Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان خفیہ معاہدہ خود کشی ہے، عوام کو بتا یا جائے کہ اس میں کتنا زہر ڈالا گیا ہے۔لیاقت بلوچ


لاہور 29مئی 2019ء:  قائم مقام امیرجماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان خفیہ معاہدہ خود کشی ہے۔ عوام کو بتا یا جائے کہ اس کتنا زہر ڈالا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ منظر عام پر لا یا جائے ورنہ ڈالر اور پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا ۔ اسلام آباد میں نہتے سیاسی کارکنوں پر تشدد جمہوریت کیلئے نیک فعال نہیں ہوگا۔عمران خان کی نا اہلی کی وجہ سے اپوزیشن نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ آئی ایم ایف کی بدترین شرائط کی وجہ سے قومی معیشت تباہی کا نقشہ پیش کررہی ہے ۔16جون کو جماعت اسلامی لاہور سے مہنگائی، بے روزگاری ، آئی ایم ایف کی غلامی ،سودی نظام کے خاتمے اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے عوامی تحریک کا آغاز کرے گی۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے ” دارالسلام “ میں قائم مقام امیرجنوبی پنجاب راؤ محمد ظفر ، ضلعی امیر ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی، میڈیا کوآرڈینیٹر جنو بی پنجاب کنور محمد صدیق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا جان لیوا سیلاب موجود ہے ۔آئی ایم ایف کی بدترین شرائط میں قومی معیشت کی تباہی کا نقشہ پیش کردیا ہے اقتصادی نظام کی بہتری کے لئے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود موجودہ حکومت نے قرضے لینے کی بیماری میں اضافہ ہو چکا ہے اور شرح سود بڑھ رہی ہے روپے کی قدر کم ہونے سے قومی معیشت اربوں ڈالر کے بوجھ تلے آگئی ہے ۔ملک کا آئندہ بجٹ آئی ایم ایف طے کرے گی کیونکہ عمران خان کی اقتصادی ٹیم کا عمل دخل ختم ہو چکا ہے اور ان سے اختیارات چھین لئے گئے ہیں ۔اب ہمارا ملک آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر ہے یہی وجہ ہے کہ غریب اور سفید پوش طبقے کا بھرم بھی ختم ہو رہا ہے ۔ملک کے دیگراداروں کی طرح میڈیا ہاؤسز بھی معاشی بحران کا شکار ہیں یہی وجہ ہے کہ بے روزگاری کا سونامی میڈیا کو بھی ہڑپ کررہا ہے جو ملک کے مستقبل اور جمہوریت کے لئے مشکلات کا باعث ہو گا۔ قبائلی علاقوں میں حالات دن بدن ابتر ہو رہے ہیں فوجی چوکیوں پر حملے قابل مذمت ہیں پاک فوج نے ملک کے دفاع کے لئے جو قربانیاں دی ہیں وہ قابل ستائش ہیں ۔موجودہ حالات کی تمام تر ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے جب قبائلی علاقے میں صوبائی انتخابات کا آغاز ہواتو آئینی ترمیمی بل کیوں لایا گیا قبائلی علاقوں میں قبائلی عوام کا احتجاج جائز ہے ۔حکومت ان علاقوںمیں قانون کے مطابق اقتصادی اور سماجی مسائل حل کرے کیونکہ یہ خطہ ایک نئی آزمائش سے دوچار ہو رہا ہے اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان دشمنوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت امریکہ افغانستان میں ناکام ہو چکا ہے اسرائیل اور ہندوستان فلسطین اور کشمیری عوام کے خلاف نئے جارحانہ عزائم رکھتے ہیں خلیج میں نئی سمندری جنگ مسلط کی جارہی ہے جو پوری دنیا کے لئے خطرناک ہو گی ۔سعودی عرب میں عالم اسلام کے سربراہوں کی کانفرنس اتحاد امت کا پیش خیمہ ہو گی اور اس سے مسلم ممالک کے درمیان اختلافات ختم ہو ں گے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ اصل میں عوامی مطالبہ ہے جو حقائق پر مبنی ہے خود عمران خان اور اس کے حواری اس صوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے بہاولپور صوبے کا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ یہ نیا انتظامی یونٹ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے جس سے فرار کے راستے تلاش نہ کئے جائیں بلکہ صوبہ بہاولپور کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے عمران خان کی نااہلی کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کی اہمیت بڑھ چکی ہے ان جماعتوں میں رابطہ اگر چہ برقرار رہتا ہے لیکن جماعت اسلامی اپنی امانت ، دیانت کو برقرار رکھتے ہو ئے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے گی اور اپنے پرچم ، انتخابی نشان ترازو پر سیاسی اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے گی 16جون کو جماعت اسلامی لاہور سے مہنگائی، بے روزگاری ، آئی ایم ایف کی غلامی ،سودی نظام کے خاتمے اور اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے عوامی تحریک کا آغاز کرے گی اور مرحلہ وار پورے ملک میں یہ تحریک چلائی جائے گی جس کے بعد ایک نقطے پر پہنچ کر ہم اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب عمران خان اپوزیشن سے بات چیت کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر اپوزیشن کے پاس احتجاج کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس