Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

آئی ایم ایف کا یہاں آکر بیٹھنا اورہمارے فیصلے کرنا،اس بات کی علامت ہے کہ ہم بغیر جنگ کے اپنی آزادی سے دستبردار ہورہے ہیں۔سینیٹرسراج الحق


لاہور7 مئی 2019ء:    امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران باہر کی دنیا کی بجائے اپنی قوم پر اعتماد کریں۔آئی ایم ایف کا یہاں آکر بیٹھنا ،خود نگرانی اور فیصلے کرنا، ہمیں ڈکٹیٹ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ہم بغیر جنگ کے اپنی آزادی سے دستبردار ہورہے ہیں۔ آزادی کے 73سال بعد آئی ایم ایف کی شکل میں ہمیں ایسٹ اینڈیا کمپنی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔آئی ایم ایف کے لوگوں کو قوم کے کندھوں پر سوار کرنے سے ہماری آزادی اور خود مختاری کو خطرہ ہے۔پاکستان کے مستقبل کو خطرہ ہے۔اگر ترقی کرنی ہے تو ملک میں جمہوریت کو عام کریں۔جمہوریت کے لبادے میں آمریت کی طرف جانا پاکستان کے لیے شدید خطرات پیدا کرے گا۔حکومت کے خلاف بیا ن دینے پر مولانا فضل الرحمن سے چھینی گئی سیکورٹی واپس کی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    سینیٹر سرا ج الحق نے کہا کہ حکومت نے معیشت میں بہتری کے لیے اپوزیشن سے مشاورت کی اور نہ ملک میں موجود ماہرین معاشیات پر اعتماد کیا۔حکومت کا پورے کا پورا انحصار آئی ایم ایف پر ہے۔آئی ایم ایف اس سے پہلے کئی ملکوں کی معیشت کا بیڑہ غرق کرچکی ہے۔حکومت نے اب آئی ایم ایف کو پاکستان میں بٹھا دیا ہے۔پہلے ملکی ماہرین آئی ایم ایف کے ساتھ مذکرات کرتے تھے اب آئی ایم ایف ،آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔ہرطرف آئی ایم ایف ہے۔پاکستانی قوم او ر پاکستان کہیں نظر نہیں آتا۔انہوں نے سوال کیا کہ ہم بیٹھ کر صرف تماشا دیکھتے رہیں گے۔جس طر ح پراسرار طریقے سے معین قریشی آئے تھے اور آتے ہی پاکستانی روپے کی قدر کم کی تھی اسی طرح رضا باقر پر اسرار طریقے سے آئے ہیں اور آتے ہی انہیں غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے اسٹیٹ بینک کا چیئر مین لگا دیا گیا ہے۔آئی ایم ایف کے آنے کے بعد ہمار ا سی پیک ،ہماری معیشت اور ملک خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔یہ لوگ پاکستان کو دوبارہ ون یونٹ کی طرف لے جائیں گے۔امریکہ اور اس کے حواریوں نے دنیا کاجو نقشہ ترتیب دیا ہے اس میں پاکستان کا یہ نقشہ نہیں ہے۔جو حشر انہوں نے لبنان،لیبیا اور شام کا کیا اسی راستے پر اب وہ پاکستان کو ڈالنا چاہتے ہیں۔   
    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس وقت ملک کے حالات انہتائی تشویشناک ہیں۔2007ءکے بعد کسی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ نہیں دیاحالانکہ آئین کا تقاضا ہے کہ ہر پانچ سال بعد این یف سی ایوارڈ دیا جائے۔اس کا صوبوں کو نقصان ہوا ہے۔وسائل سارے مرکز کے پاس ہوتے ہیں۔قومی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم سے خاص طور پر غریب صوبوں کے احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم کے اس بیان پر سخت حیرت کا اظہار کیا کہ صوبے ٹیکس جمع کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور ایف بی آر اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکا م ہوا ہے۔انہوں نے کہا یہ تو مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اداروں کومضبوط کرے۔اس کی ذمہ داری صوبوں پر ڈالنا مناسب نہیں۔ این ایف سی ایوارڈ نہ ملنے پر خیبرپختونخواہ اور خاص طور پر قبائلی علاقہ جات شدید محرومی اور پسماندگی کا شکار ہیں۔قبائلی علاقوںکے انضمام سے خیبر پختونخواہ پر بے انتہا بوجھ پڑا ہے۔سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت بھی اعلانات تو کرتی ہے مگر عملاً کچھ نہیں کیا جارہا۔وزیر اعظم نے مہمند ایجنسی میں جلسہ سے خطاب میں ایک بار پھر سو بلین پیکج کا اعلان کیا لیکن حکومت اپنے کسی وعد ے پر عمل نہیں کررہی ۔وزیر اعظم کہتے ہیں ہمارے شہر کھنڈرات بن گئے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ وسائل پر مرکز کا قبضہ ہے اور صوبوں کو ان کا حصہ نہیں مل رہا جس کی وجہ سے شہر ترقی سے محروم ہیں۔
     سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ مولانا فضل الرحمن کو سیکورٹی واپس کی جائے۔حکومت نے مولانا فضل الرحمن سے سیکورٹی واپس لیکر تنگ نظری اور تعصب کا مظاہر ہ کیا ہے۔پاکستان کے ہر شہری کو سیکورٹی مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔مولانا فضل الرحمن پر پہلے بھی کئی بار حملے ہوچکے ہیں اور اب بھی انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں اس لیے حکومت فوری طور پر انہیں سیکورٹی واپس کرے۔سیاسی اختلافات اپنی جگہ پر لیکن یہ مناسب نہیں کہ کوئی حکومت کے خلاف بات کردے تو اس سے سیکورٹی چھین لی جائے۔یہ ہماری سیاسی تاریخ میں بد نما داغ ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس