Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرار داد پاکستان کی معاشی صورتحال اور عوامی مسائل


جماعت اسلامی پاکستان کی نو منتخب مرکزی شوری نے اپنے افتتاحی اجلاس منعقدہ 25تا27اپریل2019ملکی معاشی صورتحال اور اس کی وجہ سے عوامی مشکلات کا بغور جائزہ لیا ایک طرف اعدادو شمار کے مطابق پاکستانی معیشت دنیا کی پچیسویں بڑی معیشت ہے ، جی ڈی پی کے حوالے سے یہ دنیا کی بیالیسویں بڑی معیشت ہے ۔20.7کروڑ کی آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے ماہرین کے اندازوں کے مطابق 21ویں صدی میں پاکستان معاشی لحاظ سے دنیا کے11بڑے ملکوں میں سے ہو گا۔معدنی وسائل کے لحاظ سے یہاں کی زمین سونا ،لوہا، جپسم،کوئلہ،پٹرول، اور گیس جیسی نعمتوں سے  مالا مال ہے ۔یہاں پر پہاڑ بھی ہیں ،دریا بھی ہیں اور وسیع و عریض میدان بھی ہیں ۔سال میں چار موسم ہیں ۔ ان سب مثبت اثاثوں کے باوجود پاکستانی معیشت کو دو بڑے مہیب خسا روں نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے یعنی بجٹ خسا رہ یا مالیاتی خسا رہ اور کرنٹ اکاونٹ خسا رہ یا بین الاقوامی تجارتی خسا رہ ۔ ان دونو ں خسا روں کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال اندرون ملک اور بیرون ملک سے بھاری قرضے حاصل کرنے پڑتے ہیں ملکی قرضوں کا مجموعی حجم 31کھرب روپے سے بڑھ چکا ہے جو کہ جی ڈ ی پی کے 77فیصد سے زائد ہے ۔ اندرونی قرض تقریبا 13کھرب روپے اور بیرونی قرض تقریبا 18کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔کل مجموعی قرض اگر آبادی پر تقسیم کیا جائے تو ہر شہری ایک لاکھ پینتیس ہزار روپے کا مقروض ہے ۔

٭جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کی صائب رائے ہے کہ یہ سب کچھ بری حکمرانی اور کرپشن کی وجہ سے ہوا ہے احتساب ناپید رہا ۔عدل و انصاف کی بجائے ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا گیا پورے ملک میں مخصو ص خاندان اور گروپس حکمران رہے حیرت تو یہ ہے کہ جناب عمران خان صاحب کی سربراہی میں قائم پاکستان تحریک انصاف نے 2018کے انتخابات کے وقت جو منشور پیش کیا وہ مدینہ کی فلاحی ریاست کا ماڈل تھا ۔انہوں نے جو دعوے کیے اور جو وعدے کیے اس سے عوام کے اندر امید پیدا ہو گئی تھی کہ اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن وغیرہ کی حکومتی پالیسیوں کے برعکس عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جائے گی ، کرپشن کی بجائے حکومتی پالیسیوں میں دیانتداری اور انصاف ہوتا نظر آئے گا عمران خان کے اپنے اعلان کے مطابق غریب لوگو ں کے لیے 50لاکھ گھروں کی تعمیر کی جائے گی اور 1کروڑ نوکریوں کا انتظام کیا جاے گا۔ان کے اعلان کے مطابق وہ قرضہ لینے کے لیے بھیک نہیں مانگیں گے بلکہ خود کشی کو ترجیح دیں گے ۔

٭اس کے برعکس ہوا یہ کہ بطور وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب سے2 عرب ڈالر نقد سود پر ،علاوہ 2عرب ڈالر کا ادھار تیل ،2عرب ڈالر نقد سود پر متحدہ عرب امارات سے قرض اور اتنی ہی رقم چین سے سود پر قرض لی ۔اس کا فوری مقصد پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے بچنا تھا لیکن وہ سارے دعوے تو خاک میں ملے کہ قرض کی بھیک مانگنے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دیں گے ۔ اس ساری پیچیدہ صورتحال کے نتیجہ میں ذر مبادلہ کے ذخائر تاریخ کی سب سے نچلی جگہ پر آگئے جس سے روپے کی قدر میں30فیصد سے بھی زیادہ کمی واقع ہوئی ۔دسمبر 2017میں ایک امریکی ڈالر 105روپے کا تھا جو دسمبر 2018اور 2019 کے آغاز میں 145روپے سے بھی زیادہ کا ہو گیا ۔گیس اور بجلی کی قیمتوں میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافے کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ۔افراط ذر کی شرح میں اضافہ ہوا او ر عام آدمی کی روز مرہ ضرورت کی اشیاء میں (CPI INDEX) گزشتہ سال کے 3.9فیصد کے مقابلے میں مارچ2019تک 9.4 فیصداضافہ ہو گیا ۔ جس کی زیادہ وجہ روپے کی قدر میں کمی،  درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اضافہ اور گیس اور بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے ہوا ۔اندیشہ ہے کہ جون 2019تک افراط ذر کی شرح 12فیصد تک ہو جائے گی اور عام آدمی کے لیے بنیا دی ضروریات کو بھی پورا کرنا مشکل ہو جائے گا ۔

٭جی ڈی پی میں اضافہ کا حدف جو سال کے شروع میں 5.4فیصد رکھا گیا تھا وہ ذراعت کی پیداوار میں کمی اور بڑے صنعتی یونٹوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے 30جون 2019تک 3.5فیصد تک رہنے کہ توقع ہے ۔ ذراعت کے شعبہ میں اس سال خریف کی فصلوں میں کمی واقع ہو ئی ہے ۔ کپاس جو کہ سالانہ 1کروڑ 15لاکھ سے 20لاکھ گانٹھ ہوا کرتی تھی وہ 1کروڑ گانٹھوں سے بھی کم حا صل ہوئی ہے ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ذر مبادلہ کی شکل میں بھاری رقم خرچ کر کے کپاس د ر آمد کی جا رہی ہے ۔گنے کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے اس سال چینی کی پیداوار بھی کم ہوئی ہے ۔بے وقت بارشوں کی وجہ سے گندم کی پکی ہوئی کھڑی فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے آلو اور مکئی کے کاشتکار بازار میں کم دام ملنے کی وجہ سے بد حال ہو چکے ہیں اس لیے خدشہ ہے کہ ذرعی شعبہ میں 3فیصد گروتھ کی بجائے منفی گروتھ ہو گا ۔ مینفیچرنگ کے شعبہ میں 15بڑے سیکٹرز میں سے 9سیکٹر میں فروری 2019تک 1.7پرسنٹ پیداوار میں کمی واقع ہو چکی ہے ذرعی اور صنعتی شعبے کی پیداوار میں کمی کا براہ راست اثر سروسز سیکٹر پر پڑتا ہے جی ڈی پی میں گروتھ کی کمی کی وجہ سے روزگار کے مواقع پر منفی اثرات مر تب ہوں گے۔30جون 2019تک بے روز گاری کی شرح 6سے 7فیصد ہونے کا خدشہ ہے ۔ اندازہ ہے کہ بے روزگار ورکرز کی تعداد 10لاکھ سے بڑھ جائے گی ۔

٭سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق فروری 2019 تک مالیاتی یا بجٹ خصارہ1811بلین روپے تھا جس میں سے 1538بلین روپے اندرو ن ملک قرضو ں سے اور 273بلین روپے بیرونی قرضوں سے پورے کیے گئے۔موجو دہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں مالیاتی خسا رہ جی ڈی پی کا 4.7 فیصد ہو چکا ہے اور اسی رفتار سے 30 جون 2019تک جی ڈی پی کا 7فیصد ہو جائے گا موجودہ مالی سال کے لیے بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کا 5.1 فیصدتھا ۔

٭کرنٹ اکاونٹ خسارے میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میںموجودہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں 4بلین ڈالر کی کمی واقعہ ہوئی ہے ۔جولائی 2017سے لے کر مارچ2018تک کرنٹ اکاونٹ خسارہ 13.589بلین ڈالر تھا جو کہ 29فیصد کمی کے ساتھ جولائی2018سے ما رچ2019کے عرصے کے دوران 9.588بلین ڈالر ہو گیا۔ کرنٹ اکاونٹ خسارہ میں بہتری کی وجہ درآمدات میں کمی ،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات ذر میں اضافہ ،برآمدات میں معمولی سی بہتری اور دوست ممالک یعنی سعودی عرب،متحد ہ عرب امارات اور چین وغیرہ سے ڈالر کی شکل میں وصول ہونے والی رقوم بنی ۔ ان تمام مثبت عناصر کے باوجود ذر مبادلہ کے ذخائر مشکل سے 10.5بلین ڈالر ہیں جو کہ دو ماہ کی در آمدات کا خرچ پورا کر سکتے ہیں ۔اس وقت ساری نظریں آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے پر لگی ہوئی ہیں کہ وہاں سے کتنے ار ب ڈالر کا پیکج کن شرائط پر دستیاب ہوتا ہے ۔مجموعی طور پر کرنٹ اکاونٹ خسارہ بھی خطرہ کی سرخ لکیر سے باہر نہیں آیا ۔

٭جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ غیر سنجیدہ رویہ ترک کر کے سنجیدگی کے ساتھ جن لوگوں کے متعلق بھاری منی لانڈرنگ اور بیرون ملک چھپائے ہوئے اثاثے اور اندرون ملک اربوں روپے کی بے نامی کی جائیدادوں کا ریکارڈ آچکا ہے ان سے قانون کے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹا جائے اور لوٹ گھسوٹ بمع کرپشن اور سرکاری وسائل ہڑپ کر کے جو اثاثے بنائے گئے ہیں ،ان لوگوں سے وصولیاں کی جائیں اس سلسلے میں کسی قسم کی مصلحت اور مداہنت سے کام نہ لیا جائے ٹیکسوں کے نظام میں فوری طور پر بنیادی اصلاحات کی جائیں ، جن کا مقصد خوشحال طبقے سے براہ راست ٹیکسوں کے ذریعے سے وسائل کو کم نصیب طبقے کی طرف منتقل کرنا ہو ،تا کہ مالی وسائل بڑھیں ،بجٹ خسارہ کم ہو اور کم وسائل والے لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے ۔ اس وقت براہ راست ٹیکس یعنی انکم ٹیکس بھی 66فیصد تک بلواسطہ ٹیکس یعنی ود ہولڈنگ ٹیکس کی شکل میں جمع کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہ ٹیکس ،ٹیکس گزار کی بجائے ،عام صارف کو منتقل ہو جاتا ہے اس ظالمانہ ٹیکس نظام کو عادلانہ ٹیکس نظام بنانے کے لیے 75فیصد تک ٹیکس انکم ٹیکس کی شکل میں براہ راست جمع کیا جائے ا و ر آڈٹ کے نظام کو موثر بنایا جائے۔ حکو مت کے بعض مثبت اقدامات کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ بیرون ملک اپنے سفارت خانوں کے ذریعے سے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں ۔بین الاقوامی معیار کے مطابق بیرون ملک کے خریداروں کو ان کی ڈیمانڈ کے مطابق اشیاء تیار کر کے دی جائیں ایسی اشیاء کی پیداواری لاگت کو کم کیا جائے تا کہ بین الاقوامی منڈی میں پاکستان کی برآمد شدہ اشیاء قیمتوں کے لحاظ سے دوسرے ممالک کی اشیاء کے مقابلے میں مہنگی ہونے کی وجہ سے رد نہ کر دی جائیں ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے پر پوری توجہ دی جائے اور کم سے کم ریٹ پر سیلز ٹیکس لگا کر معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جائیں ،ذراعت کی پیداوار میں ایک طرف اوسط فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جائے اور دوسری طرف ذرعی مداخل کی قیمتوں میں کمی کر کے پیداواری لاگت میں کمی کی جائے حکومت ٹیکس جمع کرنے کے ذیادہ منصفانہ اقدامات اٹھائے اور پیٹرولیم مصنوعات پر انکم ٹیکس ،ود ہولڈنگ ٹیکس اور سیلز ٹیکس وغیرہ کے ذ ریعے 32سے 35روپے فی لیٹر وصول کرنے کا ظالمانہ سسٹم ختم کرے ۔ کپاس کی پیداوار پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ہم اس کی درآمد پر کثیر ذر مبادلہ خرچ کرنے کی بجائے برآمدات کے ذریعے کثیر ذر مبادلہ کما سکیں ۔ ہر قسم کی ٹیکس چھوٹ کو ختم کر کے 6لاکھ روپے سالانہ صافی آمدنی پر انکم ٹیکس  وصول کیا جائے ۔انفرادی ٹیکس ریٹ 20فیصد سے زیادہ نہ ہو اور کارپو ریٹ ٹیکس کا ریٹ 30فیصد سے زیادہ نہ ہو۔جی ڈی پی کا کم سے کم 6 فیصد صحت اور 6فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے اس سے پیداواری صلاحیت میں بہت اضافہ ہو گا۔کاروبار کرنے کی لاگت کو کم کیا جاے اور کاروباری حضرات کی کاروبار کرنے میں دقتوں کو آسانیوں میں بدلا جائے ۔                

٭…٭…٭

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس