Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

آئی ایم ایف صرف قرضہ نہیں دیتی بلکہ خارجہ اور داخلہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ سینیٹر سراج الحق


لاہور15مئی 2019ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج کا مقصد پی آئی اے، ریلوے، واپڈا اور سٹیل ملز سمیت قومی اداروں کو آئی ایم ایف کی مرضی کے مطابق فروخت کرنا ہے تاکہ قرضوں کے سود کی ادائیگی ہوسکے۔ سود اتنا زیادہ ہے کہ اصل قرض وہیں کا وہیں ہے اور سود کی قسطوں میں اضافہ ہوتا جارہاہے، اس کا انجام کیاہوگا؟ ملک کے بجٹ کا زیادہ تر حصہ سود کی ادائیگی میں چلاجاتاہے۔ سود کی ادائیگی کے لیے پھر آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کسی طرح بھی قومی مفاد میں نہیں۔ آئی ایم ایف صرف قرضہ نہیں دیتی بلکہ خارجہ اور داخلہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ آئی ایم ایف کی قومی امور میں براہ راست مداخلت کا معاہدہ ہے جس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو مزید تباہی سے دوچار کرنا اور اہم قومی رازوں اور دستاویزات کا حصول ہے تاکہ عالمی رائے عامہ کو پاکستان کے خلاف استوار کر کے پاکستا ن کے ایٹمی ا ثاثوں کوعالمی نگرانی میں دینے پر مجبور کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں آصف ریحان ڈاراور وقاص بٹ کی قیادت میں ملنے والے تاجروں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ معیشت کو بہتر کیے بغیر سیاسی آزادی بھی ناممکن ہے۔ حکومت معیشت ٹھیک نہ کر سکی تو اس کی ناکامی یقینی ہے۔ گزشتہ حکومتوں کی طرح اس حکومت کا انحصار بھی آئی ایم ایف کے قرضوں پر ہے۔ سابقہ حکومتوں نے دس سال میں جتنے قرضے لیے تھے، موجودہ حکومت دس ماہ میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ جن ایمنسٹی سکیموں کی مخالفت پی ٹی آئی نے بار بار کی، اب وہی سکیمیں خود دے رہی ہے۔ ایمنسٹی اسکیم کالا دھن سفید کرنے اور لٹیروں کو ریلیف دینے کا آزمودہ نسخہ ہے۔ ایمنسٹی سکیم کا نام ”لوٹو اور پھوٹو“ ہوتا تو زیادہ بہتر تھا۔ناجائز دولت جمع کر کے عشرت کدے بنانے والوں کو تو ریلیف دیا جاتاہے جبکہ نان جویں کے محتاج غریبوں پر مہنگائی کے کوڑے برسائے جاتے ہیں۔آئندہ بجٹ غریب کش نہیں ہونا چاہیے۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اگر حکومت نے سابقہ حکومتوں کے نقش قدم پر ہی چلنا تھا تو اسے بلند و بانگ دعوے نہیں کرنے چاہئیں تھے۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر چھوٹے تاجروں کا گلا دباناظلم ہے۔ چھوٹے تاجروں پر ٹیکس بڑھانے سے تجارت میں بہتری آئے گی نہ برآمدات بڑھ سکیں گی۔ چھوٹے کارخانے اور گھریلو دستکاریاں بند ہونے سے نہ صرف تجارت پر الٹا اثر پڑے گا بلکہ لاکھوں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ روز گار پیدا کرنے کے لیے چھوٹے تاجروں کی حوصلہ افزائی اور انہیں ٹیکسوں میں چھوٹ ملنی چاہیے تھی مگر حکومت کے معاشی افلاطون ہر چیز کو آئی ایم ایف کی عینک سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے چھوٹے کاروباری طبقہ کا بری طرح استحصال ہورہاہے۔ ہم تاجروں کے ساتھ ہیں۔ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تاجروں کے حق میں آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت دعوے کرتی تھی کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آئیں گے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی مگر حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اربوں روپے کا سرمایہ ڈوب چکاہے اور ملکی سرمایہ کار بھی اپنے کاروبار سمیٹ کر باہر بھاگ رہے ہیں۔ حکومت اب بھی اسلام کے انقلابی معاشی نظام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں۔
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس