Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار داد برائے کشمیر


٭           مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں انتخابی ڈرامے سے کشمیری عوام کی لا تعلقی کوکشیر پر بھارتی قبضے کے خلاف بھرپور ریفرنڈم قرار دیتاہے۔ یہ عوامی ریفرنڈم اپنے حق خود ارادیت کے مشن کے ساتھ کشمیری عوام کی والہانہ وابستگی قرار دیتا ہے۔اجلاس مقبوضہ خطے  میں موجود سات لاکھ سے زائد قابض فوج الیکشن سے قبل اضافی دستے بھیجنے کے عمل کو الیکشن ڈیوٹی نہیں بلکہ فوجی مشق قرار دیتا اور عالمی اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس بھارتی عمل کابھرپور نوٹس لے ۔اجلاس بھارت کی جانب سے پلوامہ واقعہ کو بنیاد بنا کر سیز فائر لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختون خواہ کے علاقے بالاکوٹ کے نواح میں ہندوستانی فضائیہ کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ کی نظر میں ہندوستان کی یہ جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر ، بین الاقوامی قوانین اور بین الریاستی اقدار کی صریح خلاف ورزی اور پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔یہ اجلاس اس جارحیت کے نتیجے میں پاکستانی سر زمین پر جانی و مالی نقصانات کے بلا ثبوت ہندوستانی دعوئوں کو جھوٹ کا پلندہ ، حقائق کے برعکس اور مضحکہ خیز قرار دیتا ہے۔ اجلاس ہندوستان کی اس جارحیت کو علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں دو ایٹمی طاقتیں ایٹمی جنگ کے دھانے پر آن پہنچی ہیں۔

٭           یہ اجلاس پاک فضائیہ اور افواج پاکستان کو ہندوستانی جارحیت کا موثر اور دندان شکن جواب دینے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔  اجلاس ہندوستانی افواج کی جانب سے ورکنگ بائونڈری اور سیز فائر لائن پر شہری آبادیوں کو بلا اشتعال اور بلا جواز فائرنگ کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور وہ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔اجلاس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس کا فوری نوٹس لے۔

٭           اجلاس بھارتی حکومت کی طرف سے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر پابندی ،اس کے اداروں اور اثاثہ جات حتیٰ کہ ذمہ داران کے گھروں کی ضبطی اور امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت چار سو سے زائد قائدین اور کارکنان کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی کی سیاسی ،تعلیمی، فلاحی و تربیتی میدان میں خدمات اور مسئلہ کشمیر زندہ رکھنے اور نامساعد حالات میں حق خودارادیت کے اصولی موقف کی آبیاری پر اسے خراج تحسین پیش کرتا ہے۔اجلاس مشترکہ مزاحمتی قیادت کے اہم رہنمائوں کی پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کے تحت گرفتاریوں پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے۔ بزرگ رہنما اور تحریک آزادی کی علامت سید علی گیلانی، قائدین حریت میرواعظ عمر فاروق ، یاسین ملک ،محمد اشرف صحرائی ،شبیر احمد شاہ ، مسرت عالم ، آسیہ اندرابی اور دیگر قائدین حریت کی زندگیوں کو ہندوستان کی جیلوں میں شدید خطرات لاحق ہیں ۔عالمی برادری اور حقوق انسانی کی تنظیموں کو اس ضمن میں اپنا کردار اداکرناہوگا۔ اجلاس کے نزدیک یہ تمام بھارتی ہتھکنڈے اس کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں ،قبل ازیں وہ ہر طرح کی ریاستی دہشت گردی سے تحریک آزادی کو کچلنے میں ناکام ہو چکا ہے ،بلکہ قتل و غارت گری کی اس کی ہر تدبیر اللہ تعالیٰ نے اس پر پلٹ دی ہے۔یہ اس کی جارحیت کا ہی نتیجہ ہے کہ شہید برہان مظفر وانی اور عادل ڈار جیسے نوخیز اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنا تعلیمی مستقبل قربان کرتے ہوئے زندگیاں بھی قربان کرنے کے لیے مجبور ہوئے اور بھارتی فوجی قبضہ کے خلاف مزاحمت اور جہاد کے ہیرو بن گئے۔ جس قدر ہندوستان جبر سے پرامن جدوجہد کا راستہ بند کرے گا ،اسی شدت سے نوجوان زیادہ جوش وخروش سے کاروان حریت کا حصہ بنیں گے اور تحریک کمزور ہونے کے بجائے اس میں مزید طاقت ، توانائی اور جوش پیدا ہو گا۔

٭           یہ اجلاس جموں وکشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی ہندوستان کی مذموم کوششوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس حوالے سے بی جے پی کی حکومت کی اپنی طفیلی تنظیموں کے ذریعے بھارتی آئین کی دفعہ370اور 35-Aعدالتوں کے ذریعے منسوخی کی سازش کو مسترد کرتا ہے اور متنبہ کرتا ہے کہ اس طرح کی کوشش کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کسی طور اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

٭           یہ اجلاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان کی طرف سے ریاستی دہشت گردی اور تشدد کی نئی لہر ،معصوم کشمیریوں کے بے رحمانہ قتل عام اور وادی میں فوج کی تعداد میں اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ دہشت گردی فوری طور پر ختم کی جائے ، مقبوضہ ریاست سے قابض افواج کو واپس بلایا جائے اور انسانی حقوق کی بدترین خلا ف ورزیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ طاقت،تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے یہ ہتھکنڈے ترک کیے جائیں ،کالے قوانین کو ختم کیا جائے،گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر سے پابندی اٹھائی جائے۔

٭           اجلاس ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ اور جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کے ساتھ روا رکھے گئے ہندو جنونیوں کے متشددانہ سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے ۔بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے اس جنونی اور انتہا پسندانہ طرز عمل کا نوٹس لینے اور ہندوستانی حکومت کی سرزنش کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

٭           یہ اجلاس پاکستان کی پارلیمنٹ ، حکومت اور اپوزیشن اور پوری پاکستانی قوم کو ہندوستانی جارحیت کے مقابلے میں مثالی قومی اتحاد ، یکجہتی کا مظاہرہ ، متفقہ موقف اختیار کرنے اور اخوت کی فضا قائم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے جس سے ہندوستان کو یہ واضح پیغام پہنچا کہ پوری پاکستانی قوم دشمن کے مذموم عزائم کے مقابلے اور اہل کشمیر کی تحریک آزادی کی پشتی بانی کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند متحد اور منظم ہے۔

٭           یہ اجلاس عالمی امن کی داعی طاقتوں اور اداروں بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ہندوستان کے اس جنگی جنون اور پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت کا نوٹس لیں اس پر اخلاقی ، سفارتی دبائو بڑھایا جائے ، ہندوستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ کشمیری عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کا احترام کرتے ہوئے ان کا مسلمہ اور بنیادی حق حق خود ارادیت دینے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس