Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ہمارا فرض ہے کہ اللہ کی بندگی کو خود بھی اختیار کریں اور اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر نافذ کرنے کی جدوجہد کریں۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی 12مئی2019ء: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سود ی معیشت اللہ اور رسول ؐ سے جنگ کے مترادف ہے، یہ ملک کلمہ لا الہ الا اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا تھا مگر آج ملک میں سودی معیشت نافذ ہے جو کہ اللہ کے دین سے بغاوت ہے،رمضان میں قرآن پاک نازل کیا گیا،لیلۃ القدر میں رمضان میں ہم قرآن پڑھتے ہیں لیکن قرآن کے سود ختم کر نے کے احکامات ہم نہیں مانتے۔بیرونی قوتیں چاہتی ہیں کہ ہم کو دین سے دور کیا جائے، نصاب تبدیل کیا جائے اور آئین سے اسلامی دفعات ختم کی جائیں۔ ہمارا فرض ہے کہ اللہ کی بندگی کو خود بھی اختیار کریں اور اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر نافذ کرنے کی جدوجہد کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی نارتھ ناظم آباد کے تحت علاقہ فاروق اعظم بلاک kمیں ”دعوت افطار“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ اللہ کا بڑا شکر ہے کہ اس نے ہمیں زندگی میں ایک اور رمضان عطا کیا تاکہ ہم اپنے لیے رحمتیں اور برکتیں سمیٹیں اور اپنی مغفرت کرائیں دوزخ کی آگ سے نجات حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کریں اور جو نعمتیں اس نے ہمیں دیں ہیں اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان ہمیں ایک مرتبہ پھر بیدار کررہا ہے کہ اٹھو اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرلو، توبہ واستغفار کرو،اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ، بقیہ زندگی اللہ کی تعلیمات کے مطابق بسر کرو۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی نصاب سے قرآنی آیا ت نکالنے، توہین رسالتؐ کے قوانین تبدیل کرنے کا بیرونی دباؤ ہوتا ہے اور حکمران جو غلام ابن غلام ہیں فوراً ڈھیر ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب اللہ کے حکم کی اطاعت نہ ہو اور دین سے بغاوت ہورہی ہو تو ہمیں اس کے خلاف اٹھنا ہوگا اور اجتماعی جدوجہد کرنا ہوگی اور یہی اصل میں اجتماعی تقویٰ ہے۔کاروبار، ذاتی و اجتماعی معاملات میں جھوٹ سے بچنا چاہیئے اسی میں اللہ کی رضا ہے۔اللہ نے جن باتوں سے منع کیا ہے اس سے بچنے کا نام پرہیز گاری ہے،رمضان المبار ک کے روزے ہمیں اللہ کے حکم کی پابند ی کرنے کی تربیت کرتے ہیں تاکہ ہم آئندہ 11مہینے بھی اللہ کا حکم مانیں اور تقویٰ اختیار کریں۔انہوں نے کہاکہ تقویٰ صرف ظاہر نہیں بلکہ باطن میں بھی تقویٰ ہو۔روزہ انفرادی عبادت ہے مگر پوری امت پر ایک ہی ماہ  مبارک میں اجتماعی طورپر فرض کی گئی ہے اس لیے تقویٰ بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر ہوتا ہے
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس