Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار دادسیاسی صورت حال


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس موجودہ حکومت کی انتہائی مایوس کن کارکردگی سے پیداہونے والی صورت حال پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے ۔ تبدیلی کے نعروں اور نیا پاکستان بنانے کے دعوئوں کے نام پر برسراقتدار آنے یا لائی جانے والی حکومت محض 9ماہ میں ہی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ موجودہ برسراقتدار حکومت نے اگرچہ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کو اپنا ماڈل کہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے انہوںنے 9 ماہ میں اس سمت ایک قدم بھی نہیں اٹھایا بلکہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح سودی معیشت ، بیرونی قرضوں پر انحصار ، عالمی اداروں کی تابعداری اور مغربی تہذیب کے فروغ کا ہی راستہ اپنایا ہے۔ جس کی وجہ سے معیشت اصلاح پذیر ہونے کی بجائے تیزی سے زوال پذیر ہے۔ کرنسی مضبوط ہونے کی بجائے بے قدری کی آخری حدوں کو چھوچکی ہے اور ناقص پالیسیوں اور حکومتی نا اہلی کی وجہ سے ہر شعبۂ زندگی کی صورت حال ابتر ہے۔ معلوم ہوتاہے کہ حکومت کے پاس سرے سے کوئی پالیسی ،کوئی پلان، کوئی حکمت عملی اور عمل درآمد کے لیے کوئی ٹیم موجود ہی نہیں اور مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کے ماڈل کو بھی محض سیاسی نعرے کے طور پر اپنایا گیاہے۔

حکومت کی طرف سے کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں اپنی ناکامی کااعلان اور اعتراف شکست ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ یہ تاثر شدت سے پیداہو رہاہے کہ وفاقی کابینہ کی حالیہ تبدیلیوں کا فیصلہ بھی عمران خان یا پی ٹی آئی کی سطح پر نہیں ہوا اور یہ تبدیلیاں بھی کسی اور کے دبائو کانتیجہ ہے۔ یہ تاثر یقیناً ملک و قوم اوراداروں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے کہ یہ سمجھاجائے کہ حکمرانی کا اصل مرکز و محور پارلیمنٹ یا کابینہ نہیں ۔ اسی طرح یہ تاثر پیداکرنا بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ پہلی دو پارٹیوں کی طرح یہ پارٹی بھی ناکام ہوگئی ہے اور اس کامطلب یہ ہے کہ پارلیمانی سیاست ہی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اور سیاست کو بند گلی سے نکالنے کاراستہ اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے اور پارلیمانی کی بجائے صدارتی نظام میں مضمر ہے۔ اسی طرح یہ پہلو مزید قابل تشویش ہے کہ صدارتی نظام کی طلب یا تجویز عوام ، پارلیمنٹ ،میڈیا یا ارباب فکر و نظر غرضیکہ کسی سطح پر موجود نہیں ۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ یہ تجویز کون اور کیوں سامنے لایا ہے ۔

صدارتی نظام کی آئین پاکستان میں سرے سے کوئی گنجائش موجود نہیں محض ریفرنڈم کے ذریعے اس تجویز پر رائے لینابھی غیر آئینی ہوگا اور آئین ختم کیے بغیر اس طرح کاکوئی ریفرنڈم نہیں ہوسکتا ۔ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ 1973ء کاآئین قومی یکجہتی کی ایک متفقہ دستاویز اور وفاق پاکستان کی سا  لمیت کی ایک علامت ہے۔ کسی بھی طرح کی مہم جوئی کے لیے اس آئین کا خاتمہ یا معطلی بدترین قومی سانحہ ہوگا۔

مرکزی مجلس شوریٰ کی نظر میں صدارتی نظام قوم پہلے ہی بھگت چکی ہے۔ یہ آمریت کی بدترین شکل ہے اور ایک ایسے ملک میں کہ جہاں مختلف صوبے موجود ہیں۔ یہ نظام وفاقیت کی بھی نفی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان یہ سمجھنے کہ باوجود یہ تجویز محض افواہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی کوئی سنجیدہ حیثیت نہیں ،پھر بھی اس موقع پربر وقت اس تجویز کو آئین پاکستان اور وفاق پاکستان کے خلاف عالمی سامراجی ایجنڈے کاحصہ قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔ اور یہ بھی اعلان کرتی ہے کہ اگر اس کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی تو جماعت اسلامی اس کے خلاف تمام دینی و سیاسی قوتوں کو متحرک ومنظم کرکے اس کاڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

جماعت اسلامی پاکستان اٹھارہویں ترمیم کے خلاف مہم جوئی پر بھی اپنے تحفظات کااظہار کرتی ہے۔ اٹھارہویں سمیت کسی بھی آئینی ترمیم کی اصلاح کاراستہ خود آئین پاکستان میں موجود ہے ۔ بلاشبہ اٹھارہویں ترمیم میں سے تعلیم اور نصاب تعلیم کے معاملات کو صوبائی حیثیت دینے پر قومی یکجہتی کے حوالہ سے تحفظات موجود ہیں۔ لیکن پوری ترمیم کے خلاف یا حق میں پارلیمنٹ کے باہر مہم جوئی کسی طرح سے بھی قابل قبول نہیں۔

مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے تمام صوبائی حکومتوں پر زور دیتا ہے کہ انتخابی قوانین پر مشاورت کاسلسلہ زیادہ وسیع کیاجائے اور بلدیاتی قوانین کو اختیارات کی نچلی سطح تک حقیقی طور پر منتقل کرنے پر بلدیاتی اداروں کو صوبائی حکومتوں کے دبائو سے آزاد رکھنے کی ترجیحات کے مطابق تشکیل دیاجائے اور کوشش کی جائے کہ یہ قوانین اسمبلیوں سے زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے سے منظور کیے جائیں۔ اجلاس الیکشن کمیشن پرزور دیتاہے کہ بلدیاتی اداروں اور ضلعی حکومتوں کے انتخابات شفاف انداز میں بروقت کرائے جائیں۔

اجلاس سیاست میں ناشائستگی غیر سنجیدگی ،طنزیہ جملہ بازی ، سوشل میڈیا کے ذریعے گالم گلوچ کی باہمی گولہ باری پر شدید تشویش کااظہار کرتاہے۔ پالیسیوں اور کارکردگی میں ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے منفی طرز سیاست کافروغ قابل مذمت ہی نہیں قومی وقار پر حملہ کے مترادف ہے۔

اجلاس واضح کرتاہے کہ حکومت کی ناکامیوں کے باوجود سیاست یا جمہوریت سے مایوسی کی کوئی وجہ موجود نہیں ۔ جمہوری نظام میں ناکام حکومت کا جواب کامیاب حکومت ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان عوام کو اُمید دلاتی ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان موجودہ سیاسی خلاء میں ایک بہترین متبادل کے طور پر موجود ہے۔ جماعت اسلامی ایک مکمل جمہوری جماعت ہے۔ یہ خاندانی اور موروثی سیاست سے قوم کو نجات دلا کر ایک حقیقی قیادت فراہم کرسکتی ہے۔

جماعت اسلامی گروہ بندی سے بالا تر اور اتحاد اُمت کی داعی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی کے کسی سابق یا موجودہ ممبر (اسمبلی و سینٹ) یا کسی بھی رہنما کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ۔ جماعت اسلامی گڈگورننس اور کرپشن فری سیاست کا عملی مظاہرہ صوبہ خیبر پختونخوا ،کراچی ، دیر و دیگر مقامات پر کرچکی ہے۔ جس کی بہترین کارکردگی کے ان علاقوں کے عوام ہی نہیں جماعت اسلامی کے مخالفین بھی معترف ہیں۔ جماعت اسلامی کے پاس ایک مکمل اور قابل عمل منشور موجود ہے۔ جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ رابطہ عوام مہم کے ساتھ ساتھ شیڈوکابینہ کی طرز پر اپنی مجالس قائمہ اور ورکنگ گروپس کی رپورٹس کے ذریعہ معاشی استحکام ، مہنگائی کے خاتمہ ،ٹیکسیشن پالیسی ، داخلہ و خارجہ پالیسیوں و دیگر موضوعات پر متبادل پالیسیوں اور لائحہ عمل کاعوام کے سامنے اظہار کرتی رہے گی۔

جماعت اسلامی پاکستان ایک مرتبہ پھر اعلان کرتی ہے کہ کرپشن فری پاکستان کے قیام اور’’ احتساب سب کا‘‘ کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔ او ر ہم پانامہ لیکس میں شامل 436کرپٹ عناصر کے بلاامتیاز ،منصفانہ اور بے لاگ احتساب او ر لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے لیے نیب اور عدلیہ کے دروازوں پر دستک دینے کے علاوہ کرپشن کے خلاف قوانین کی اصلاح اور پارلیمنٹ کے اندر و باہر احتجاج کاراستہ اختیار کریں گے۔

ہم واضح کرتے ہیںکہ کرپٹ عناصر کاتعلق ماضی کی حکومتوں سے ہو یا موجودہ حکمرانوں سے، برسراقتدار سیاست دانوں سے ہو یا حزب اختلاف میں موجود سیاست دانوں سے ،سول و ملٹری بیوروکریسی سے ہویا عدلیہ سمیت کسی بھی ادارے سے ہم ان شاء اللہ سب کے بے لاگ احتساب کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔اسی طرح جماعت اسلامی انتخابی نظام کی اصلاح اور متناسب نمائندگی کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔

یہ اجلاس اعلان کرتاہے کہ عوام کو ان کے مسائل کے حل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ جماعت اسلامی مہنگائی بے روز گاری ، بدامنی ، لاقانونیت اور کرپشن کے خلاف سب سے توانا اور بلند آہنگ آواز بن کر عوام کی قیادت کرے گی۔

ہم پاکستانی عوام کو بھی متوجہ کرتے ہیں کہ ماضی میں بار ی باری برسراقتدار حکومتوں کی طرح موجود ہ حکومت بھی عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ ہمارے مسائل کا حل اسلامی نظام کے مکمل نفاذ اور دیانتدار قیادت کے برسراقتدار آنے میں مضمر ہے۔ جماعت اسلامی فرقہ پرستی سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کی خدمت کرتی رہی ہے۔ اور اب بھی اقلیتوں کے تحفظ سمیت پاکستانی قوم کے تمام مسائل کا حل اور ماہرین پر مشتمل دیانتدار ٹیم صرف جماعت اسلامی کے پاس موجود ہے۔

٭…٭…٭

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس