Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

حکومت ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھنے جارہی ہے،آٹھ ارب ڈالر کی لمبی زنجیر عوام کے ہاتھوں میں ڈال دی۔سینیٹرسراج الحق


لاہور 11مئی 2019ء:    امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کرکے ملک کو عملاً گروی رکھنے جارہی ہے اور  قومی خزانے کی چابیاں آئی ایم ایف کے حوالے کی جا رہی ہیں ۔آج ملک کی سب سے اہم وزارت آئی ایم ایف کے پٹواریوں کے ہاتھ میں ہے ۔ حکومت حقائق کی بجائے خواہشات کی بنیاد پر فیصلے کررہی ہے۔ حکومت نے آٹھ ارب ڈالر کی لمبی زنجیر عوام کے ہاتھوں میں ڈال دی ہے ۔سپر ٹیکس لگانے اور جی ایس ٹی بڑھانے سے معیشت اور بھی بیٹھ جائے گی۔جہاں نالائقی اور تکبر ایک ہوجائیں وہاں تباہی یقینی ہوتی ہے ۔قدرت کسی پر ظلم نہیں کرتی ،اللہ نے ہر انسان کو ترقی کے مساوی مواقع دیئے ہیں ،ہر انسان کے پاس 12ماہ ،چوبیس گھنٹے اور تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں لیکن کچھ اپنی نالائقی کی وجہ سے ناکام ہوجاتے ہیں اور کچھ وقت کا درست استعمال کرکے کامیابیاں سمیٹ لیتے ہیں۔حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو اب تک ایک ٹریلین روپے کا نقصان ہوچکا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ستارہ مارکیٹ گرائونڈ اسلام آباد میں اسلام آبادکے شہریوں کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب سے امیر العظیم ، نائب امیر لیاقت بلوچ اور میاں محمد اسلم نے بھی خطاب کیا ۔
    سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ آغاز میں حکومت کا موقف تھا کہ 10 ارب ڈالر مل جائیں تواسے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔حکومت کو سعودی عرب اور عرب امارات سے آٹھ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر مل گئے مگر اس کے باوجود وہ آئی ایم ایف کے در پر جھک گئی ۔حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کوایک ٹریلین کا نقصان اٹھا نا پڑاہے ۔حکومت نے گزشتہ حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کو ہی جاری رکھا ہے ،جس طرح سابقہ حکومتوں نے آئی ایم ایف کو اپنا مشکل کشا بنایا ہوا تھا اسی طرح موجودہ حکومت آئی ایم ایف کو اپنی ہر پریشانی کا حل سمجھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر 9۔سو ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے سے عام آدمی کا سانس بھی بند ہوجائے گا۔ حکومت نے اقتدار سنبھالنے سے قبل ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے اور اقتدار میں آنے کے بعدمرغیاں دینے کا اعلان کیا تھا مگر نہ نوکریاں دیں اور نہ مرغیاں ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف کی طر ف سے ملنے والا نیا قرضہ سابقہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں چلاجائے گا اور قوم کے ہاتھ پھر کچھ نہیں آئے گاجبکہ معاہدے کے نتیجے میں ہر پاکستانی کو چار ہزار ایک سو روپے اضافی ٹیکس دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدوں کے ذریعے اپنے سابقہ قرضوں کا سود وصول کررہا ہے اور ہمارے حکمران سمجھتے ہیں کہ انہیں نئے قرضے مل رہے ہیں۔جوحکومت گزشتہ بجٹ میں چار اعشاریہ چارسو پینتیس ٹریلین ریونیو کا ہدف پورا نہیں کرسکی اور تین سو پنتالیس ارب کم جمع کئے، وہ نئے ٹیکس کیسے وصول کرے گی ۔حکومت کا ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ بجلی گیس اور تیل کی قیمتوں اور جنرل سیلز ٹیکس کے ذریعے عوام کا خون نچوڑا جائے اور آئی ایم ایف کے مطالبے پورے کئے جائیں۔
    استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر العظیم نے کہا کہ حکمرانوں کے پاس ترقی و خوشحالی کا کوئی وژن نہیں اور نہ ان میں اتنی صلاحیت اور اہلیت ہے کہ وہ موجودہ بحران کا کوئی باعزت حل تلاش کرسکیں ،جس طرح سابقہ حکمران قرضوں کی مے پیتے تھے اسی طرح یہ حکمران سود کے نشے میں مست ہیں۔سودی قرضوں کے نشہ میں حکمران عقل و خرد سے عاری ہوچکے ہیں ،مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے ۔عام آدمی کیلئے سحری اور افطاری کا انتظام کرنا مشکل ہوچکا ہے اور وزیر اعظم صاحب طفل تسلیوں سے آگے نہیں بڑھ رہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت غریبوںکو مرغیاں تودے نہیں سکی اب بکریوں بھینسوں اور گھروں کے وعدے کررہی ہے جو عوام کے ساتھ بدترین مذاق ہے۔     
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس