Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قومی سطح پر تمام بنیادی مسائل میں سب سے بڑا ایشوانڈیا کی آبی جارحیت ہے ۔چوہدری نثار احمد


لاہور18فروری2019ء: صدر کسان بورڈ پاکستان چوہدری نثار احمدنے اپنے مرکزی دفتر میں میڈیا کے نمائدوں سے خطاب کرتے کہا کہ قومی سطح پر جتنے بھی بنیادی مسائل ہیں سب سے بڑا ایشو،،انڈیا کی آبی جارحیت ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ریکارڈپر موجود ہے کہ 1996ء میں نہروں میں پانی کی قلت 2فیصد ریکارڈ کی گئی ۔1997ء میں یہ کمی 9 فیصد ہوگی ۔ 2000ء تک یہ کمی 43% تک پہنچ گئی۔ بارشیں کم ہونے سے یہ قلت 61% پہنچ چکی ۔ پانی کی عدم دستیابی کے باعث صوبہ بلوچستان ، سندھ اور جنوبی پنجاب میں ہزاروںانسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ لاکھوں مویشی اور افراد پانی کی کمی کے علاقوں سے نقل مکانی کرچکے ہیں ۔ہندوستان نے دریائے ستلج ،بیاس اور راوی کا 100% اور  دریائے چناب، جہلم اور سندھ کا مجموعی طور پر 80% پانی روکنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ دریائے چناب سے بگلیار ڈیم کی تعمیر سے پہلے 90 لاکھ ایکڑ رقبہ سیراب ہوتا تھا۔ اب صرف 23 لاکھ سیراب ہورہا ہے ۔یہ  اٹل حقیقت ہے کہ بھارت دریائے چناب پر مکمل قبضہ کر چکا ہے ۔ جہلم پر قبضہ کیلئے 54 منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ بھارت جلد ہی تک دریائے جہلم کا پانی بھی کنٹرول کرلے گا۔ اور دریائے سندھ پر بھی ڈیم بنا کر انڈیا ہمارے ملک کو تباہ کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میںمزیدکہا کہ بھارت جنگی بنیادوں پر پاکستانی باقی ماندہ دریاؤں پر متنازع ڈیموںکی تعمیرکر رہا ہے ۔ جس کے بعد پاکستان دریائے چناب کے پانی سے مکمل طور پر محروم ہوجائے گا۔ دونوں متنازع ڈیموںکو فی الفور انٹرنیشنل کورٹ میں چیلنج کیاجائے ۔ انڈین آبی دہشت گردی نہ روکی گئی تو آئندہ سیزن میں گنے ،کپاس اور دیگر فصلوں کی کاشت بری طرح متاثر ہو گی اور قحط سالی کا خطرہ  بڑھ جائے گا۔انہوں نے  کہا کہ یکم مارچ سے کسان بورڈ پاکستان کسانوں کے مسائل  کے حل کیلیے اور انڈین آبی جارحیت کے خلاف عوام اور کسانوں میں شعور بیدار کرنے کیلیے عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے اور حکمرانوں کو یہ مسائل حل کرنے کیلیے مجبور کر دیں گے ۔انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ  کیا گیا کہ  پانی کی کمی کے مسئلے اور انڈیا کی آبی دہشت گردی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جائے اور اس پر اے پی سی بلا کر قومی پالیسی بنائی جائے

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس