Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

میڈیا کومثبت صلاحیتوں کی تربیت کا ذریعہ بنایا جائے ۔اسماء سفیر


کراچی ؍02 مارچ2019ء:جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کی ناظمہ اسماء سفیر نے ارباب اقتدار اور پیمرا سے مطالبہ کیا کہ میڈیا کو تعلیم اور معلومات کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے، میڈیا کو سماجی مسائل کے حل کے حوالے سے رہنمائی اورنوجوان نسل کی مثبت تخلیقی صلاحیتوں کی تربیت کا ذریعہ بنایا جائے،ٹی وی چینلز کو پیمرا قوانین کا پابند بنا یا جائے،ڈراموں کی کہانیوں میں استحکام خاندان، رشتوں میں محبت، حسن سلوک اور مثبت سوچ کو پروان چڑھایا جائے اور اشتہارات کو ضابطۂ اخلاق کا پابند بنایا جائے،مارننگ شوز میں مغربی و ہندوانہ رسومات کی روک تھام کی جائے،ٹاک شوز کو اکھاڑا بنانے اور ذہنی انتشار پھیلانے کے بجائے مسائل کے حل کی نشاندہی کے لیے استعمال کیاجائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی (حلقہ خواتین )کراچی کے تحت اصلاح معاشرہ مہم کے سلسلے میں ڈسکشن فورم میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈسکشن فورم میں انچارج میڈیا جماعت اسلامی (حلقہ خواتین )پاکستان عالیہ منصور ،، سکریٹری اطلاعات (حلقہ خواتین) کراچی ثنا ء علیم ،انچارج شعبہ آئی ٹی کراچی سعدیہ حمنہ ،بحریہ میڈیکل کالج کی پروفیسرڈاکٹر سمعیہ شعوانہ ،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی پروفیسر رفیعہ تاج ،پروفیسر سائیکلوجی جامعہ کراچی تنویر عشرت ،حمنہ خان، شاہینہ فلک صدیقی ،افشاں نوید ،ہما بیگ ،ڈاکٹر صبا، ناہید عزمی ، ثمرین احمد ،عنبرین الطاف سمیتمختلف علمی، سماجی اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی سینئر خواتین نے ڈسکشن فورم میں اظہار خیال کیا۔ فورم میں اصلاح معاشرہ مہم کے حوالے سے متفقہ طور پرقرارداد منظورکی گئی۔اسماء سفیر نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ ذرائع ابلاغ کے بنیادی مقاصد تعلیم ، تفریح اور مستند معلومات کی فراہمی ہے ،میڈیا اپنے اثرات اور تیز رفتاری کی وجہ سے معاشرے کے ہر شعبے میں رہنما کردار ادا کررہا ہے ،ہمارے چینلز کی صورتحال آج لمحہ فکر ہے کہ ڈراموں کے ذریعے بدلتی اقدار و روایات اور منفی رجحانات متعارف کروائے جارہے ہیں ،ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ذہنوں میں اسلام کے عائلی قوانین کے خلاف شکوک و شبہات کے بیج بوئے جارہے ہیں ،میڈیا میں طلاق و خلع ، محرم ونامحرم جیسے نازک رشتوں اور دینی معاملات کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرتے نظر آرہے ہیں، ہمارا میڈیا نوجوان نسل اور بچوں کوتعلیم اور تفریح کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کو ابھارنے میں ناکام نظر آتا ہے،فیملی چینلز پرحیاسوزاشتہارات نے پیمرا کے قوانین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں،معاشرے کی بنیاداکائی خاندان کا ادارہ اس کا خصوصی ہدف ہے ۔آج ضروری ہے کہ ، بچوں کی ذہنی اور تخلیقی نشونما اور اخلاقی تربیت کے لئے پروگرام تیار کئے جائیں،جادو ٹونے سازشیں،بھوت پریت پر مبنی بے مقصد پروگرام اور ڈرامے وقت کا ضیاع ہے ، ایسے پروگرامز پر پابندی عائد کی جائے،میڈیاریاست کا چوتھا ستون ہونے کی حیثیت سے آئین و دستور پر عملدرآمد کا پابند ہے آئین و دستور کی روح سے متصادم پروگرامات پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔#

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس