Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ریاست مدینہ کی باتیں کرنے والے قادیانیت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بھی باتیں کررہے ہیں۔لیاقت بلوچ


سکھر  7/جون2019ء: قائم مقام امیرجماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی مہنگائی بیروزگاری عوام کو درپیش مشکلات کے خلاف بھرپور احتجاج عوامی مارچ کرے گی، ہم اپوزیشن کے اعلان کردہ احتجاج کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن کسی گرینڈ اپوزیشن الائنس کا حصہ نہیںبنیں گے، اور نہ ہی کسی تحریک کا حصہ بنیں گے، وہ اپنے بنیاد پر کام کریں ہم ویلکم کریںگے ، تاہم جماعت اسلامی اپنی بنیاد پر عوام کو متحرک کرے گی، اورنظریاتی معاشی ترقی اور قومی سلامتی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اپنا کردار ادا کریںگے ، بھرپور احتجاج ہو گا،عوام کے جذبات کی ترجمانی ہو گی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید کے تیسرے روز جمعہ کو المران کلچر سینٹرسکھر میں زمانہ طالبعلمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے تعلق ر کھنے والے سابقین احباب جمعیت سندھ کی جانب سے منعقد ہ عید ملن پارٹی سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مرکزی نائب امیر اسداللہ بھٹو، سندھ کے امیر محمد حسین محنتی، جنرل سیکریٹری کاشف سعید شیخ، امیر جماعت اسلامی سکھر و سابق ناظم اعلی اسلامی جمعیت طلبا پاکستان زبیر حفیظ شیخ ، عبدالحفیظ بجارانی سمیت دیگر رہنماو ¿ں نے بھی خطاب کیا جبکہ اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنماو ¿ں سابقین جمعیت کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، لیاقت بلوچ نے کہا کہ اتحاد کی سیاست موثر و نتیجہ خیز نہیں بن سکی، جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ کسی الائنس کا حصہ نہیںبنیں گے، تاہم اسلامی قوانین ملک کی نظریاتی تبدیلی کی کسی بھی کوشش پر دینی جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہونگے، ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے رویہ نے احتساب کو مذاق بنا دیا ہے، ریاست مدینہ کی باتیںکرتے ہیں یہاںقادیانیت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں بھی ہیں، انکا رویہ خود پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان اپنے رویہ اور اصولوں کو درست کریں اگر نہیں کریںگے تو یہاں ماضی میں ظفر اللہ جمالی جا سکتے ہیں ، چوہدری شجاعت، شوکت عزیز یوسف رضا گیلانی، شاہد خاقان عباسی ،راجہ پرویز اشرف اور نواز شریف جیسے طاقتور حکمراں نہیں رہ سکتے توعمران خان کوئی پٹہ نہیں لکھوا آئے ہیں ہیں کہ وہ ہر حماقت کرتے رہیں ،اور انہیں اقتدار کی کرسی پربرداشت کیا جاتا رہے ، وہ اپنا رویہ تبدیل کریں یا اقتدار سے خود الگ ہو جائیں۔لیاقت بلوچ نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے کہا کہ المیہ ہے کہ سیاست ، پارلیمنٹ ، اسمبلیاںکمزور ہو رہی ہے،لوگوں کو ریلیف نہیںمل رہا ، مہنگائی بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، آئی ایم ایف کی بد ترین شرائط ہماری معاشی آذادی قومی سلامتی چھین رہی ہیں، عمران خان تیزی سے ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہیں،رمضان میں مہنگائی بیروزگاری عروج پر رہی، معاشی ٹیم نہیں ، ایف بی آر، اسٹیٹ بنک سیکریٹری خزانہ یہ ہماری ٹیم نہیںآئی ایم ایف کی طرف سے مسلط کردہ ٹیم ہے، اس لیئے حالات واضح ہیں کہ موجودہ حکومت کے ہاتھوں نہ ہی پاکستان کا نظریہ ، عوام کی معاشی حالت سلامت و محفوظ ہے اور نہ ہی قومی سلامتی کے حوالے سے کام کیے جا رہے ہیں اس لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ اپوزیشن ملک میں عوام کی ترجمان بنے ، جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے کہ بیروزگاری مہنگائی، آئی ایم ایف کی شرائط کے خلاف احتجاج کریں گے عوامی مارچ کریںگے، ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ میں بلاول بھٹو کی افطار پارٹی میںگیا تھاو ہاں مولانا فضل الرحمن کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی جانے کا طے پایا گیا تھا تاکہ اس سلسلہ میں تمام پپہلوں کا جائیزہ لیا جا سکے تاہم وہاں بھی اس ضمن میں ہم اپنا موقف پیش کر دیا تھا ،اپوزیشن جماعتیں اکھٹی ہو جائیںہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتیں بھی عوام کے سامنے جوابدہ ہیں، تاہم جماعت اسلامی کسی جوائنٹ اپوزیشن کا حصہ بنے بغیر اپنی جدو جہد جاری رکھے گی، عوام کے جذبات کی ترجمانی کریںگے،انہوں نے سابقین احباب جمعیت زور دیا کہ وہ اقامت دین کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں، جمعیت سے وابستگان کی بڑی تعداد اہم جگہوں پر کام کر رہی ہے اور اپنی صلاحتیوںکو مظاہرہ کر رہی ہے، اسلامی جمعیت طلبہ نے مقصد زندگی سے آشنا کیا ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس