Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

پی آئی اے سمیت تمام اداروں میں ٹریڈیونینز پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔این ایل ایف


 کراچی 13اپریل2019ء:نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے مطالبہ کیا ہے کہ پی آئی اے سمیت تمام اداروں میں ٹریڈیونینز پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کی ہیلتھ فنڈز میں خوردبرد اور سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے کے الزام میں برطانیہ میں گرفتاری کے بعد حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ انٹرپول کے ذریعے عارف نقوی کو پاکستان لے کر آئے،ان سے کے الیکٹرک کی بربادی، اربوں روپے کی لوٹ مار اور ہزاروں محنت کشوں کے معاشی قتل عام کا بھی حساب لیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر این ایل ایف سندھ کے صدر سید نظام الدین شاہ ، کراچی زون کے صدر عبد السلام ، جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، سیکریٹری این ایل ایف کراچی قاسم جمال اور دیگر موجود تھے ۔این ایل ایف کے مرکز ی صدر اور دیگر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ڈیلی ویجز اور ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ تمام انڈسٹریز اور لیبر کو رجسٹرڈ کیا جائے۔ محکمہ محنت کی ناقص کارکردگی اور بھتہ خوری کا نوٹس لیا جائے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کیا جائے۔ قومی اداروں کو تباہ کرنے کے ذمہ دار نااہل سیاسی عناصر اور افسر شاہی کو احتساب کے شکنجے میں لایا جائے ، تمام قومی اداروں کو حکومت اپنے وعدے کے مطابق بحال کرے اوران اداروں میں دیانت دارو اہل انتظامیہ کا تقرر مستقل بنیادوں پر کیا جائے۔ سہ فریقی لیبر کانفرنس کا فوری اہتمام کیا جائے۔ لیبر قوانین کے نقائص دور کیے جائیں۔ انفارمل سیکٹر (غیرمنظم مزدور یعنی کھیت، منڈی، تعمیرات، فشریز، بھٹہ، کان کن اور گھریلو ملازمین) سمیت تمام مزدوروں کو سوشل سیکوریٹی، ورکرز ویلفیئر بورڈ اور ای او بی آئی کے نیٹ میں شامل کیا جائے۔حکومت غیرترقیاتی اخراجات کم کرے اور براہ راست ٹیکس GSTکو ختم کیا جائے۔ ٹیکس چوروں اور تمام ٹیکس پوٹینشل لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ اس طرح سالانہ 8تا 10ہزار ارب روپے ٹیکس وصول ہوسکتا ہے۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت کی آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات میں قومی اداروں ،پی آئی اے، پاکستان اسٹیل، ریلوے وغیرہ کی نجکاری کیلئے خفیہ شرائط شامل کی گئی ہیں۔ وفاقی وزیرنجکاری محمد میاں سومرو نے بھی دودن قبل کہا ہے کہ کسی بھی قومی ادارے کو نجکاری کی فہرست سے خارج نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کی نجکاری موخر کی گئی ہے۔ شمس الرحمن سواتی نے کہاکہ نجکاری تباہی کا راستہ ہے۔ افسرشاہی اور سیاسی کرپٹ مافیا اپنے کیے کی سزا قومی اداروں اور ملازمین کو نہ دے۔ ہم نے ماضی میں بھی اسے قبول نہیں کیا اور اس کی مزاحمت کی ہے اور آئندہ بھی اس کی بھرپور مزاحمت کریں گے۔آئی ایم ایف کے قرضوں نے ہی ملکی معیشت کو تباہ کیا ہے اور عام آدمی پر براہ راست ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ اس میں بے پناہ اضافے سے عام آدمی کیلئے جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنا محال ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری میں 259مزدوروں کو زندہ جلانے کا واقعہ دنیا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا بھیانک واقعہ ہے۔ اس کے مجرموں کو قانون کے شکنجے میں لانا تو درکنار، متاثرہ خاندان کو معاوضے کی ادائیگی بھی انصاف کے مطابق نہیں کی گئی۔شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن کی میزبانی میں گزشتہ روز ایک پری بجٹ سیمینار ادارہ نور حق میں منعقد کیا گیا جس میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی سمیت شہر کے تمام نمایندوں اور مزدور تنظیموں نے شرکت کی۔ اس سیمینار نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔ کم از کم تنخواہ غیرہنرمند کیلئے 30ہزار اور پنشن /بڑھاپا الاؤنس 15ہزار مقرر کی جائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس