Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار دادبرائے اسلامی تہذیب ،قوانین ختم نبوت


مرکز ی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان کایہ اجلاس اس امر پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے مملکت خداداد پاکستان کے اندر اسلامی تہذیب وتمدن کے فروغ اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے راستے میں برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے نہ صرف سرد مہری اور عدم فعالیت کا مظاہر ہ کیاہے بلکہ بسااوقات یہ اس راستے میں عملاً شدید طور پر رکاوٹ بنی رہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کا مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کا نعرہ اگرچہ خوش آئند ہے۔ لیکن اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیاجاسکتا کہ صرف بات اور اعلان سے پاکستان مدینہ منورہ کی ریاست نبویؐ کی صورت اختیار نہیںکرسکتی ہے۔ جب تک کہ حکومت سنجیدگی کے ساتھ اس جانب پیش قدمی نہ کرے ۔ قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی ایک خاتون رکن اسمبلی کی جانب سے اسرائیل کے حق میں تقریر ، اسلام آباد میں اسرائیلی طیارے کے اترنے کی افواہ اور اسرائیلی شہریوں کو پاکستان میں آنے کی اجازت کی بات ایسے اُمور ہیں جن پر پاکستان کے عوام کو بجا طور پر انتہائی تشویش ہے۔ قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کے غیر مسلم ممبر کی طرف سے آئین میں ترمیم پیش کی گئی ۔ جس کی رو سے غیر مسلموں کے نام پرشراب کی کشیداور برآمد کے پرمٹ جاری کرنے کے سلسلے کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اور اس آئینی ترمیم کو قومی اسمبلی کے قواعد کے خلاف اکثریت کی بنیاد پر مسترد کیاگیا ہے اور اس میں دینی جماعتوں کے علاوہ ساری پارٹیاں شامل ہوئیںجو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

مر وجہ قوانین کو قرآن و سنت کے تابع بنانے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ لیکن برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے کونسل کے مسودات کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے پیش نہیں کیا جوآئین پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ یہ اجلاس موجودہ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ کونسل کی مسودات کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے پیش کرکے قانونی اور عدالتی نظام کو مکمل طور پر شریعت کے مطابق بنائے۔

ختم نبوت اور حرمت رسول ؐ ہمارا بنیادی عقیدہ ہے متحدہ ہندوستان میں انگریز کوہر جگہ مسلمانوں کی طرف سے توحیدورسالت کے عقیدے کی وجہ شدید مزاحمت کاسامنا رہاہے۔ جس کاحل انگریز نے ایک جھوٹے پیغمبر کی صورت میں نکالا اور قیام پاکستان کے بعد یہ طبقہ نظریہ پاکستان کے خلاف منظم طور پر میدان میں اترا اور اس کے افراد ہر شعبہ میں انتہائی اہم مناصب پر فائز ہوئے ۔ جس کے نتیجے میں اسلامی نظام زندگی کے قیام، اسلامی قوانین کے نفاذ وار اسلامی تہذیب کی ترویج میں شدید رکاوٹوں کا سامنا رہاہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے قومی اسمبلی پاکستان نے آئینی ترمیم کے ذریعے عقیدہ ختم نبوت کو ’’مسلمان‘‘ کی تعریف کاحصہ بنادیا۔

قیام پاکستان کے دوام اور اقوام عالم میںوقار مقا م کے لیے لازم ہے کہ پاکستان میں اسلامی تہذیب و تمدن کو رواج دیاجائے۔ پوری نظام زندگی میں شریعت کی خلاف ورزی سے مکمل اجتناب کیاجائے۔ مروجہ قوانین میں قرآن و سنت کے مطابق بنائے اور قرآن و سنت سے منافی کوئی بھی قانون منظور نہ کیا جائے، جو آئین کا بنیادی تقاضا ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس