Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ملک میں صدارتی نظام کی باتیں کرنے والے قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنا اور ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں ۔سینیٹر سراج الحق


 لاہور25اپریل 2019ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہ ملک میں صدارتی نظام کی باتیں کرنے والے قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنا اور ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں ۔ 1973 ءکے متفقہ آئین کو متنارعہ بنایا گیا تو پھر قوم کسی ایک دستور پر جمع نہیں ہو سکے گی ۔ موجودہ حکومت کے دور میں 73 ءکے آئین کو خطرات لاحق ہیں ۔ اٹھارویں ترمیم میں کئی ایک سقم ہیں جن کو دور کیا جانا چاہیے ۔ 2018 ءکے انتخابات کے نتیجہ میں ملک میں بہتری آنے کی بجائے مزید ابتری آئی ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں جاری مرکزی مجلس شورٰی کے سہ روزہ اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک کو اس وقت متبادل قیادت کی ضرورت ہے مگر ہم پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ کی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ ہم سمجھتے ہیںکہ جس طرح ملک کو پانی اور روشنی کی ضرورت ہے اس سے بڑھ کر اسلامی نظام کی ضرورت ہے لیکن آمریت اسلامی نظام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میںسو ل عدالتوں کی موجودگی میں فوجی عدالتوں کی کیا ضرورت ہے ۔ ایک ملک میں دو عدالتیں اور دو حکومتیں کیسے چل سکتی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں صدارتی نظام کا مطلب ورلڈ بنک کے ٹیکنوکریٹس کی حکومت ہے جس میںپاکستان کے عوام کی نمائندگی ہوگی نہ ان کی بات سنی جائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکمران مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ ہے جس کو ہانک کر ایک پارٹی میں جمع کردیا گیاہے ۔ عوام کا موجودہ حکومت کے بارے میں خیال تھا کہ حکومت تین سال میں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کردے گی ۔ غربت مہنگائی لوڈشیڈنگ اور بے روزگاری جیسے مسائل حل کرلے گی اور ہر طرف خوشحالی ہوگی مگر حکومت نو ماہ بھی بڑی مشکل سے نکال سکی اور چاروں شانے چت ہوگئی ۔ حکمرانوں کی طرف سے اب ہر روز ایک نیا لطیفہ سامنے آرہاہے ۔ معاشی صورتحال مخدوش ہے ۔ سیاست یرغمال ہے اور پالیسی ساز ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے عوام کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اس وقت امت کو بہت سارے چیلنجز کا سامناہے ۔ اسلام دشمن قوتیں ہمیں فرقوں اور علاقوں کی بنیاد پر تقسیم کر کے ہماری قوت کو پارہ پارہ کرناچاہتی ہیں ۔ صوفی ، وہابی اور سیاسی اسلام کے نام پر ہماری وحدت اور اتحاد کو ختم کیا جارہاہے ۔ عالمی اسلامی تحریکوں کے راستے میں ہر جگہ رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ۔ مصر ، بنگلہ دیش ، کشمیر میں جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنوں کو ظلم و جبر کی چکی میں پیسا جارہاہے ۔ سینکڑوں قائدین اور ہزاروں کارکنان جیلوں میں بند ہیں ۔ بنگلہ دیش میں جاری پھانسیوں کا سلسلہ رکنے نہیں پا رہا۔پاکستان بچانے کی جدوجہد کرنے والوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔ حکومت پاکستان اور بین الاقوامی ادارے چپ سادھے بیٹھے ہیں ، پاکستان افراتفری کا شکار ہے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس