Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عوام سوال کررہے ہیں کہ سعودی وعرب امارات ودیگر ممالک سے آنے والے ڈالرزکہاں گئے ہیں۔۔ لیاقت بلوچ


 لاہور 16اپریل 2019ء: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ بدقسمتی سے مہنگائی کا سونامی بدعنوانی ،ناکامی وپریشانی کا عنوان بن گیا ہے بلوچستان پاکستان کیلئے حساس اور دشمن قوتوں کے دل میں ہمیشہ کھٹکتاہے دہشت گردوں نے تمام اقوام وعلاقوں اورسیکورٹی فورسزکو ٹارگٹ بنایاہے دشمن کا اصل ہدف افراتفری پھیلانا اورملک کو غیر مستحکم کرنا ہے دہشت گردی کے تمام چہرے بے نقاب ہونے چاہیں ۔دہشت گردی کے بڑے واقعات کے بعد بھی وفاقی وصوبائی حکومت خاموش ہیں دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے یکسوئی سے کام ہونا چاہیے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعے کے خلاف وزیراعظم سمیت پوری قوم متحد ویکسوتھی اور خیر سگالی کاپیغام پوری دنیاکو دیا یہاں بیرونی ہاتھ سرگرم مگر ان کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام سوال کررہے ہیں کہ سعودی وعرب امارات ودیگر ممالک سے آنے والے ڈالرزکہاں گئے ہیں۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے ساڑھے چودہ ارب ڈالر کا قرضہ لیا جارہا ہے جو آج تک کسی حکومت نے نہیں لیا۔اتنے ڈالرزآنے کے باوجود بے روزگاری مہنگائی بڑھ رہی ہے معیشت تباہ ہورہی ہے آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے کی خوشخبری دینے والے غلامی کاطوق قوم کے گلے میں ڈال رہے ہیں یہ ذلت آمیز معاہدہ ہے اور کشکول والامعاہدہ کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا معاشی بحران کنٹرول نہ کیا گیا تو بہت بڑابحران آئیگا ۔ افغانستان کی سرزمین پر امریکہ شکست کھاچکاہے جنہیں دہشت گردکہتا تھا اب انہیں سے مذاکرات کررہے ہیں اسرائیل اور ہندوستان امریکہ کے پاﺅں پکڑے ہوئے ہیں اس لیے یہ بڑافیصلہ کن مرحلہ ہے کہ افغان عوام کا ہر قیمت پر ساتھ دیاجائے امریکہ کو روس کی طرح کوئی شرمناک ریلیف نہیں ملنا چاہیے ان حالات کے دباﺅ پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی غلطی نہ کی جائے ۔پارلیمنٹ ،قومی قیادت ،ریاست کے تمام اداروں کو اس مرحلے پر ایک واضح لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے جماعت اسلامی قومی سطح پر قومی وحدت ویکجہتی کا کرداراداکر تی رہیگی ۔بلوچستان میں ہم جہاں گیے لوگ حکومتی کارکردگی سے مایوس ہیں نوجوان بے روزگاری ،عوام مہنگائی لاقانونیت ،بنیادی انسانی ضروریات کو ترس رہے ہیں عوام کو محفوظ باعزت زندگی چاہیے محرومیوں کا خاتمہ ہوناچاہیے ،سی پیک ترقی وخوشحالی کامنصوبہ ہے مگر موجودہ حکومت سی پیک کے حوالے سے بھی غیر فعال،تذبذب کا شکار ہے ۔ گوادر کے باسی اپنے مستقبل سے پریشان ،ماہی گیروں کا مستقبل تاریک ہے غلط حکمت عملی کی وجہ سے اپنے لوگوں سے روزگار چھیناجارہا ہے بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کی ضرورت ہے پارلیمنٹ کے ذریعے عوام کو ریلیف ملنے کی توقع تھی مگر حکومت سازمہربان بھی حکمرانوں کی کارکردگی پرپریشان ہیں ۔

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس