Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قبائلی اضلاع کے ساتھ 1000 ارب روپے خصوصی گرانٹ کا جو وعدہ کیا گیا تھا،وہ ادا کیاجائے۔قرارداد


لاہور  /  9 مئی 2019ء:جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے حالیہ اجلاس میں قبائلی علاقہ جات بارے ایک قرار داد میں مطالبہ کیاہے کہ قبائلی اضلاع کے ساتھ 1000 ارب روپے خصوصی گرانٹ کا جو وعدہ کیا گیا تھا، اس کا اس سال کا حصہ جو کہ 100 ارب ہے ، فوری طور پرریلیز کیاجائے اور صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی انتخابات کے بعدا س کو منتخب نمائندوں کی مشاورت سے خرچ کیا جائے۔ قبائلی اضلاع میں اس وقت موجودہ عدالتی خلا کوفوری طور پر پُر کیا جائے اور عدالتوں کوتمام لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جائے۔ قبائلی اضلاع میں 30 ہزار نئی آسامیوں کی تخلیق اور ان پر بھرتیوں کا عمل تیز کیا جائے۔قبائلی اضلاع کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کا آغاز کیا جائے۔قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی اہمیت کے پیش نظر حکومت اور الیکشن کمیشن عوامی شعور کی بیداری کے لیے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر خصوصی مہم چلائے۔قبائلی اضلا ع میں معدنیات کی کان کنی کو ریگولرائز اور جدید بناتے ہوئے مقامی اقوام اور علاقوں کو آمدن میں کم از کم نصف حصہ دیا جائے۔بلدیا تی قانون کا موجودہ مسودہ آئین سے متصادم اور ایک بے جان دستاویزہے ،اس پر تمام سیاسی جماعتوں سے اسمبلی کے اندر اوراسمبلی کے باہر مشاورت کی جائے۔نیز موجودہ بلدیاتی قانون میں بڑے پیمانے پر تبدیلی الیکشن میں تاخیرکا بھی سبب بن سکتی ہے، لہٰذا جماعت اسلامی کسی ایسے اقدام کی بھر پور مخالفت اور مزاحمت کرے گی ۔ قبائلی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کی حلقہ بندیاں کرتے وقت علاقائی اور قومی اکائیوں کو بھی لازما ًملحوظ خاطر رکھا جائے۔لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور ان کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے۔لینڈ مائنز کی وجہ سے انسانی اعضاءاور زندگیاں ضائع ہو رہی ہے لہٰذا ان کو کلیئر کیا جائے۔باجوڑتا ضلع جنوبی وزیرستان پاک افغان ہارڈرپر زمانہ قدیم سے موجودتمام تجارتی راستوں کو کھول دیاجائے اور قبائلی عوام کو پہلے سے میسرواحدتجارتی و کاروباری ذریعہ معاش کو استعمال میں لانے کا موقع فراہم کیاجائے۔
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس