Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرار دادبرائے مدینہ کی اسلامی ریاست


موجودہ حکومت پاکستان کو ’’مدینہ کی اسلامی ریاست ‘‘کے وعدے کے ساتھ برسراقتدار آئی تھی۔ ان کے اس نعرے اور وعدے ان کے ووٹ میں اضافہ کاباعث بنا جس کی بناء پر برسراقتدار آئے ہوئے ان کو 10 ماہ ہو گئے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ حکومت پاکستان کو مدینہ کی اسلامی ریاست بنانے کے بجائے مغربی سیکولر ریاست بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ملک میں سودی نظام چل رہاہے ۔ سپریم کورٹ کی شرعی اپیلٹ بنچ نے تقریباً 20سال قبل ملک کے سودی معاشی نظام کو غیر اسلامی قرار دے کر ملک میں غیر سودی معاشی نظام رائج کرنے کا حکم جاری کیا لیکن آج تک وہ معاملہ وفاقی شرعی عدالت میںدوبارہ زیر سماعت ہے اور حکومتی وکلاء سودی معیشت کو برقرار رکھنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وفاقی شرعی عدالت میں فحاشی و عریانی کے خاتمہ کا مقدمہ کی سماعت التو ا کاشکار ہے۔ موجودہ دور حکومت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی فضا ہموارکرنے کے لیے سرگرمیاں قابل تشویش ہے۔ پی ٹی آئی کی خاتون پارلیمنٹیرین کی اسرائیل کے حق میں پارلیمنٹ میں تقریر اس کاحصہ ہے۔ اسرائیلی طیارے کا آنا اور دیگر پراسرار سرگرمیوں پر پاکستان کے عوام پریشان ہیں۔

مدینہ کی ریاست کے دعویدار حکومت کے دورمیں اسلام قبول کرنامشکل سے مشکل تر ہوتاجارہاہے۔ حال ہی میں اسلام قبول کرنے والی عاقل و بالغ لڑکیوں کو جس طرح کی ذہنی اذیتوں اور جسمانی و عملی پریشانیوں سے گزرنا پڑاہے اور اس میں حکومتی کردار قابل تشویش ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ مذکورہ لڑکیوں کی رہائی کے بعد اب اس کمیشن کی رپورٹ کی منتظر ہے۔ جس میں سیکولر اور اسلام مخالف لابی کے چار لوگ ہیں جبکہ صرف ایک عالم دین اس کا ممبر ہے۔ معاملہ اسلام کا ہے اس لیے ضروری یہ تھاکہ اس کمیشن میں اکثریت علماء کی ہوتی ۔ عجیب بات یہ ہے کہ معاملہ سندھ کا ہے اور مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں ایک اسلام دشمن بل پیش کیاگیاہے جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ اسلام قبول کرے گا اس کو 21دن کسی این جی او کے شیلٹر ہوم میں رکھا جائے گا اور دیگر مذاہب یعنی غیر اسلامی کتب و عقائد کی تعلیم دی جائے گی نیز اگر کسی کے رشتہ دار ،فیملی ممبر یا کمیونٹی یا پیارے کے مسلمان ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ پولیس کی مدد طلب کرسکتا ہے۔

اس کے لیے ’’زبردستی مسلمان‘‘ کرنے کاڈھونگ رچایا گیاہے۔حالانکہ اسلام زبردستی مسلمان کرنے کامخالف ہے۔ نیز اب تک کے نومسلم کے حوالے سے سپریم کورٹ سمیت تمام سطحوں کی عدالتوں کا ریکارڈ گواہ ہے کہ کسی بھی مقدمے میں ایک بھی ثبوت پیش کیانہیں جاسکاہے۔سندھ اسمبلی کے موجودہ بل جیسا بل تقریباًدوسال قبل سابقہ سندھ اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم، پی ٹی آئی وغیرہ کے ممبران نے متفقہ طور پر منظور کیاتھا لیکن گورنر سندھ نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کردیاتھا ۔ نیزقومی انتخابات کی سرپر ہونے کی وجہ سے تمام پارٹیاں خاموش ہوگئی ہیں اور مذکورہ بل سردخانہ کی نظر ہوگیا تھا۔

اب دوبارہ بل سندھ اسمبلی میں پیش کردیاگیاہے جوکہ زبردستی مسلمان کرنے  (Forced Conversion)کے غلط مفروضہ پر ہے۔ یہ بل نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے لیے بدنامی کاباعث بلکہ پاکستان کے لیے بھی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اس طرح کی پروپیگنڈا اور قانون سازی مغرب کے نفرتوں میں اضافہ کی بنیاد بن سکتی ہے۔

حکومت کے ابتدائی دنوں میں ملک میں تحفظ ناموس رسالتؐ کامعاملہ عوامی سطح پر اٹھاتھا۔ حکومت نے تحفظ ناموس رسالت ؐ کے معاملہ کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے تحفظ ناموس رسالت ؐکے لیے عملی اقدامات کی سعی کی جائے گی لیکن تقریباً 6ماہ گزرنے کے باوجود پاکستانیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ حکومت نے اس اہم دینی مسئلہ پر کیاگیا ہے؟

حال ہی میں قومی اسمبلی میں سائبر کرائم کے حوالہ سے ایک بل پیش کیاگیا لیکن اس بل میں ایک دفعہ یہ بھی تھاکہ اگر توہین رسالت ﷺکے مقدمہ سے ملزم بری ہوجائے گا تو فریاد ی کو پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ کسی ملزم کے بری ہونے کے کئی اسباب ہوتے ہیں ۔ نیز قتل ، ڈاکہ زنی ، دہشت گردی کے مقدمہ سے ملزم بری ہونے سے فریادی کو کچھ نہیں کیا جاتا لیکن تحفظ ناموس رسالت کے مقدمہ کے لیے یہ امتیازی قانون کیوں ؟ دراصل یہ قانون اس لیے بنایا جارہاتھا تاکہ توہین رسالت کے ملزم کے خلاف ایف آئی آر لکھوانے کی کوئی ہمت نہ کرے۔ پاکستان کے عوام کی شدید بے چینی اور دینی رہنمائوں و مشائخ و علماء کے شدید احتجاج کی وجہ سے یہ قانون کی دفعہ واپس لے لی گئی ۔

موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد کرتارپور منصوبہ اور دیگر قادیانی نواز اقدامات کیے ۔ حکمران ٹولہ کے قادیانیوں کے حق میں باتیں ریکارڈ کا حصہ ہیں جس پر پورے پاکستان کے عوام بے چین ہیں۔

موجودہ حکومت کے دور میں بے حیائی و فحاشی وعریانی بڑھتی جارہی ہے ۔ مغرب زدہ لوگوں کی طرف سے ’’میرا جسم میری مرضی ‘‘کے نام پر غیر اسلامی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔ حالانکہ یہ نہ صرف ہمارے دین و تہذیب سے متصادم ہے بلکہ پاکستان کے دستور اور ملکی قوانین کی بھی شدید خلاف ورزی ہے۔

مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان واضح طور پر مطالبہ کرتی ہے کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے لیے دستور پر عمل کرتے ہو ملک میں اسلامی نظام کو رائج کیاجائے ۔اسلامی نظام معیشت کو رائج کیاجائے ، ناموس رسالت ﷺ اور ختم نبوت کا تحفظ کیاجائے ۔ زبردستی مسلمان بنانے کے نام پر غیر اسلامی قانون سازی بند کی جائے۔

٭…٭…٭

 

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس