Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کراچی میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر حسن اسکوائر پر عظیم الشان " یکجہتی کشمیر کانفرنس "


کراچی ؍05فروری 2019ء:جماعت اسلامی کراچی کے تحت یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر حسن اسکوائر پرہونے والی عظیم الشان ’’ یکجہتی کشمیر کانفرنس ‘‘ میں مرد وخواتین ، نوجوانوں ، بچوں ، بزرگوں ، ڈاکٹرز ، انجینئرز، طلبہ ، اساتذہ ، علماء کرام ، وکلاء صحافیوں اور مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا گیا۔ *کانفرنس میں بھارتی مظالم ، ریاستی جبر وتشدداور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے غم و غصے کا اظہار کیا گیا ۔*کانفرنس اتحاد امت اور قومی وحدت کی بھرپور مظہر ثابت ہوئی ۔*حسن اسکوائر پر مین یونیورسٹی روڈ پر قائم آہنی پل کے ساتھ ایک بڑا اسٹیج تیار کیا گیا تھا ۔ اسٹیج پر ایک بہت بڑا بل بورڈ لگایاگیاتھا جس میں ’’کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی اور کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ تحریر تھا جبکہ دائیں جانب عظیم حریت رہنما سید علی گیلانی اور بائیں جانب شہید مظفر وانی کی بڑی بڑی تصاویر موجود تھیں ۔ آہنی پل پر ایک بہت بڑا بینرز آویزاں کیا گیا تھا جس پر جلی حروف میں ’’کشمیریوں سے رشتہ کیا ، لاالہ الا اللہ ‘‘ تحریر تھا ۔*کانفرنس کا انعقاد مین یونیورسٹی روڈ پر کیا گیا اور سڑک کے ایک ٹریک پر خواتین کے لیے علیحدہ سے انتظام کیا گیا تھا جبکہ دوسرے ٹریک پر مردوں ، نوجوانوں ، بزرگوں اور دیگر شرکاء موجود تھے ۔*حسن اسکوائر سے لے کر نیپا چورنگی اور دوسری طرف پرانی سبزی منڈی تک قومی پرچم اور جماعت اسلامی کے جھنڈے لگائے گئے تھے ، جگہ جگہ کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور بھارت کی مذمت کے حوالے سے بینرز اور کتبے لگائے گئے تھے۔ سید علی گیلانی اور شہید برہان مظفر وانی کی تصاویر کے پوسٹرز اور کتبے بھی آویزاں تھے، جن پر کشمیر بنے گا پاکستان اور کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی تحریر تھا۔ *کانفرنس میں بڑے پیمانے پر ساؤنڈ سسٹم کا انتظام کیا گیا تھا، حسن اسکوائر کی چورنگی کے اطراف اور بیت المکرم مسجد تک بڑے بڑے اسپیکر لگائے گئے تھے ۔* کانفرنس کی کوریج کے لیے قومی و بین الاقوامی میڈیا موجود تھا جن میں انگریزی ، اردو اور سندھی اخبارات ، نیوز چینلز ، قومی و بین الاقوامی نیوز ایجنسیوں کے نمائندے ، کیمرہ مین ، فوٹو گرافر ، ڈی ایس این جی اور سینیئر صحافی شامل تھے۔*کانفرنس میں صحافیوں کے لیے ایک بڑی پریس گیلری بنائی گئی تھی جبکہ سوشل میڈیا کے لیے بھی ایک علیحدہ سے کیمپ موجود تھا۔*کانفرنس میں شریک خواتین سمیت ہزاروں شرکاء نے جہاں ایک طرف جوش و خروش کا مظاہرہ کیا وہیں انتہائی منظم ہونے کا بھی ثبوت دیا اور شرکاء 3گھنٹے سے زائد عرصے پر محیط کانفرنس میں پورے نظم و ضبط کے ساتھ شریک رہے اور پرجوش نعرے لگاتے رہے۔*کراچی میں مقیم کشمیری کمیونٹی نے بھی جماعت اسلامی کی کشمیر کانفرنس میں شرکت کی *کانفرنس میں اقلیتی برادری کے نمائندہ وفد نے خصوصی شرکت کی اور اہل کشمیر سے اظہار یکجہتی کیا۔*کانفرنس میں کشمیر بنے گا پاکستان ، کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی، جنگ رہے گی ، کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الا اللہ ، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے پرجوش نعروں سے گونجتی رہی ، کانفرنس میں جو نعرے لگائے گئے ان میں یہ نعرے بھی شامل تھے۔ نعر�ۂ تکبیر اللہ اکبر ‘ المدد المدد یا خدا یا خدا ‘ کشمیر بنے گا پاکستان ، بھارت کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ، کشمیر کی آزادی تک جنگ رہے گی ، جنگ رہے گی ، پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الااللہ، کشمیریوں کے رشتہ کیا ، لا الہ الااللہ، فلسطینوں سے رشتہ کیا لا الہ الااللہ‘ افغانیوں سے رشتہ کیا ، لا الہ الااللہ،بنگلہ دیش اور مصر سے رشتہ کیا ، لا الہ الااللہ، جو امریکہ کا یار ہے ، غدار ہے غدار ہے ۔*کانفرنس کا وقت 3بجے دن طے کیا گیا تھا تاہم شرکاء 3بجے سے قبل حسن اسکوائر پہنچنا شروع ہوگئے تھے ۔ شرکاء شہر بھر سے قافلوں ، جلوسوں اور ریلیوں کی شکل میں حسن اسکوائر پہنچے جن کی قیادت مقامی رہنماؤں اور ذمہ داروں نے کی، قافلوں کی آمد پر اسٹیج سے ان کے لیے خیر مقدمی کلمات ادا کیے جاتے رہے۔*شرکاء نے نماز عصر حسن اسکوائر مین یونیورسٹی روڈ پر ہی ادا کی، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے امامت کی۔*قاری منصور کی تلاوت کلام پاک و ترجمہ سے کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کے بعد منیر شیخ نے نعت رسول مقبول ؐ پیش کی ، کانفرنس میں سینیئر صحافی واجد انصاری نے بھی نعت پیش کی جبکہ نعیم الدین نعیم سمیت دیگر نے بھی کشمیر کی جدوجہد آزادی اور قربانیوں کے حوالے سے نظمیں اور ترانے پیش کیے ۔*سراج الحق نے کانفرنس کے اختتام پر دعا کرائی ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس