Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قومی ایکشن پلان کی بنیاد پر مذہب ،مساجد ،مدارس کے خلاف کاروائیاں غلط اور ناجائز اقدام تھا۔لیاقت بلوچ


لاہور 10مئی 2019ء:    نائب امیرجماعت اسلامی سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستا ن لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔قومی ایکشن پلان کی بنیاد پر مذہب ،مساجد ،مدارس کے خلاف کاروائیاں غلط اور ناجائز اقدام تھااس اہم ترین کاروائی کو سوچے سمجھتے منصوبے کے تحت غلط رخ دیا گیا،انتہاپسندی اور دہشت گردی کو مذہب سے نہ جوڑا جائے ۔دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کیلئے ہر طرح کی انتہا پسندی کو پلان کے دائرہ کار میں لایا جائے ۔جنرل مشرف دور سے حساس ادارے نوجوانوں ،بزرگوں ،خواتین اور شہریوں کو اغواء کرتے اور لاپتہ کردیتے ہیں ۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے لاپتہ افراد کے خاندانوں کے افراد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
    لیاقت بلوچ نے کہا کہ زندہ انسانوں کو ان کے گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کردینا خاندانوں ،لواحقین اور دوستوں میں شدید ردعمل کا باعث بن رہا ہے ۔دشمن اس صورتحال کا فائدہ اٹھا رہا ہے ۔کوئی بھی فرد جو قانون کو ہاتھ میں لے یا قانون سے ماورا اقدام کرے اسے قانون کے کٹہر ے میں لایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن میں رہتے ہوئے تمام صورتحال سے آگاہ رہے اب چپ نہ سادھیں اور لاپتہ افراد کے گھمبیر مسئلہ کو آئین او رقانون کے مطابق حل کیا جائے ۔
    دریں اثنا لیاقت بلوچ نے جامع مسجد اعلیٰ اچھرہ میں جمعہ کے اجتماع اور فیض الباری کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عوامی افطار ڈنر کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور بیر وزگاری نے غریب کیلئے گھر کا چولہا جلانا اور اپنے بچوں کو پالنا مشکل بنا دیا ہے ۔عمران خان حکومت نے ملک و ملت کو آئی ایم ایف کے احکامات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔ماہ رمضان میں بازاروں ،رمضان سٹالز میں ہر چیز کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے ۔گزشتہ سالوں کی نسبت اس سال صورتحال زیادہ ابتر ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے مہنگائی کو روکنے کی کوشش نہ کی تو مہنگائی کا جن حکومت کو بھی نگل جائے گا۔
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس