Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

پرویز محمود کے قتل کے ماسٹر مائنڈ و سہولت کاروں کی بھی گرفت کی جائے ۔ حافظ نعیم الرحمن


کراچی ؍08 فروری 2019ء:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نیجماعت اسلامی کے رہنما سابق ٹاؤن ناظم لیاقت آباد ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل میں ملوث ایم کیو ایم کے ایک اور ٹارگٹ کلر بابر علی عرف موٹا کی گرفتاری پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم پہلے بھی کہتے تھے کہ ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل میں ایم کیو ایم ملوث ہے تو اس بات کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا لیکن آج ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ ڈاکٹر پرویز محمود کو ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلر اسکواڈ نے قتل کیا اور بد نام زمانہ کراچی تنظیمی کمیٹی کے رہنما حماد صدیقی کے حکم پر قتل کیا گیا ، حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل کے ماسٹر مائنڈ و سہولت کار سمیت پورے اسکواڈ کو گرفتار کیا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں صرف ڈاکٹر پرویز محمود ہی نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے کئی کارکنان اور ذمہ داران بھی ایم کیو ایم کی دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں ان تمام کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور شہداء کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سی ٹی ڈی پولیس نے حالیہ کارروائی میں متحدہ کے ٹارگٹ کلر بابر علی عرف موٹا کو گرفتار کیا ہے جبکہ اس سے قبل پولیس کے مطابق اسی دہرے قتل میں ملوث ایک اور ٹارگٹ کلر مسعود علی عرف کالا 30نومبر 2018کو گرفتار کیا جا چکا ہے جسے عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور عدالت نے ٹارگٹ کلر بابر علی عرف موٹا سمیت دیگر کو مفرور قرار دے کر نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے ۔ اب بابر بھی گرفتار ہو چکا ہے اور دونوں ٹارگٹ کلرز نے نہ صرف ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل کا اعتراف کیا ہے بلکہ یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ یہ قتل حماد صدیقی کے حکم پر کیا گیا تھا ۔ دونوں نے ٹارگٹ کلرز اسکواڈ میں شامل دیگر دہشت گردوں کے نام بھی بتائے ہیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی عرصہ دراز تک بھتہ خوری ، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے بدترین حالات کا شکا ر رہا ہے اور سرکاری و سیاسی سر پرستی میں عام شہریوں ، سیاسی مخالفین ، دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں و کارکنوں ، علماء کرام اور مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا ۔ ماضی کے ان حالات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر خواہ ان کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو اور وہ کتنے ہی با اثر کیوں نہ ہوں ان کے خلاف بلا امتیار کارروائی کی جائے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس