Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

سائنس و ٹیکنالوجی کی مدد سے وسائل کو بروئے کار لایا جائے تومسلمان دنیا پر حکمرانی کریں گے۔سینیٹرمشتاق احمد خان


 

پشاور 11 فروری 2019ء:امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا و چیئرمین سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی اوراس کے ذریعے جدید مصنوعات کی تیاری کے ذریعے غربت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور خود انحصاری کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔سائنس و ٹیکنالوجی کے اختراعات اور ایجادات نے پورے کرہ ارض پر معیار زندگی اور معیشت کو تبدیل کیا ہے۔ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ وقت کی ضرورت ہے۔ جامعات ، آر اینڈ ڈی آرگنائزیشن ، انڈسٹری کی سطح پر مضبوط اور مربوط رابطہ کاری اور اسی طرح لوکل اور گلوبل سطح پر رابطہ کاری کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ نالج بیسڈ اکانومی ہی کسی ملک کو ترقی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔طلبہ اور نوجوان کسی ملک کا اصل سرمایہ ہیں۔ بہترین انویسٹمنٹ نوجوانوں پر انویسٹ کرنا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاست ، سپورٹس اور شوبز کے تکون کا قبضہ ہے۔ چائے والے کو ہیرو بنا کر ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ جب تک ہم سائنسدانوں ، ٹیکنالوجسٹس اور ماہرین علم و فن کو گلیمرائز نہیں کریں گے اور انہیں سماج میں ہیرو کے طور پر پیش نہیں کریں گے اس وقت تک پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔عالم اسلام کے پاس تیل و گیس سمیت ہر قسم کی معدنیات کے بے پناہ وسائل ہیں لیکن سائنس و ٹیکنالوجی سے دوری کی وجہ سے انہیں استعمال میں نہیں لایا جارہا ۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی مدد سے ان وسائل کو بروئے کار لایا گیا تو مسلمان دنیا پر حکمرانی کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر )زیر اہتمام پی سی ایس آئی آر لیبارٹریز کمپلیکس میں پاکستان کی سماجی اقتصادی ترقی سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اعلیٰ تعلیم کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس اور ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے سینیٹر پیر صابر شاہ، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی وفاقی سیکرٹری یاسمین مسعود، پی سی ایس آئی آر کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد عالم، ڈی جی پی سی ایس آئی آر لیبارٹریز کمپلیکس لاہور ڈاکٹر قرا


 

¿ة العین سید سمیت شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی کے طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کانفرنس کے بعد سائنس ایکسپو کا بھی افتتاح کیا اور مختلف اداروں کی طرف سے لگائے گئے نمائشی سٹالز کا بھی دورہ کیا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ کو بڑھانے کا واحد ذریعہ انڈسرٹلائزیشن ہے اور یہ کام علم اور جدت کے بغیر نہیں ہوسکتا، اس حوالے سے ہمیں چائنہ ، جاپان ، سنگاپور اور ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تھری اِیز ایجوکیشن، ایمپلائمنٹ اور انگیجمنٹ کے ذریعے نوجوانوں کو قومی ترقی کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ قوموں کی ترقی کا راستہ لائبریریوں اور لیبارٹریوں سے ہوکر گزرتا ہے۔انہوں نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور پی سی ایس آئی آر کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس