Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دارالصحت ہسپتال پر 5 لاکھ جرمانہ عائد کر کے سندھ حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی ۔ برجیس احمد


 کراچی 25اپریل 2019ء:جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر برجیس احمد نے ننھی بچی نشوا کی المناک موت کے بعد مجرمانہ غفلت و لاپرواہی برتنے پر سندھ حکومت کے ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے دارالصحت ہسپتال پر صرف 5لاکھ روپے جرمانہ عائد کر نے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ جرمانہ عائد کرکے ذمہ داران کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور انسانی جان کی قدر و قیمت کو مذاق بنایا گیا ہے اس طرح سندھ حکومت خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ۔ نشوا کے افسوسناک واقعے نے محکمہ صحت کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کو عیاں کر دیا ہے ۔اخباری اطلاعات کے مطابق دارالصحت ہسپتال میں 80فیصد عملہ اور پیرا میڈیکل اسٹاف غیر تربیت یافتہ تھا اور ہسپتال کی انتظامیہ اور مالک کو صرف اپنے نفع اور کاروبار سے سروکارتھا ۔ ہسپتال میں کیا ہو رہا ہے نہ ہسپتال انتظامیہ نے کبھی کچھ سوچا اور نہ محکمہ صحت نے کبھی کوئی انسپکشن کیا ۔ برجیس احمد نے کہا کہ سر کاری ہسپتالوں کی حالتِ زار سے تو سبھی واقف ہیں لیکن اب جو صورتحال نظر آرہی ہے اس سے واضح ہو رہا ہے کہ نجی ہسپتال بھی عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں ۔ بھاری فیسیں وصول کر نے کے باوجود صارفین کو صحت کی اچھی اور معیاری سہولتیں فراہم کر نے کے بجائے ہزاروںاور لاکھوں روپے کے بل بنا دیئے جاتے ہیں ۔ دارالصحت ہسپتال ہی نہیں دیگر نجی ہسپتالوں میں بھی غیر تربیت یافتہ عملہ کم تنخواہوں پر مقرر کیا گیا ہے۔ سندھ حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی موثر نظام کہیں نظر آتا ۔ نشوا جیسے افسوسناک واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی ذمہ داری سندھ حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ برجیس احمد نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے ۔ شہر بھر میں موجود نجی ہسپتالوں کا انسپکشن کیا جائے ۔ عملے اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی اہلیت اور قابلیت چیک کی جائے اور تمام نجی ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا موثر نظام بنایا جائے تاکہ آئندہ اس طرح کا واقعہ رونما نہ ہو۔ حکومت سندھ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کر کے اپنی ذمہ داری پوری کرے نیز ذمہ دارافراد کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس