائی میں بدلنے اور اسلامی تحریکوں کے خلاف اکسانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔دونوں برادر ملکوں کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے بنیادی اور جمہوری حقوق کے تحفظ اور ملک میں ایک منتخب اور شفاف نظام یقینی بنانے کے لیے اپنی بے مثال جدوجہد ضرور جاری رکھیں لیکن ان تمام فتنہ جو عناصر سے بھی باخبر رہیں جو اس جدوجہد کو ملک میں انارکی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

l              بنگلہ دیش میں گزشتہ دس سال سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ 50ہزار سے زائد سیاسی مخالفین کو جیلوں اور تشدد کانشانہ بنایاجا چکاہے۔ نام نہاد ،عدالتی کاروائیوں کے ذریعے بے گناہ سیاسی قائدین کو پھانسیاں دینے کا عمل جاری ہے۔ حالیہ ماہ اپریل میں ایک اور سیاسی رہنما ہدایت اللہ کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ عالمی ادارے اس حکومتی دہشت گردی کا سخت نوٹس لیں ۔

l              بنگلہ دیش میں پناہ گزیں لاکھوں اراکانی مہاجر ین کبھی ناقابل تصور مشکلات کا سامنا ہے ، لیکن حکومت نے کئی ملکی اور عالمی امدادی تنظیموں کو ان کی مدد کرنے سے روک رکھاہے۔ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ حقوق انسانی کے ادارے یہ رکاوٹیں دور کروائیں اور مؤثر قانونی کاروائی کرتے ہوئے حکومت بنگلہ دیش کو آئندہ ایسے اقدامات سے باز رکھے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس