Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

وزیر اعظم پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کیلئے سودی نظام کے خاتمے کا اعلان کریں۔امیرالعظیم


لاہور5 مارچ 2019ء:امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہا ہے کہ سینٹ میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی جانب سے نجی قرضوں پر سود کی مخالفت کابل 2017اتفاق رائے سے منظور ہونا خوش آئند اقدام ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی معاشی نظام بڑی خرابی کا باعث ہے۔اس سے دولت سمٹ کر سرمایہ داروں تک محدود ہوکررہ گئی ہے۔دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے چھٹکارہ حاصل کرنے اور ملک وقوم کو خوشحال بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی طرزمعیشت کو اختیار کیاجائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں انگریزوں کا قانون رائج ہے،جس نے پاکستان کو معاشی طورپر کبھی مستحکم نہیں ہونے دیا۔سودی معیشت نے دنیا کے بڑے بڑے اداروں اور ممالک کو مفلوج اور دیوالیہ کرکے رکھ دیاہے۔عالمی ساہوکاروں نے دنیا کی دولت پر قبضہ جمانے کے لیے اپنے مفادات پر مبنی پالیسیاں ترتیب دیں اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہر دورحکومت میں سودی طرزمعیشت سے نجات کے لیے آوازیں بلند ہوتی رہیں مگر بدقسمتی سے کسی حکومت نے بھی اس پر سنجیدگی سے اقدامات نہیں کیے،یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کی معیشت ز بوں حالی کا شکار ہے۔قرضوں پر لگنے والے سود کو اداکرنے کے لیے بھی مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ منافع بخش ادارے خسارے میں جاچکے ہیں اور اس گھمبیر صورتحال سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔پی ٹی آئی کی حکومت کے صرف چھ ماہ کے دوران تین ہزار ارب روپے کے قرضے لیے گئے جس سے ملکی کل قرضہ 33ہزار238ارب سے تجاوز کرچکا ہے۔اگر اسی رفتار سے قرض لینے کی پریکٹس جاری رہی تو اگلے پانچ برسوں میں کل مجموعی قرضہ 60ہزار ارب روپے سے بڑھ جائے گا۔2018تک ہر پاکستانی ایک لاکھ38ہزار روپے کامقروض تھا جو کہ اب ایک لاکھ53ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔امیر العظیم نے مزیدکہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی معاشی پالیسی کہیں نظر نہیں آتی۔یوں محسوس ہوتاہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس کسی قسم کامعاشی وژن نہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کاقوم سے وعدہ کیا تھا اس لیے ضروری ہے کہ ملک سے سودی نظام کاخاتمہ اور اسلامی طرزمعیشت کو اختیار کرکے معاملات کو چلایاجائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس