Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار داد برائے انسداددہشت گردی ،لاپتہ افراد کی بازیابی



مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان کا اجلاس اس امر کو گہرے تشویش کی نظر سے دیکھتاہے کہ 16دسمبر 2014ء کو ہونے والے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے بعد دہشت گردی کو قابو کرنے کے لیے 20نکاتی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دے دیاگیا،جس میں دہشت گردی کی ایسی تعریف کی گئی جس میں بنیادی انسانی حقوق اور اظہاررائے پر دہشت گردی کے خلاف تمام تر اقدامات او رمہم کارخ مذہب اور مدرسے کی طرف موڑ دیا گیاتھا۔ جماعت اسلامی پاکستان نے اسی وقت اس بات کی نشاندہی کردی تھی کہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں ۔ تاہم اس مہم کو غلط بنیاد پر اٹھایا جارہاہے اورمساجد و مدارس کو ہدف بنا کر اسے غلط رخ دیاجارہاہے ۔مثبت مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ 

مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان یہ مطالبہ کرتی ہے کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کو مذہب سے نہ جوڑا جائے اور اس کا قلع قمع کرنے کے لیے پلان کے دائرہ کار میں ہر طرح کی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو لایاجائے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا ،فاٹا اور دیگر شہروں میں دہشت گردی کے واقعات سے پوری قوم میں اضطراب اور خوف کی کیفیت ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مدارس کادہشت گردی یا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان واقعات اور  دہشت گردی کی ذمہ داری ان اداروں پر نہیں ڈالی جاسکتی ۔ اسی طرح ماضی میں کسی مدرسے سے تعلق رکھنے والے کسی فرد یا واقعہ کی بنیاد پر تمام مدارس دینیہ کے خلاف عمومی مہم یا پروپیگنڈہ کابھی کوئی جواز نہیں ہے۔

مدارس دینیہ نے اصلاحات اور جسٹریشن سے بھی انکار نہیں کیا لیکن ایک طرف رجسٹریشن کے لیے ایسی شرائط اور ایسا طریقہ کار وضع کیاجاتاہے جو اس کام کوتقریباًناممکن بنادیتاہے اور دوسری طرف ان سے رجسٹریشن کاتقاضا کیاجاتاہے۔اورمقتدر حلقے اپنی اس روش پر نظر ثانی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ مدارس کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور مدارس پر کریک ڈائون کا سلسلہ بند کیاجائے۔

جماعت اسلامی پاکستان کا یہ اجلاس ایجنسیوں کے ہاتھوں ہزاروں افراد کی گمشدگی پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے۔ جنرل مشرف کے آمرانہ دور سے پولیس اور ایجنسیوں کے ہاتھوں نوجوانوں ،  بزرگوں ، خواتین اورشہریوں کو اغوا کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور ان میں سے کچھ لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا اور باقی افراد کو ایجنسیوں نے اپنے پاس رکھا اور تفتیش کے نام پر ان کو عقوبت خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے اور طرح  طرح کے مظالم کیے جاتے ہیں ۔

جیتے جاگتے انسانوں کو وجہ بتائے بغیر اٹھانا اور انسانیت سوز سلوک کرنا آئین پاکستان اور قانون سے ماورا ہو کر کیاجارہاہے۔ صوبہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی ایک طویل فہرست ہے جن میں نوجوانوں ، بزرگوں کے علاوہ خواتین کو بھی اغوا کیا جاتارہاہے ۔ ان میں سے کئی اغوا کئے گئے افراد کو تشدد کرکے قتل کر دیا گیااور ان کی مسخ شدہ لاشوں کو مختلف جگہوں پر پھینک دیا جاتارہاہے جس پر پورے بلوچستان میںنفرت اور غصے کی کیفیت اور بلوچ نوجوانوں میں بغاوت کا جذبہ پیدا ہورہاہے ۔

مرکزی مجلس شورٰی جماعت اسلامی کا یہ اجلاس ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ کیے جانے والے ہزاروں افراد پر سخت احتجاج کرتاہے ۔یہ ایک بالکل غیرآئینی اورانتہائی غیر قانونی عمل ہے ۔اعلیٰ عدالتوں کے علاوہ پارلیمنٹ کو بھی اس کا فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے ۔ مزید برآں ہم حکومت پاکستان ، صوبائی حکومتوں اور ایجنسیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر لاپتہ افراد کو رہا کریںتاکہ وہ اپنے مضطرب اہل خانہ کے ساتھ شامل ہو کر آزاد ملک کے آزاد شہری کی حیثیت سے اطمینان کی زندگی بسر کرسکیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس