Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستانی عوام یک زبان اور متحد ہیں۔امیرالعظیم


لاہور28 فروری 2019ء:امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہا ہے کہ پاک فضائیہ کی طرف سے در اندازی کرنے والے بھارتی طیاروں کو مار گرانے اور قومی و عسکری قیادت کی جانب سے دشمن کو واضح پیغام دینے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ قومی قیادت اس حوالے متفق اور متحد ہے کہ ملکی سا لمیت پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی تینوں مسلح افواج ملکی حدود کی حفاظت کے لیے ہر وقت سربکف ہیں۔ ہمیں اپنی مسلح افواج پر ناز ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روزلاہور میں مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ دشمن نے ہمیں للکارا تو اس کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹادیں گے۔ہم دفاع وطن کی خاطر ہر دم تیار ہیں ۔ ہندوستان کسی غلط فہمی میں نہ رہے ، اس کے مذموم عزائم کو خاک میں ملاکر پاکستانی پرچم کو سربلند کریں گے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھارت کی جارحیت کا نوٹس لے اور اس کا جنگی جنون ختم کرائے۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستانی میڈیا منفی پروپیگنڈا کرکے صورت حال کو مزید خراب بنارہا ہے، جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کو اپنی جارحانہ سوچ کو بدلنا ہوگا۔ پاکستان کے 22کروڑ غیور اور بہادر عوام ہندوستان کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک ہے۔ ہم نے ہمیشہ امن کی خواہش کا احترام کیا ہے اور امن کی کاوشوں کو پروان چڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرتے چلے آئے ہیں مگر یہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتیں جب تک مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور پر امن حل تلاش نہیں کرلیا جاتا۔ بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستانی عوام کراچی سے چترال تک یک زبان اور متحدہوچکے ہیں۔ ہندوستان نے در اندازی کرکے دنیا کو اپنا مکروہ چہرہ دکھادیا ہے۔ امیر العظیم نے مزید کہا کہ70 برسوں سے مذاکرات کا ڈھونگ رچانے والوں کو دیکھتے آرہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا اور مذاکرات کی آڑ میں دنیا کو گمراہ کیا ہے۔ جب تک اقوام متحدہ اور انسانیت کے علمبردار ممالک کشمیر میں بھارت کی وحشیانہ کاروائیاں اورریاستی دہشت گردی کا نوٹس نہیں لیتے اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت نہیں دلایا جاتا اس وقت تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس